جھنگ کے طرزسیاست نے اپنے مفادات کی تکمیل کیلیے عوامی سفری سہولت ریلوے چھین لی۔۔۔۔حقائق پر مبنی کالم۔۔۔۔سلطان نیوز پر۔۔۔۔۔مہر محمد یار کے قلم سے

0
60

جھنگ کے طرزسیاست نے اپنے مفادات کی تکمیل کیلیے عوامی سفری سہولت ریلوے چھین لی۔۔۔۔حقائق پر مبنی کالم۔۔۔۔سلطان نیوز پر۔۔۔۔۔مہر محمد یار کے قلم سے

جھنگ میں ریلوے تباہی کے دہانے پر کیسے پہنچی؟

پاکستان اور بھارت کو انگریز سے ایک ساتھ آزادی ملی۔ تقسیم کے بعد دونوں نوزائیدہ ممالک کو وراثت میں ریلوے لائنز اور ٹرینیں بھی ملیں۔ آزادی کے بعد بھارت میں ریلوے لائنز کو توسیع دی گئی اور ملک کے طول و عرض تک اس کا جال بچھایا گیا جبکہ اس کے برعکس پاکستان کے میں ریلوے لائنز کو توسیع کی بجائے تباہ کر دیا گیا۔جس کے بعد ملک بھر میں نجی ٹرانسپورٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور شہری بھی ریلوے کی بجائے پبلک ٹرانسپورٹ کو ترجیح دینے لگے۔جھنگ سے تعلق رکھنے والے سیاستدان سابق وفاقی وزیر شیخ وقاص اکرم بھی کاروباری شخصیت ہیں جن کا اہم کاروبار ٹرانسپورٹ ہے۔جھنگ میں ان کے دور حکومت اور اس سے پہلے بھی براستہ جھنگ کئی ٹرینیں بند ہوئیں۔گزشتہ 15 سال میں جھنگ پر ان کی حکومت رہی لیکن حالیہ انتخابات میں ان کو این اے 115 سے تحریکِ انصاف کی غلام بی بی بھروانہ کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ پی پی 126 سے ان کے بھائی شیخ شیراز اکرم کو مولانا معاویہ اعظم سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔انتخابات سےقبل سوشل میڈیا پر شیخ وقاص اکرم اور ان کی ٹرانسپورٹ کمپنی تنقید کی زد میں رہی اور مخالفین نے جھنگ میں ٹرین سروسز کی بندش کی ذمہ داری ان پر ڈالی۔حقیقت یہ ہے کہ انگریز حکومت نے بیسویں صدی کے آغاز میں راولپنڈی سے سرگودھا اور پھر شورکوٹ تک ریلوے ٹریک بچھایا تو جھنگ سے راولپنڈی، بہاولپور، سمہ سٹہ اور کراچی سمیت ملک کے دیگر حصوں تک سفر کے لیے ریلوے سروس چلنے لگی۔ماضی میں جھنگ سے چلنے والی ریل گاڑیوں میں راولپنڈی ایکسپریس، روہی ایکسپریس، چناب ایکسپریس، ساندل ایکسپریس اور ہزارہ ایکسپریس شامل تھیں۔اگر جھنگ سے شورکوٹ کینٹ تک کے ریلوے ٹریک کا جائزہ لیا جائے تو تحصیل شورکوٹ کے متعدد علاقے جہاں سے ریلوے لائن گزرتی ہے سیم و تھور سے متاثر ہونے کی وجہ سے انتہائی خستہ حال ہے۔ریلوے حکام کے مطابق یہاں سے کوئی بھی ٹرین 20 سے 25 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زیادہ نہیں گزر سکتی جس کی وجہ سے ماضی میں چلنے والی چناب ایکسپریس کا روٹ تبدیل کر دیا گیا اور اسے سرگودھا سے براستہ فیصل آباد اور ٹوبہ ٹیک سنگھ روانہ کیا جانے لگا۔دوسری طرف جھنگ سے شمال کی جانب شہر سے 14 کلو میٹر کے فاصلے پر 1904ء میں چنڈ بھروانہ کے قریب دریائے چناب کی گزر گاہ پر ریواز برج بنایا گیا جس کا شمار پاکستان کے قدیم ترین ریلوے پُلوں میں ہوتا ہے۔اس پل کو سات سال پہلے تک ریلوے اور عام ٹریفک کے لیے گزر گاہ کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا تاہم اب اس پر جگہ جگہ گڑھے پڑ چکے ہیں اور ٹرین کو اس پر سے 10 کلو میٹر فی گھنٹہ کی انتہائی سست رفتاری سے گزارا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود اس پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے اور ہر وقت گرنے کا خدشہ رہتا ہے۔جھنگ ریلوے اسٹیشن کو سب سے زیادہ نقصان 2009ء میں ہوا تھا جب لوڈشیڈنگ کے خلاف نکالے جانے والے ایک جلوس میں شامل مشتعل مظاہرین نے پلیٹ فارم پر کھڑی ساندل ایکسپریس کو نذر آتش کر دیا تھا۔اس دوران کمپیوٹر روم اور دیگر دفاتر کو بھی جلا دیا گیا جس کا الزام بھی شیخ وقاص اکرم اور ان کی ٹرانسپورٹ کمپنی پر عائد کیا جاتا ہے۔
2009ء میں مقامی لوگوں نے جھنگ اسٹیشن پر کھڑی ٹرین کو نذرِ آتش کر دیا تھا2009ء میں مقامی لوگوں نے جھنگ اسٹیشن پر کھڑی ٹرین کو نذرِ آتش کر دیا تھا
اگرچہ مقامی پولیس نے مختلف ٹی وی چینلز پر چلنے والی فوٹیجز کی مدد سے ٹرین جلانے کے واقعہ میں ملوث ایک سو چالیس افراد کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے متعدد افراد کو گرفتار بھی کر لیا تاہم اس کیس کا اب تک کچھ نہیں بنا۔ٹرین جلانے کے واقعے کے بعد سے جھنگ ریلوے اسٹیشن کی ویرانی میں اضافہ ہو گیا۔جھنگ ریلوے کی رہی سہی کسر 2014 ء کے سیلاب نے نکال دی جب جھنگ سے سرگودھا کی جانب چند پور کے قریب ریلوے ٹریک سیلابی پانی میں بہہ گیا اور جھنگ سے راولپنڈی کی جانب جانے والی ریلوے سروس کئی دن تک معطل رہی۔بعدازاں اگرچہ ریلوے لائن کی مرمت کر کے سروس بحال کر دی گئی لیکن اس کے باوجود جھنگ کے ریلوے اسٹیشن کی رونقیں بحال نہ ہو سکیں۔آج کل یہاں سے صرف دو ٹرینیں چل رہی ہیں جن میں ہزارہ ایکسپریس جو حویلیاں سے کراچی جاتی ہے جبکہ دوسری ٹرین سرگودھا اور خانیوال سیکشن کے درمیان سفر کے لیے موجود ہے جسے ساندل ایکسپریس کہا جاتا ہے۔جھنگ سے ٹرین سروس معطل ہونے کی وجوہات جو بھی تھیں اب جھنگ کے سیاستدانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسمبلی میں جھنگ میں بند ہونے والی ٹرین سروسز بحال کروانے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ شہریوں کو آسان اور بہتر سفری سہولیات میسر آ سکیں۔