پیسے والے کامیاب یا ناکام کالم نگار ۔۔ غلام مصطفی بھٹہ

0
144

پیسے والے کامیاب یا ناکام
کالم نگار ۔۔ غلام مصطفی بھٹہ

ہم میں سے ہر شخص کامیابی کے پیچھے بھاگ رہا ہے مگر بہت سے لوگوں کو علم ہی نہیں کہ کامیابی ہے کیا ۔

کیا بہت بڑے عہدے پر فائز ہو جانا کامیابی ہے کیا کوٹھی بنگلے خرید لینا کامیابی ہے کیا دولت و ثروت کی بہتات کامیابی کی علامت ہے ۔

کیا اعلیٰ عہدہ بہترین سٹیٹس یا وزیر مشیر بن جانا یا پھر بہت زیادہ مشہور ہو جانا کامیابی ہے ۔بظاہر ہماری دنیا دار انسان کی نظر میں یقینی طور پر اسے ہی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے پیسے کی ریل پیل عمدہ لباس بڑی گاڑی سے بہت سے لوگ متاثر ہوتے ہیں کچھ یہ سب دیکھ کر حسد میں مبتلا ہو جاتے ہیں تو کوئی ان کو حاصل کرنے کے لیے اپنی ایڑی چوڑی کا زور لگا رہا ہوتا ہے ۔جو بھوک اور غربت کی زندگی گزار رہا ہے اس کے نزدیک تو یہی کامیابی ہے کہ اگر وہ بھی ایسے خوش نصیب لوگوں میں شامل ہو جائے جن کو فکر معاش کی پریشانی نہیں یا وہ لوگ جن کو پیسے کی ہوس ہے جو اپنی زندگی کو رنگین بنانا چاہتے ہیں ان کے نزدیک بھی یہ کامیابی ہے عام طور پر ہم لوگوں کی پرکھ ان کی شان و شوکت دیکھ کر کرتے ہیں جس کے پاس جتنا پیسہ ہے وہ اتنا ہی بڑا ہے اور جس کے پاس جتنا کم پیسہ ہے وہ اتنا ہی چھوٹا اور سماج میں اسی کا طوطی بولتا ہے جو کثیر سرمایہ رکھتا ہو مطلب انسان کا اخلاق اس کا اچھا کردار اس کی حسن فراست اس کا تدبر اس کی ذہانت اس کی ملنساری اس کا خلوص صرف ایک فضول جذبہ ہے جس کی کوئی قدر و قیمت نہیں کاغذ کے ٹکڑوں پر انسانوں کی پہچان کرنے والے ہم کتنے نادان ہیں ہم کتنے بھولے ہیں اگر پیسہ ہی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تو امیر و کبیر دولت مند لوگ بھی پریشان حال نہ ہوتے وزیر مشیر اعلی عہدے پر فائز لوگ بھی انجانے ڈر و خوف میں مبتلا نہ ہوتے ۔پیسہ انسان کی ضرورت ہے پیسہ انسا ن کی معاشیات کو بہتر کرتا ہے مگر پیسہ سب کچھ نہیں پیسے سے آپ تندرستی و صحت نہیں خرید سکتے پیسے سے آپ سچے اور انمول رشتے نہیں خرید سکتے پیسے سے آپ اچھے مخلص دوست نہیں بنا سکتے ہاں مطلبی دوست ضرور بنا سکتے ہیں پیسے سے آپ اپنی زندگی سے مشقت سے بچنے کے لیے یا یوں کہ سکتے ہیں کہ پنکھے کی گرم ہوا کی بجائے ٹھندی ہو ا دینے والا ائیر کنڈیشنر خرید سکتے ہیں مگر یہ ٹھندی ہوا تو صرف انسان کی جسم کو ہی اطمینان بخشے گئی دل و دماغ میں جو زنگ لگے ہوئے ہیں اس کو آپ کا پیسہ نہیں کُھرچ سکتا دل میں بے چینی دماغ میں الجھنوں کے جالے پیسہ صاف نہیں کر سکتا ڈپریشن شوگر بلڈ پریشر اور اس جیسی ان گنت بیماریوں کو پیسہ ختم نہیں کر سکتا جن پیسوں کے لیے ہم اپنے خون کے رشتوں کے پیاسے بن جاتے ہیں ایک دن اسی پیسے کوچھوڈ کر خالی ہاتھ دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں ۔

پیسہ کامیابی کی ضمانت نہیں اور نہ ہی پیسے سے انسان کی عزت و قار ہے یہ سب تو ہمارے اپنے بنائے ہوئے مفروضے ہیں ہماری ناقص عقل کی احمقانہ اور نا عاقبت اندیش سوچ ہے ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہمارے آقا حضرت محمد ﷺ کی زندگی ہماری لیے کامل نمونہ ہے کبھی فرصت نکال کر رحمت العالمین پیارے نبی دنیا و آخرت کے سردار وجہ تخلیق کائنات کی زندگی کا مطالعہ کر کے تو دیکھیں آپ کی آنکھیں کھل جائیں گئی کہ کیسے کئی کئی دن آپﷺ کے گھر چولہا تک نہیں جلتا تھا مگر قربان جاؤں آپ ﷺ کی شان اقدس پر کہ آپ ﷺ نے تمام مصائب کتنے فراخدلی سے برداشت کر کہ ہمارے لیے ایک مثال ایک مشعل راہ چھوڈی اگر ہم اسی بات کو ہی اپنی عقل میں لے آئیں تو ہماری کافی ساری مسائل منٹوں میں حل ہو سکتے ہیں ۔مگرہم تو اپنی زبان پر ہزار ہزار شکوے لیے پھرتے ہیں خدا سے شکوے کرتے ہیں اپنے نصیب پر ماتم کرتے ہیں جبکہ حضرت علی ؓ کا فرمان ہے کہ خوش نصیب وہ ہے جو اپنے نصیب پر خوش ہے جب ہم رب کی رضا پر راضی ہو جائیں گئے تو باقی معاملات بھی آہستہ آہستہ ٹھیک ہوتے جائیں گئے بس ٹھوڑا سا تحمل تھوڑی سی برداشت اور صبر کی ضرورت ہے ۔

ہمیں لوگوں کے سٹیٹس سے متاثر ہونا چھوڈنا ہو گا کسی کے کار بنگلے کو دیکھ کر شارٹ کٹ طریقے سے دولت مندی کے خواب کو ختم کرنا ہوگا جس کے پاس نعمتوں کی فراوانی ہے تو یہ اﷲرب العزت کی عطا ہے جو رزق آپ کو ملنا ہے وہ آپ کھائے بغیر نہیں مر سکتے پھر کیوں یہ نہ ختم ہونے والی دوڑ میں ہم اپنی خوبصورت زندگی کو فضول میں ضائع کررہے ہیں ۔

ہاں میں یہ تسلیم کرتا ہوں اور مانتا ہوں کہ پیسہ بہت بڑی حقیقت ہے پیسے کی بغیر انسان کا اس دنیامیں جینا مشکل تر ہے انسان کا اپنے گھر کے نظام کو چلانے کے لیے پیسے کی ضرورت پڑتی ہے مگر یاد رکھیں اگر پیسہ بہت بڑی بیماری ہے تو یہ بہت بڑی بھلائی بھی ہے یہ تو آپ پر منحصر ہے کہ آپ اپنے پیسے کو کہاں کہاں خرچ کرتے ہیں اگر صدقہ خیرا ت کر رہے ہیں لوگوں کی بے لوث مدد کر رہے ہیں ریاکاری سے ہٹ کر غریبوں کے ہمنوا بن کر ان کی روزی روٹی کا بندوبست کر رہے ہیں غریب بچیوں کی شادیوں کا خرچ اُٹھا رہے ہیں یتیموں مسکینوں کا آسرا بن رہے ہیں تو یہی پیسہ خوش بختی ہے یہی پیسہ کامیابی کی ضمانت ہے یہی پیسہ آپ کے بے چین دل کا قرار ہے ۔

حقیقی کامیابی انسان کے دل سے اس کے قلب سے پھوٹتی ہے حقیقی کامیابی د ل و دماغ کے اطمینان میں پنہاں ہے۔کسی کا بہت زیادہ دولت مند ہو جانا یا کسی کو اعلٰی عہدہ مل جانا کسی قابلیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ یہ اﷲکریم کا ٖ فضل و کر م ہے جسے چاہے عطا کرے لہذا کامیابی کے پیچھے مت بھاگیں اپنے آپ کو ایسا اچھا انسان بنائیں کہ لوگ آپ کی طرز زندگی سے کامیابی کے اصول پرکھیں کامیابی بہت طویل مسافت پر نہیں بلکہ چند اچھے قدموں کے فاصلے پر ہے اور یہ فاصلہ طے کرنا مشکل نہیں بس خود میں انسانیت کی روح بیدار کرنے کی ضرورت ہے اگر یہ احساس کی روح بیدا ر نہ ہوئی تو پھر ہمیشہ کی ناکامی ہے ۔

تحریر: غلام مصطفی بھٹہ