نظم فریاد..منظوم کلام شاعر .ملک شفقت اللہ شفی

0
140

نظم فریاد…ملک شفقت اللہ شفی

اے خدا تجھ سے التجا ہے مری
تجھ سے شکوہ نہیں دعا ہے مری

چار سو مشکلوں نے گھیرا ہے
ذکر اس دل میں پھر بھی تیرا ہے
جام موجود ہیں پہ ساقی نہیں
کوئی رندوں میں اب کے باقی
نہیں

تیرا بندہ ہو حکمران کوئی
دل سے اٹھتی یہی صدا ہے مری

خون مسلم زمیں میں ارزاں ہے
کیوں مدد سے ہراک گریزاں ہے
پھر تو کوئی امام پیدا کر
مسلموں کا مقام پیدا کر

ہم ہیں رسوا ترے زمانے میں
رحم کر رحم التجا ہے مری

کوئی سنتا نہیں ہماری پکار
کررہے ہیں سبھی ہمارا شکار
بھیج دے پھر کوئی بشر یا رب
ہم بھی دیکھیں نئی سَحَر یا رب

ہاتھ باندھے ہیں بارگہ میں تری
تیرے ہاتھوں ہی میں بقا ہے مری

نا ملا کوئی راہنما کب سے
جس کو ڈھونڈے مری نظر تب سے
تو مسلماں کو پھر سے ہمت دے
اور دلوں میں نبی کی الفت دے

درگزر کا سوال ہے مولا
مِیں ترا ہوں یہی جزا ہے مری

غیر لیتے ہیں نِعمَتیں ہیں تری
ہم پہ برسی ہیں زَحمَتیں تیری
گولیوں کا ہمی نشانہ ہیں
نفرتوں کا ہمی ترانہ ہیں

یہ جہاں کاٹ کھائے جاتا ہے
کیا یہی رہ گئی سزا ہے مری

عیب دیکھوں نہ میں کسی کے بھی
صرف پرکھوں برائی خود میں ہی
مجھ کو ایسی نظر عطا کر دے
مجھ کو ایسا ہنر عطا کر دے
یہ شفی اب کبھی گنہ نہ کرے
اپنے دامن کو سرخوشی سے بھرے
سیدھا رستہ دکھا دعا ہے مری

اے خدا تجھ سے التجا ہے مری
تجھ سے شکوہ نہیں دعا ہے مری
اے خدا تجھ سے التجا ہے مری
ملک شفقت اللہ شفی