انصاف سے خوفزدہ قوم پوائنٹ ٹو پوائنٹ کالم نگار انجینئر وسیم اقبال میو

0
95

انصاف سے خوفزدہ قوم
پوائنٹ ٹو پوائنٹ

کالم نگار انجینئر وسیم اقبال میو

———————– ————–

04 اپریل 2019 کو ایک خبراخبارات کی زینت بنی کہ سپریم کورٹ نے ایک مرغی چور کی درخواست ضمانت مسترد کردی جبکہ مسروقہ مال بھی برآمد نہ ہوسکا جبکہ اگلے مرحلے میں چھٹی کے دن کے باوجود عالمگیر شہرت کے حامل چورکی ضمانت کی درخواست قبول ہوجاتی ہے۔۔70 سال سے چلتی ہوئ اس Horror مووی کا ایک ٹریلر اس وقت منظر عام پر آیا جب لاہور کے ایک پان فروش کو رمضان ایکٹ کے تحت 2013 میں پانچ دن کی سزا ہوئ اور پھر یہ پانچ دن مئ 2019 میں پورے ہوئے جب معزز جج نے معذرت کے ساتھ انہیں رہائ کا پروانہ تھمایا۔ میں چنیوٹ کی اس خاتون کو ملک کی خوش قسمت شہری قرار دوں گا جسے 400 روپے رشوت نہ دینے کی وجہ سے قتل کے مقدمے میں بیس سال بعدبری قراردیاگیا کیونکہ اس بیچاری کو شاید علم نہ ہو کہ یہ معزز قاضی بہاولپور کے دوبھائیوں کو پھانسی کے بعد باعزت بری فرماچکے ہیں۔جس وقت یہ 40 سیکنڈ کی کال پر اہلی اور نااہلی کا فیصلہ فرمارہے تھے،ہمارا منصف اعلیٰ اپنی آنکھوں سے شراب کو شہد میں تبدیل ہوتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔جب قاتل انصاف کی درگاہ سے وکٹری کا نشان بنا کرنکل رہے تھے،اس وقت نہ انصاف کو خطرہ لاحق ہوا نہ ان کے عدل پر کوئ آنچ آئ نہ کسی نے ان کی جانبداری پر انگلی اٹھائ لیکن جب ایک معزز قاضی سے صرف یہ پوچھ لیا جائے کہ جناب دبئ میں آپ کے نام پر تین جائیدادیں ہیں تو انصاف کی روایت فٹافٹ خطرے میں پھنس جاتی ہے۔ انصاف اور اس کی جلد فراہمی معاشرے کےامن اور ترقی کی علامت ہے۔ناانصافی اور انصاف کی فراہمی میں سستی کسی باشعور قوم کے لئے قابل برداشت نہی ہوتی۔جب مجرموں کے لئے چھٹی والے دن بھی ریلیف مل جائے اور عام سائل کی کم از کم تین نسلیں انصاف کی تلاش میں جوتے گھسا کر گزرجائیں وہاں خونی انقلاب تو برپا ہوسکتا ہے لیکن امن اور تعلیم کا نہیں۔ تحریر #انجینئروسیم اقبال میئو (آپ کی رائے کا شدت سے منتظر)