مجھے بھول بھی جاؤ تو یہ حق ہے تم کو غزل شاعر منور اقبال تبسم

0
51

مجھے بھول بھی جاؤ تو یہ حق ہے تم کو

غزل شاعر منور اقبال تبسم

تم مجھے بھول بھی جاؤ تو یہ حق ہے تم کو
میری بات اور ہے میں نے تو محبت کی ہے

میرے دل کی میرے جذبات کی قیمت کیا ہے
الجھے الجھے سے خیالات کی قیمت کیا ہے

میں نے کیوں پیارکیا تم نے نہ کیوں پیار کیا
ان پریشان سوالات کی قیمت کیا ہے

زندگی صرف محبت نہیں کچھ اور بھی ہے
زلف و رخسار کی جنت نہیں کچھ اور بھی ہے

بھوک اور پیاس کی ماری ہوئی اس دنیا میں
عشق ہی ایک حقیقت نہیں کچھ اور بھی ہے

تم اگر آنکھ چراؤ تو یہ حق ہے تم کو
میری بات اور ہے میں نے تو محبت کی ہے

تم کو دنیا کے غم و درد سے فرصت نہ سہی
سب سے الفت سہی مجھ سے ہی محبت نہ سہی

میں تمہارا ہوں یہی میرے لیے کیا کم ہے
تم میرے ہو کے رہو یہ مری قسمت نہ سہی

اور بھی دل کو جلاؤ تو یہ حق ہے تم کو
میری بات اور ہے میں نے تو محبت کی ہے