اصلی مگر سچی عید۔۔۔کیسے۔۔۔یہ جانئیے۔۔۔۔سلطان نیوز پر۔۔۔انتخاب۔۔۔امتیاز شیخ

0
76

اصلی مگر سچی عید۔۔۔کیسے۔۔۔یہ جانئیے۔۔۔۔سلطان نیو ز پر۔۔۔انتخاب۔۔۔امتیاز شیخ

نصف رمضان سے پہلے ہی عید کی خریداری اپنے عروج پر ھوتی ھے۔ خواتین روزانہ کی بنیاد پر اور بعض اوقات دن میں دو دو مرتبہ بازار جاتی ہیں۔ گھر کے بڑوں بچوں کی اپنی اپنی پسند اور خواہشات ھوتی ہیں کسی کو کپڑوں جوتوں کا ڈیزائن پسند نہیں کسی کو رنگ نہیں بھاتا اور کسی کو کپڑوں کا رنگ وغیرہ تو پسند آجاتا ھے مگر درزی سلائی میں سستی کرتا ھے تو رنگ میں بھنگ پڑ جاتی ھے۔ گزشتہ عید پر میں اپنے ایک دوست کے ہاں گیا۔ اللہ کا دیا سب کچھ ھے اس کے پاس گاڑی بنگلہ منافع بخش کاروبار سب کچھ ھے۔ ہم ڈرائنگ روم میں بیٹھے آئس کریم سے لطف اندوز ھو رھے تھے کہ میں نے محسوس کیا کہ میرا دوست شاید کسی زہنی ازیت میں مبتلا ھے اور مجھ سے کلام کرتے اس کا دھیان کسی اور طرف ھے۔ میں نے ہمت کرکے پوچھ ہی لیا۔ جوابا مجھے کہنے لگا آپ کے بڑے بھتیجے کے لیئے مہنگی ترین شاپنگ کی ھے مگر عید کے دن کپڑے وغیرہ پہن کر اس کے چہرے پر خوشی نہیں آئی اداس اداس سا ھے ۔ میں نے وجہ پوچھی تو بتانے لگا اس کے کلاس فیلو کا انکل بریڈفورڈ میں رہتا ھے اس نے اپنے بھتیجے کے لیئے وہاں سے شرٹس وغیرہ بھیجی ہیں اس نے دیکھیں تو اصرار کرنے لگا کہ مجھے بھی اسی کلر اور بناوٹ میں شرٹس چاہئیں اس کی ماں نے اوکاڑہ کی تمام مارکیٹس چھان ماریں ناکامی پر میں اس کو لے کر سپیشل لاھور گیا وہاں لبرٹی سمیت تمام بڑی ماکیٹوں کو دیکھا مگر اس کا مطلوبہ رنگ اور ڈیزائن دستیاب نہیں ھوا اس کو مہنگی ترین شرٹس خرید کر دی ہیں جن کو پہن کر اس کے چہرے پر رونق نہیں آئی ۔ حیدری صاحب بچوں کی خریداری پر اتنا پیسا صرف خوشی کی اس ایک جھلک کو دیکھنے کے لیئے تو خرچ کیا جاتا ھے جو نئے جوتے یا لباس پہن کو بچوں کے چہروں پر آتی ھے مگر اتنا روپیہ خرچ کرکے بھی بیٹے کے چہرے پر وہ خوشی کی جھلک نہیں آئی تو عید کا مزہ کرکرا ھوگیا ھے۔ میں نے کہا آئو میں تمہیں خوشی کی جھلک دیکھائوں ہم اس کے یخ بستہ ایئرکنڈیشن روم سے نکلے اور گلی کی نکر پر آگئے جہاں ایک گیارہ سالہ بچہ اپنے ماں باپ سے دور ایک ڈنڈے پر غبارے باندھے بیچنے میں مشغول تھا۔ اس کا دھیان اپنے غباروں سے زیادہ گلی میں کھیلتے نیلے پیلے لال گلابی بچوں کی طرف تھا وہ ان کو مسکراتا دیکھ کر مسکراتا اور پھر غباروں کی طرف دیکھتا کہ کتنے بچ گئے ہیں میں نے اس بچے سے جا کرپوچھابیٹا یہ سارے غبارے کتنے کے ہیں کہنے لگا دس روپے کا ایک ھے آپ گنتی کرلیں میں نے غبارے گننے شروع کیئے تو میرا دوست گویا میری اس حرکت سے اکتا سا گیا تھا میں نے گنتی مکمل کی تو پچھتر غبارے تھے جن کی ٹوٹل قیمت سات سو پچاس روپے بنتی تھی میں نے اپنے دوست سے کہا سات سو پچاس روپے نکالو میرا مذاق اڑانے کے سے انداز میں کہنے لگا مولوی صاحب کیا کرنے ہیں اتنے غبارے میں نے کہا تم نکالو سات سو پچاس اس نے ایک ہزار کا نوٹ مجھے تھما دیا میں نے بچے کو دیا اور کہا گلی میں جتنے بچے ہیں سب کو ایک ایک مفت میں دے دو ہزار کا نوٹ لے کر بچے کے چہرے پر خوشی رقص کرنے لگی اس نے اواز لگائی اور بچوں کو غبارے بانٹنے لگا بچے غبارے لیتے خوشی کی ایک لہر ان کے چہرے پر آتی اور وہ غبارہ پکڑ کر گویا ناچنے لگتے چند سیکنڈ میں گلی کے چوک میں ایک میلہ کا سا سماں تھا بچے ہاتھوں میں غبارے پکڑ کر خوشی میں ازخودرفتہ ھو کرناچ رھے تھے غبارے والا غبارے دے رھا تھا اور پل بھر میں یوں لگ رھا تھا جیسے اس چوک سے خوشیاں نکل کر پوری دنیا میں پھیل رہی ہیں اب میرا دوست میری اس حرکت کو انجوائے کررھا تھا اس کے چہرے سے اداسیاں رخصت ھو چکی تھیں وہ ڈنڈے سے غبارے توڑ توڑ کر اپنے ہاتھ سے بچوں کو دے رھا تھا ایک بچے نے غبارہ واپس کرتے ھوئے کہا مجھے ییلو نہیں بلیو والا چاھیئے میرے دوست نے ییلو واپس لیا اور بلیو غبارہ اس کو تھما دیا وہ بچہ اپنے مخصوص انداز میں گنگناتا ناچتا بھاگ گیا میں نے اس وقت اپنے دوست کے چہرے کو غور سے دیکھا تو اس کے چہرے پر انسو رواں تھے میں نے قریب ھو کر پوچھا کیا ھوا کہنے لگا خوشیاں اتنی سستی بھی خریدی جا سکتی ہیں صرف ایک ہزار میں اتنی خوشیاں اتنی مسکراہٹیں اتنی چہچہاہٹیں صرف اتنی کم قیمت میں اتنی کم قیمت میں۔ میں نے اس سے کہا کاش تم ان خوشیوں کا نظارہ بھی کرسکتے جو اس غبارے والے بچے کے وقت سے پہلے گھر جانے پر اس کی ماں کے چہرے پر رقصاں ھوں گی ۔ یار !کتنے حوصلے والی ھے وہ ماں جس نے اپنے اکلوتے یتیم بچے کو صبح کی روشنی نمودار ھونے سے پہلے غباروں میں ھوا بھر کر عید کے دن رخصت کیا ھوگا اور اب اس کی نظریں دہلیز پر ھوں گی یہ بچہ گھر جائے تو ماں بیٹے کی عید شروع ھوگی۔ ہم واپس ھونے لگے تو میرا دوست میرا شکرگزار تھا وہ خوشیاں جو ستر ہزار کی خریداری کے بعد اس کو دستیاب نہ ھو سکیں تھیں وہ صرف سات سو پچاس روپے میں اس نے خرید لیں تھیں۔
احباب آئو سستی خوشیاں خریدیں آس پاس دیکھیں کوئی سستی خوشیوں کا طلبگار آپ کو نظر آئے تو اسے خرید دینا کہ بعض اوقات مہنگے داموں بھی یہ دستیاب نہیں ھوتیں۔