حقیقی صحافتی تقاضے اور سلطان نیوز کا طرز صحافت۔۔۔۔۔۔۔سلطان نیوز کے دوسالہ تکمیل صحافت پر دبنگ کالم۔۔۔۔ملک غلام مصطفیٰ کے قلم سے۔

0
69

حقیقی صحافتی تقاضے اور سلطان نیوز کا طرز صحافت۔۔۔۔۔۔۔سلطان نیوز کے دوسالہ تکمیل صحافت پر دبنگ کالم۔۔۔۔ملک غلام مصطفیٰ کے قلم سے۔

صحافت وہ ہے جسکے قلم کی قرآن نے “ن والقلم ومایسطرون ” کہہ کر قسم کھائی ہے اور اس سے تعلیم دینے کی بات کی ہےصحافت نہ کسی کو گالیاں دینے کا نام ہے اور نہ تعریفیں کرنے کا.نہ بدتمیزی کا نہ چمچہ گیری کا.نہ سوال کرتے وقت سوالی بننے کا . نہ سوال کو دست سوال بنانے کا. صحافت نام ہے توصرف محنت کااور مطالعے کا نہ کہ کام چوری کا اور جہالت کا..صحافت نام ہے سچ کو تسلیم کرنے کا نہ کہ اناپرستی ضد یا کسی اپنی بات پر اڑے رہنے کا..صحافت نام ہے تبصرے کا نہ کہ تجزیہ کا ..صحافت نہ کسی کے اشارے پر کسی کے خلاف مہم چلانے کا نام ہے نہ کسی کے ساتھ تعلقات کی بنیاد ہر کسی کی تعریفیں کرنے کا…صحافت نام ہے خودداری اور خودی کا..بلیک میلنگ اور بداخلاقی کا نہیں..صحافت نام ہے صحافت کا سیاست کا نہیں..اور نہ ہی اپنے سیاسی نظریات کے پرچار کا اور نہ ہی دوسرے سیاسی کے نظریات سے بے زاری کا..نہ ہی اتنی چمچہ گیری کا کہ عوام مسترد کر دیں اور نہ ہی اتنی بد تمیزی کا کہ قانون مسترد کردے…آخرے بات صحافت نام ہے دلیل دینے کا فیصلہ کرنے کا نہی..لیکن جو لوگ گھر سے یہ سوچ کر نکلتے ہیں کہ صحافت کی وجہ سے انکی جھنگ کے ڈی سی , ڈی پی او, اور ایم این ایز, ایم پی اے, ا اپنی اوقات کے مطابق اپنے علاقے کے مجسٹریٹ اور کسی افسر تھانیدار تک رسائی ہو جائے گی زرا سوچیں وہ کسطرح کی صحافت کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس بات کا اندازہ کرنا مشکل ہے معزرت کے ساتھ اس وقت ہماری ضلع جھنگ کی صحافت کے حالات ہی کم وبیش ایسے ہی ہیں..اگر ہمارے ضلع جھنگ کے حکمران, سیاستدان, وزیر مشیر, پروٹوکول کے مارے ہوئے ہیں تو ساتھ ہی ساتھ کچھ صحافیوں کوبھی اب یہ مرض لاحق ہوچکا ہے کہ انکی خواہش ہوتی ہیے کہ انک کے کیمرے یا انکی شکل دیکھ کر سیاستدان , آفیسر, یا کسی بھی تھانیدار کی گاڑی رک جائے اور انکے قلم کو دیکھ کر جھنگ کے تمام سیاستدانوں , وزیروں ,مشیروں اور افسران بالاکو فالج لاحق ہو جائے…جو ظاہر ہے ممکن نہی ہے اور ایسا نہ ہونے پر پھر یہی صحافت کے علمبردار سیاستدان , آفیسر,اور وزرا کے خلاف بیان بازی شروع کر دیتے ہیں…ان سب باتوں کودیکھتے اور غریب عوام کا اپنے دل میں درد لیے, جھنگ کے غریب عوام کی آہ و پکار بننے کیلیے,مظلوموں کے حقوق کےلیے جدوجہد کرنے کیلیے , گڑھ مہاراجہ کی ایک شخصیت شیخ امتیاز احمد رحمانی نے سلطان نیوز آن لائن کی بنیاد رکھی اوراس چیینل کے سی ای او کے طور پر چوہدری عبدالستار جٹ کو مقررکیا گیا..ملک عرفان حیدر اور محمد عمر فاروق کو انچارج نمائندگان اور نیوز ایڈیٹر مقرر کرتے ہوئے سلطان نیوز کی اس پوری ٹیم نے ایک دفعہ شروع سے ہی ضلع جھنگ کی صحافت کو ایک نیا رنگ دے دیا…اور پھر جھنگ کے سیاستدانوں ,حکمرانوں,اور وزیروں مشیروں نے دیکھا کہ سلطان نیوز نے جھنگ کی غریب ,مظلوم,اور مستحق اقوام کی تعمیر و تخریب میں جو کردار ادا کیا وہ کسی بھی سمجھدار انسان سے مخفی نہی ہے…ضلع جھنگ میں اور بھی بہت سارے آن لائن نیوز چینل ہونے کے باوجود سلطان نیوز نےجھنگ کے غریب ,مظلوم, اور شعبہ ہائے زندگی , سیاسی, معاشی, تہزیبی, اور اقتصادی زندگی پر مثبت اثرات مرتب کیےہیں..
بے شک صحافت ہر وقت ہر دور میں طاقتور اور بااثر متاثر کن حقیقت رہی ہے یہی وجہ ہے کہ سلطان نیوزکیوجہ سے ضلع جھنگ کے بڑے بڑے سماجی پیشوا, سیاسی رہنما, اور وزیروں مشیروں نے ہمیشہ اسکی بھرپور طاقت کے سامنے سر تسلیم خم کیا..ضلع جھنگ کے حقیقی اور جمہوری ارباب اختیار نے ہر طرح سے سلطان نیوز کی مثبت صحافت کا تنقید اور تجاویز کی صورت میں خیر مقدم کیا ہے اور سلطان نیوز نے اپنے مشن کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام میں سیاسی, سماجی شعور کو پیدکرنا, صحت مند زہین اور نیک رحجانات کا پروان چڑھانا, صالح معاشرے کی تشکیل کرنا, حریت اور آزادی کے جزبے کو فروغ دینا, جذبہ ہمدردی ,رواداری, اور الفت و محبت کو فروغ دینا, عوامی مشکلات وسائل کی آئینہ داری کرنا سلطان نیوز کے بنیادی فرائض میں شامل رہا ہے..عوامی مسائل اورجزبات کو اجاگر کرنا اورانکی جانب ارباب حکومت کی توجہ مبزول کروانابھی سلطان نیوز کی آزاد صحافت ہونے کا طرۂ امتیاز رہا ہے سلطان نیوز کی ٹیم سے پوچھا جائے تو انکا کہنا ہے کہ ہم صحافت کے بازار میں سودائے نفع کیلیے نہی آئے بلکہ تلاش زیاں و نقصان کیلیے آئے ہیں ہم صلہ و تحسین نہی بلکہ نفرت و دشنام کے طلبار گار ہیں عیش کے پھول نہی بلکہ خلیش و اضطراب کے کانٹے ڈھونڈتے ہیں..ہمارے عقیدے میں تو جو اخبار اپنی قیمت کے سوا کسی انسان یا جماعت سے کوئی رقم لینا جائز سمجھتا یے وہ اخبار نہی بلکہ انکے فن کیلیے بھی ایک دھبہ ہیے..ہم کالم نگاروں کی حیثیت اس معاشرے میں بہت ہی بلندی کی سطح پر سمجھتے ہیں اور ان کالم نگاروں کی جماعت کو امربالمعروف نہی عن المنکر کی جماعت سمجھتے ہیں پس کالم نگار کے ہر قلم کے ایک ایک لفظ کودباؤ سے آزاد ہوناچاہیے ..سلطان نیوز کی صحافت ایک محض پیشہ وارانہ, یا زریعہ معاش نہی رہی بلکہ ارباب صحافت کی طرح بہت سی معاشی, مزہبی, اور سماجی زمہ داریاں بھی عائد رہی ہیں.. سلطان نیوز کی زمہ داری کو دیکھا جائے تو اسکی اہم زمہ داری میں رہا ہے کہ غلطی سے پاک اور ایمان داری کی خبر کا فل فور بیک اپ دینا اور نشر کرنا..اس سال سلطان نیوز کی صحافت کے 18 مئی 2019 کو دوسال مکمل ہوگئے ہیں اس دوسال کی صحافت کی مسافت میں ایسے لمحات و واقعات بھی آیے جہاں سچ بولنااورلکھنا خطرے سے خالی نہی تھا اور ارباب اختیار کا ناراض ہونا بھی ممکن تھا ..لیکن سلطان نیوز کی پوری ٹیم نے ہر وقت ہر ارباب اختیار کے سامنے حق و صداقت کا علم بلند رکھا..یقیناً سلطان نیوز نے ضلع جھنگ کی غریب,مظلوم, اور پسماندگی کی اپنے قلم سے سچائیوں کے ساتھ تصویر کشی کی اور ضلع جھنگ کے معاشرتی بگاڑ , فساد کے خلاف اپنے قلم کی صلاحیتوں کو استعمال کیا..دوسال مکمل ہونے پر سلطان نیوز نے ضلع جھنگ کیلیے اور اسکی غریب عوام کیلیے ایک قیمتی سرمایہ کے طور پر اپنے آپ کو ایک چینل کی حیثیت سے منوایا.مفادات سے پاک ایک توانا صحافت اور آزاد لب و لہجہ ہی سلطان نیوز کی دن رات ترقی اور کامیابی کا ضامن رہا ہے..سلطان نیوز کا بے غرضی اور خوداری ہی اس بات کا ثبوت دیتی ہے کہ اس چینل پر کالم نگار کے قلم سے لکھا گیا ہر ہر لفظ اثر رکھتا ہے سلطان نیوز میں دیانت دار, اور ایماندار , اپنےاپنے شعبہ سے وابستہ انصاف اور غریبوں کی آواز بننے والے صحافیوں کی ہرگز کمی نہی ہے..لیکن اس کے ساتھ ساتھ ضلع جھنگ میں کچھ اور ہی آن لائن چینل بھی کام کر رہیے ہیں اور وہ سرا سر صحافت کے اصولوں سے انحراف کیے ہوئے ہیں.صحافی مجموعی طور پر غیر جانبدار ہوتا ہے لیکن وہ لوگ کچھ چینلز کے زریعے غیر جانبداری کی دھجیاں اڑا رہیے ہیں مختلف سیاسی حکمرانوں ,وزیروں, مشیروں, کی وکالت کرتے نظر آتے ہیں جنکے مفادات مختلف سیاسی جماعتوں , حکمرانوں اور سرکاری افسران بالا کے ساتھ وابستہ ہیں.. حق بات کرنے کی بجائے بے جا الزامات لگا دینا اور اپنی جماعت کے تمام تر عیوب کو چھپا دینا ان صحافیوں کا وطیرہ رہا ہے..ضلع جھنگ کے سب صحافیوں اور نیوز چینلز کو چاہیے کہ وہ اپنے صحافی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے خدارا سلطان نیوز کے مشن کو دیکھتے ہوئے اپنے اندر بھی غریب ,مظلوم, اور مستحق افراد کی آواز بننے کیلیے حتی الوسع کوشش کریں اور مظلوم لوگوں کے حقیقی ترجمان بنیں……