کیا ہم واقعی غریب ہیں ؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بجٹ کے حوالے سے دلچسپ تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔ راجہ وسیم عباس کے قلم سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سلطان نیوز پر

0
28

کیا ہم واقعی غریب ہیں ؟؟
ایک چھوٹی سی تحریر بجٹ کے حوالے میں کل سے سوشل میڈیا پر دیکھ رہا ہوں لوگ کہہ رہے ہیں ۔
ہائے اتنی مہنگائی اتنا مہنگا بجٹ ہم تو مر گئے بھائی یہ قوم مر جائیگی ۔۔
ارے میرے بھائی
یہ قوم کبھی بھی نہیں مر سکتی جو ایک طرف تو مہنگائی کا رونا روتی ہے تو دوسری طرف عید کے دنوں سے ہٹ کر بازاروں میں پاوں رکھنے کی جگہ ہی نہیں ۔۔
وہ قوم بھلا کیسے غریب ہوسکتی ہے جس قوم نے عید کے دنوں میں محض چند دنوں میں کوئی 395 ارب روپے نئے نوٹ خریدے ہوں ۔۔
وہ قوم کیسے غریب ہوسکتی ہے جس نے ماہ رمضان میں فالسہ 480 روپے kg
لیمن ۔450 kg. آم 250 kg خربوزہ 100 kg گرما 200 kg لوکاٹھ 250 kg
وغیرہ لیکر کھائی ہوں میں بھلا کیسے غریب سمجھوں انکو ۔
اب انہی اشیاء کے مارکیٹ میں ریٹس چیک کر لیں کہ کتنے ڈاون ہیں صرف ایک کی مثال دونگا
فالسہ کل میں نے 80 روپے kg خریدا اور خربوزہ 100 کا 3 kg ہے
کیا مجبوری ہے ایک ۔ماہ نہ کھائیں یہ چیزیں نہ کریں خریداری ۔۔
یہ سب ڈرامہ ہے ایک دوسرے کو دکھانے کی لئے۔۔

میں ان کو غریب لاچار تب سمجھتا جب یہ لوگ سڑکوں پر نکلیں گے اور مہنگائی اور حکومت کے مظالم کے مظالم کے خلاف بر سر پیکار ہونگے احتجاج کریں گے ۔
جس طرح ترکی کی عوام نے کیا ۔۔لیکن ہم صرف باتیں کرتے ہیں ایک دوسرے کو دکھانے کے لئے کہ میں اتنا غریب ہوں یا صرف پارٹی بازی سیاست اور کچھ نہیں ۔

اب ہر گھر میں میرے سمیت جتنے فرد ہیں اس سے ڈبل موبائل فون ہیں کیونکہ ایک فرد کے پاس ایک ٹچ ہوگا اور دوسرا چھوٹا موبائل کی پیڈ والا ہوگا ۔انکا ڈیلی کا لوڈ نیٹ پیکج ہر بندہ ایوری ٹائم آن لائن ہے بمعہ میرے کیا یہی غربت ہے
کیا ہم غریب ہیں نہیں میرے بھائی ۔۔یہ سب ڈرامہ ہے
اب آپ آئیں ہوٹلز کی طرف ریسٹورنٹ کی طرف فاسٹ فوڈ والی شاپ کی طرف تو مغرب کے بعد دکاندار کہتا ہے سب ختم ہوگیا ہے کیا یہ جنات یا کوئی ہوائی مخلوق کھا رہی ہے پیزا چکن مٹن سب کون خرید رہا ہے ۔۔
اب آپ آئیں گاڑیوں کی طرف ہر گھر میں کم از کم 2 سے 3 موٹر سائیکل ہیں اور نئے ماڈل اب تو پرانا دیکھنے کو بھی نہیں ملتا بلکہ اب تو اکثر گھروں میں تو کاریں بھی ہیں بیشک موٹر وہیکل کی سالانہ خرید دیکھ لیں کہ کتنی خرید بڑھ رہی ہے لیکن ہم پھر بھی غریب ہیں ۔

میرے بھائی ہم غریب نہیں بے حس قوم بن چکے ہیں جو اپنا حق بھی نہیں لے سکتے اتنے بے حس اور لاچار ہوچکے ہیں ۔۔
میرے محترم پاکستانیوں اب ہمیں خود کو جاگنا ہوگا خود کو نکلنا ہوگا اب کوئی علامہ اقبال رح نے تو آنا جس نے ہمیں جگانا ہے ۔
اگر ہم سب واقعی غریب ہیں اور اس معاملے میں سیریس ہیں تو ایک مظبوط اور مربوط تحریک یا احتجاج کرنا ہوگا تاکہ حکومت وقت کو پتہ ہو کہ عوام جاگ رہی ہے۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی ۔
نہ ہو جس قوم کو خیال اپنی حالت بدلنے کا۔
والسلام ۔۔
تحریر راجہ وسیم عباس سٹاف رپورٹر سلطان نیوز