مجھے بھول بھی جاؤ تو یہ حق ہے تم کو غزل شاعر منور اقبال تبسم

0
111

مجھے بھول بھی جاؤ تو یہ حق ہے تم کو

غزل شاعر منور اقبال تبسم

تم مجھے بھول بھی جاؤ تو یہ حق ہے تم کو
میری بات اور ہے میں نے تو محبت کی ہے

میرے دل کی میرے جذبات کی قیمت کیا ہے
الجھے الجھے سے خیالات کی قیمت کیا ہے

میں نے کیوں پیارکیا تم نے نہ کیوں پیار کیا
ان پریشان سوالات کی قیمت کیا ہے

زندگی صرف محبت نہیں کچھ اور بھی ہے
زلف و رخسار کی جنت نہیں کچھ اور بھی ہے

بھوک اور پیاس کی ماری ہوئی اس دنیا میں
عشق ہی ایک حقیقت نہیں کچھ اور بھی ہے

تم اگر آنکھ چراؤ تو یہ حق ہے تم کو
میری بات اور ہے میں نے تو محبت کی ہے

تم کو دنیا کے غم و درد سے فرصت نہ سہی
سب سے الفت سہی مجھ سے ہی محبت نہ سہی

میں تمہارا ہوں یہی میرے لیے کیا کم ہے
تم میرے ہو کے رہو یہ مری قسمت نہ سہی

اور بھی دل کو جلاؤ تو یہ حق ہے تم کو
میری بات اور ہے میں نے تو محبت کی ہے