میاں نواز شریف کی سیاست تاریخ کی روشنی میں ۔ اور طرز حکمرانی حقائق کی روشنی میں کالم نگار معروف قانون دان چوہدری محمد مختار جٹ ایڈووکیٹ

0
202

میاں نواز شریف کی سیاست تاریخ کی روشنی میں ۔ اور طرز حکمرانی حقائق کی روشنی میں

کالم نگار معروف قانون دان چوہدری محمد مختار جٹ ایڈووکیٹ گڑھ مہاراجہ جھنگ
////////////////////////////////////////

میاں صاحب کا خاندان مشرقی پنجاب کے ضلع امر تسر کے قصبہ جاتی عمرہ سے کاروبار کی غرض سے لاھور آئے ۔انکے والداور اس کے بھائیوں نے اتفاق فونڈری کی بنیاد رکھی۔ جو تقریبا 7 سو کنال پر محیط تھی۔ یہی آہستہ آہستہ سٹیل فیکٹری بن گئی۔ میاں صاحب 25 دسمبر 1949ء لاھور میں پیدا ھوئے ۔ سینٹ انتھونی سکول سے میٹرک کیا۔ گورنمنٹ کالج لاھور سے گریجوایشن کی یونیورسٹی لاء کا لج سے لاء کی ڈگری حاصل کی ۔ پھر خاندانی کاروبار میں شامل ھوگئے۔ 1970ء کے عشرے میں سیاست میں آئے ائرمارشل اصغر خان کی پارٹی میں شمولیت کرلی 1977ء میں ملک میں مارشل لاء لگ گیا ضیاالحق کی حکومت آ گئی لیفٹینٹ جنرل غلام جیلانی گورنر پنجاب کی نظر کرم ھوئی پنجاب کے وزیر خزانہ بن گئے تحریک استقلال کو خیرباد کہہ دیا۔ انہیں کھیلوں کی وزارت کا اضافی چارج بھی مل گیا۔ اس طرح 4 سال وزیر رھے۔ اس عرصہ میں فوجی حکمرانوں کی بہت زیادہ قربت حاصل کر لی اور میڈیا کا سہارا لے کر خوب شہرت حاصل کی اس وقت صرف ایک چینل P T V ھوا کرتا تھا وہ بھی سرکاری تھا پرنٹ میڈیاکی بڑی اھمیت تھی ۔
پرنٹ میڈیا میں لفافوں کا رواج سیاست میں میاں صاحب کی دین ھے میاں صاحب نے لفافہ سیاست کے ذریعے پرنٹ میڈیا میں لیڈر کا روپ دھار لیا ۔ بغیر کسی سیاسی نظریہ۔ اور بغیر کسی جدو جہد کے میڈیا۔ دولت۔ اورفوجی حکمرانوں کی چھتری تلے پنجاب کے سیاست دان بن گئے ۔ 1985ء میں جب فوجی آمر جنرل ضیاء نےاپنے ھم خیال فوجی جنرلوں کی مشاورت سے نام نہاد جمہوریت کا ڈھونگ رچایا اور غیر جماعتی الیکشن کروائے تو گورنر جیلانی کی مہربانی سے نواز شریف قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبر بن گئے۔ گورنر غلام جیلانی کی مہربانی سے وزیر اعلی پنجاب بن گئے ۔ اس وقت تک میاں صاحب کوئی مسلم لیگی نہ تھے ۔ یہ صاحب غیر جماعتی ۔ غیر نظریاتی ۔ غیر جمہوری تھے ۔ صرف اور صرف فوجی اقتدار کا حصہ تھے ۔ مرکز میں پیر صاحب پگارہ کے مرید خاص محمد خان جو نیجو وزیر اعظم تھے۔ ایک ایسا وقت آیا فوجی آمر کو اسمبلی میں خود ساختہ اپوزیشن بنانے کی ضرورت پڑ گئ اور سیاسی جماعت بنانے کی ضرورت پڑ گئی تو فوجی آمر نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اپنے قابل اعتماد اور نمک خوار لوگوں کو اکٹھا کر کے ایک جماعت کھڑی کر دی جس کو مسلم لیگ کا نام دیا گیا میاں صاحب کو پنجاب مسلم لیگ کا صدر بنا دیا گیا اس طرح میاں صاحب پکے مسلم لیگی بن گئے 9 اپریل 1985ء کو میاں صاحب وزیر اعلی پنجاب بنے تھے۔ جو سب فوجی آمر کی نظر کرم تھی ان کا ذاتی کوئی کمال نہ تھا ۔
جب میاں صاحبوزیر اعلی پنجاب ھوئے تو انہوں نے وزارت اعظمی کو اپنی منزل بنا لیا حکومتی خزانہ سے اپنے صوابدیدی فنڈ کا بے دریغ استعمال کیا۔ صحافیوں کے قلم کو خریدا ۔ اور پنجاب میں اپنا اثرو رسوخ پیدا کرنے کے لیئے سرکاری خزانہ لٹوایا۔ ان کی تفصیل سرکاری فائلوں میں موجود ھے اس وقت ان رقومات کی خبریں اخبارات و رسائل میں چھپتی رھی ھیں ۔ اگر کسی صاحب کو تسلی درکار ھو مارکیٹ میں ایک کتاب ( وطن فروشوں کی داستان) مصنف کنور انتظار محمد خان ) جو کہکشاں پبلشر نیو گلگت کالونی ملتان)
سے مارچ 2018ء میں شائع ھوئی ھے اس کے عنوان انداز
حکمرانی ( حصہ دوم) صفحات 149 تا163 پڑھ لے تسلی ھو جائے گی۔ نواز شریف نے جب وزیر اعلی بن کر وزیر اعظم بننے کے لیئے سوچنا شروع کیا۔ تو اس کے خاندان نے مکمل ساتھ دیا اس کے والد۔ چچا۔ بھائیوں ۔ اور دیگر رشتہ داروں نے سب سے پہلے اپنے معاشی حالات بہتر کرنے کا سوچا۔ تو جنرل ضیاءالحق نےان کی فیکٹریوں اور کاروبار
کو اس خاندان کو واپس کر دیا جو بھٹو دور میں سرکاری تحویل میں لیا گیا تھا نواز شریف نے اپنے منصب وزیر خزانہ 25 اپریل تا 28 فروری 1985ء وزارت اعلی پنجاب 9 اپریل 1985ء تا 30 مئی 1988ء عبوری وزیر اعلی 31 مئی 1988ء تا 2 ستمبر1988ء کو اپنے خاندان کے کاروبار کی ترقی کے لئے استعمال کیا ۔ تھوڑا ھی عرصہ میں ان کا خاندان اتفاق فونڈریز سے اتفاق ٹیکسٹائل نواز۔ شہباز اٹرائز۔ جاوید پرویز انٹر پرائز اتفاق برادز۔ وقاص حمید اور خالد سراج انڈ سیریز ( پرائیویٹ) لمیٹڈ کا مالک بن گیا۔ انہوں نے بڑی تیزی سے نئے یونٹ لگائے۔ 1982ء میں اتفاق شوگر ملز۔ 1983ء میں برادرز سٹیل۔ 1986ء میں برادرز ٹیکسٹائل ملز۔ 1987ء میں اتفاق ٹیکسٹائل ملز ۔ 1988ء میں خالد سراج ٹیکسٹائل ملز۔ اس خاندان نے لگائے۔ 3اگست 1989ء کو میاں شہباز صاحب نے پریس کانفرنس کرتے ھوئے اتفاق گروپ کے اثا ثے 3 ارب 60 کروڑ بتائے جبکہ یہ اثاثے 6 ارب مالیت کے تھے ۔ میاں صاحبان نے صنعت سازی میں ترقی کے لئے ھر جائز ناجائز ذرائع استعمال کئے ۔ انہنوں نے ھر متعلقہ محکمہ بشمول کسٹم۔ سنٹرل ایکسائز۔ واپڈا۔ انکم ٹیکس۔ صوبائی ایکسائز ۔پولیس۔ ایف۔ آئی۔ اے۔ سے بھرپور تعاون کیا اور فائدہ اٹھایا۔ ھر محکمہ میں اپنے بندے بھرتی کئے جو شریف خاندان کے مفاد کے لئے کام کرتے تھے اور اب تک کر رھئے ھیں اس طرح سارے محکمے ملک پاکستان کی بجائے شریف خاندان کے ذاتی ملازم بن کر رہ گئے تمام ملکی محکمے تباہ ھوگئے ۔ ضیاءالحق کی حکومت نواز شریف پر بہت مہربان تھی تمام انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اہلکار اس کے دسترخوان سے پوری طرح مستفید ھوتے تھے ۔ فوجی حکومت کی حمائت کے لیئے اراکین اسمبلی کو فنڈ میاں صاحب کے ذریعے تقسیم ھوتے تھے 1990ء میں فوج کی مدد سے میاں نواز شریف وزیر اعظم بن گئے۔ تو کراچی میں M. q. M کو کھلی چھٹی دی گئی میاں صاحب کے غلط طرز حکمرانی کے نتیجہ کراچی کا امن تباہ ھوا۔ میاں صاحب کامزاج سیاسی نہ تھا بلکہ تاجرانہ تھا۔ تاجر کو اپنے مال کی فروخت سے غرض ھوتی ھے خواہ گاہک کسی مذھب و نسل سے ھو جبکہ سیاست دان اپنے ملک اور قوم کی سوچتا ھے۔ اور آنے والے وقت پر اس کی نظر ھوتی ھے ۔ قائداعظم ایک سیاست دان تھے انہیں یقین تھا ھندو مسلمانوں کا دشمن ھے اگر پاکستان نہ بنا مسلمان انگریز کی بجائے ھندو کے غلام ھو جائیں گے۔ اس اصول کی روشنی میں نواز شریف نے پاکستان کی بنیادی پالیسی کے خلاف اپنی صنعتوں اور کاروبار کا دائرہ بھارت تک بڑھانے کے لئے اپنے منصب کو استعمال کیا بھارت میں سرمایہ کاری کی بھارت سے ذاتی تجارتی تعلقات بڑھائے۔ بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دیا۔ بھارتی وزراء اعظم کو گھر پر نجی دعوتیں دیں بھارت سے فروٹ۔ سبزیاں ۔ تک منگوانی شروع کر دیں اس طرع مقامی کسان تباہ ھو گیا دشمن کو دوست سمجھ کر نظریہ پاکستان ۔ تحریک پاکستان کے شہیدوں کی ارواح کو تکلیف پہنچائی ملک کو مقروض کیا اپنے اثاثے بڑھائے ملکی معیشت ان ھی کی وجہ سے بحران کا شکار ھے خدا ھی خیر کرے گا۔

پوسٹ پر رائے دینے سے قبل تاریخی حقائق کو ضرور دیکھ لیجیئے گا۔ اور ایمانداری سے ملک وقوم کے بارے سوچیئے گا اگر خدا آپ پر حقیقت آشکار کر دے تو ذھن سے آوئے ای آوئے میاں آوے کا بھوت دماغ سے نکال دینا
آئنیدہ انشاءاللہ بھٹو خاندان کی سیاست اور طرز حکمرانی کے بارے تحریر ھوگی شکریہ