میٹرصحافی (پیغام خیر ) کالم نگار زبیر احمد صدیقی

0
31

میٹرصحافی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(پیغام خیر )

کالم نگار زبیر احمد صدیقی

صحافت کی آڑ میں یو میٹر چلایا نہ جائے گا *
*ریاست کے چوتھے ستون کو یو گرایا نہ جائے گا*
مجھے آج اس موضوع پر کچھ لکھنے میں کوئی شرم یا جھجک محسوس نہیں ہورہی لیکن سچائی کو چھپانا بھی ظلم کے مترادف ہے میں نہایت صاف گوئی سے اس پر اپنے خیالات کا اظہار آپ لوگوں کے سامنے کردوں گا جیساکہ آپ جانتے ہیں پاکستان معرض وجود میں آ نے سے قبل صحافت واقعی ایک سچے مشن کا درجہ رکھتی تھی جب مولانا ظفر علی خاں ،مولانا محمد علی جوہر ،اور مولانا حسرت موہانی جیسے جید عالم و فاضل صحافیوں نے صحافت کو ایک مقدس مشن کا درجہ عطا فرمایا تھا انکے بعد بھی آنے والی صحافی بھی آسمان صحافت پر روشن ستاروں کی طرح جگمگاتے رہے جن کی صحافت واقعی ایک مشن کا درجہ رکھتی تھی ان میں جناب پاکستان حمید نظامی مرحوم ،آغا شورش کشمیری کے نام بہت اچھے سمجھے جاسکتے ہیں ہمارے چونڈہ شہر کے بابائے صحافت ایم آر محمد رفیع باجوہ ، چوہدری رفیق احمد باجوہ کا ایک نام ہے لہذا بات ہورہی تھی صحافت کی تو صحافت ایک مقدس پیشہ ہے ریاست کا چوتھا ستون ہے صحافی معاشرے کی آنکھ کان ہوتے ہیں جب آنکھ خراب ہوجائے کان سماعت کرنا چھوڑ دیں تو پھر علاج معالجہ کی لیے آئی سپیشلیسٹ ڈاکٹر سے کان کا اچھے سپیشلسٹ ڈاکٹر سے رجوع کیاجاناچاہیے اگر بروقت اس کا ٹریٹمنٹ نہ کیاگیا تو صحافی بھولے پن اندھےپن کا شکارہوجائیں گے معاشرے کی مہلک بیماریوں مسائل کی نشاندہی صیح نہیں کرپائے گے صحافیوں میں کم ایسی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں جو حقیقت میں معاشرے کی کان اور آنکھ بن کرسچائی سربلندی مظلوم کی داد رسی ظلم اور نا انصافی کے خلاف برسرپیکار رہتے ہیں قلم کی طاقت سے مسائل کی نشاندہی کرواتے ہیں اپنے قلم کو بیچتے نہیں بلیک میلنگ میٹر چلا کر صحافت جیسے مقدس پیشہ کو بدنام نہیں کرتے ہیں وہی صحافی معاشرے کی آنکھ کان ہوتے ہیں جعلی بلیک میلر صحافی بھولے پن اندھے پن کاشکارہوکراپنا میٹر چلاتے رہتے ہیں جب تک گریڈ اسٹیشن سے فیڈر بند ہونے کی اطلاعات موصول نہ ہوجائیں یہ نہیں کہ صحافت کو ایک کاروبار نہیں ہونا چاہیے لہذا صحافت سے وابسطہ ہر فرد کو اپنا پیٹ بھرنے کے لیے روٹی کی بھی ضرورت ہوتی ہے صحافت کو کاروبار ہونا چاہیے لیکن نوٹ چھاپنے والی ایک مشین ہرگز نہیں ہونا چاہیے جسے جھوٹ بے ایمانی اور ریاکاری کا تیل پلا پلاکراپنامیٹر چالورکھاجاتاہے اگر صحافت کو ایک سچ کے طور پر اختیار کیاجائے تو یہ کوئی ناکام ہرگز نہیں ہوگا میرا کہنے کا مقصد ہیں سچ بولنے والے دنیامیں بھوکے سوتے ہیں یا ان کا جینا اجیرن ہوچکا ہے بات صرف اتنی سی ہے کہ ہمارے اندر قرآنی حکم کے مطابق سچ بولنے سچ لکھنے کی طاقت اور ہمت ہونی چاہیے صحافت کو ایک مشن کا درجہ دینے کے لیے صحافیوں کے لیے ایک ضابطہ اخلاق اشد ضروری ہے جیساکہ ہمارے استاد محترم نہایت واجب التکریم شہداء کی سرزمین چونڈہ کے بابائے صحافت پریس کلب چونڈہ کے سرپرست اعلی رفیق احمد باجوہ بارہا کہ چکے ہیں ہر پریس کلب کے لیے ضابطہ اخلاق ہوتا ہے کچھ شرائط قواعد وضوابط ہوتے ہیں تمام صحافیوں پر اسکی پاسداری کرنا اس کے رولز کو فالوکرنا لازمی ہوتا ہے جب ایسا ہوگا تو پھر کوئی بھی قلم کی سیاہی سے سفید کو سیاہ اور سیاہ کو سفید کرنے کی کوشش نہیں کرے گا لہذا صحافت کے اس مقدس پیشہ سے ہزاروں افراد منسلک ہیں اس وقت ہمارے ملک میں ان گنت رسائل و جرائد اخبارات میگزین الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے عوام تک اپنی آواز پہنچاتے ہیں چند ہی افراد صحافت کو چوتھا ستون سمجھ کر ایک مقدس پیشہ کا درجہ دیتے ہوئے اس سے ایک مشن کا کام لیتے ہوں کچھ افراد نہ کسی اخبار سے وابسطہ ہیں بلکہ صرف فیس بک پر اسپیشلائزیشن کی آندھی تقلید میں ڈگری لیکر آپ نے آپ کو میٹر صحافی کے اعلی درجہ پر فائز تصور کرتے ہیں خدارا ہم سب ذی شعور فہم و فراست کے مالک افراد کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ صحافت کی آڑ میں لوگوں کو گمراہ مت کریں عوام کو سچ بتائیں جھوٹ بول بول کر عوام کو مت لوٹے بلکہ جھوٹ کا قلع قمع کریں اندھا بن کر بہرہ بن کر معاشرے سے ناجائز پیسے نہ بٹورے خدارا ریاست کے چوتھے ستون کو یو نہ گر اے۔۔۔۔(جاری )
صحافت کی آڑ میں یو میٹر چلایا نہ جائے گا ۔
۔۔ریاست کے چوتھے ستون کو یو گرایا نہ جائے گا