عثمان بزدار عوامی فاصلہ اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے پروفیسر رچرڈ باکس کالم نگار علی امجد چوہدری

0
59

عثمان بزدار عوامی فاصلہ اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے پروفیسر رچرڈ باکس

کالم نگار علی امجد چوہدری

آپ کو اپنے لیول سے کم پر آنا پڑتا ہے آپ کو mentallyطور اپنے آپ کو اپنے آپ کو عمر میں کہیں بڑھانا تو کہیں کم کرنا پڑتا ہے آپ اگر اچھے استاد بننا چاہتے ہیں تب بھی آپ کو اپنی ڈگریز کے مطابق set mentality سے نچلی سطح پر آنا پڑے گا آپ PhD ہیں اگر آپ ہائیر سیکنڈری کلاسز کو پڑھانا چاہتے ہیں تب آپ کو mentally طور پر ہائیر سکینڈری کلاسز کا ہی بننا ہو گا

تجسس کی وجہ سے ہمارے پیشانیوں پر نمودار ہوتے پسینے کے قطروں سے مزید فائیدہ اٹھاتے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے پروفیسر بولے کچھ یوں ہی آپ کو حکمرانی میں کرنا پڑتا ہے آپ کو اچھے حکمران بننے کے لیئے mental approach کو چینج کرنا پڑتا ہے دنیا میں رعایا سے فاصلے رکھ کر اور شاہانہ پروٹوکول سے کبھی خوشحالی نہیں آئی آپ کو اپنے ماتحتوں کے درمیاں فاصلے کم سے کم کرنا پڑتے ہیں آپ کو اپنے اور اپنی رعایا کے درمیاں ایک ایسی فضاء قائم کرنا پڑتی ہے جس فضاء میں رعایا اپنے دکھ درد کو آپ کے سامنے بے خوف و خطر بیان کر سکے اگر أپ ایسا نہیں کر سکتے تو یقین کرلیں ترقی اور خوشحالی کا خواب ایک سراب ہی رہے گا

کیلیفورنیا یونیورسٹی کے پروفیسر رچرڈ باکس ابھی اور بھی کچھ کہنا چاہتے تھے مگر چائے کی مہک کے ساتھ اجازت لے کر داخل ہونے والے Ramada Multan کے ملازم کی آواز نے گفتگو کا تسلسل منقطع کر دیا پروفیسر رچرڈ سے ہماری یہ ملاقات ملتان کے Ramada میں معروف تجزیہ نگار امجد خان ڈھول اور نائب صدر پریس کلب حجاز علی بٹ کے ہمراہ ہوئی تھی پروفیسر صاحب بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کے سالانہ کانووکیشن میں خطاب کے لیئے آئے تھے اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں زیر تعلیم ڈب کلاں سے تعلق رکھنے اپنے دوست مہر مدثر کی وساطت سے یہ ملاقات ہوئی تھی
پروفیسر صاحب سے ہونے والی آدھے گھنٹے پر محیط یہ ملاقات تو چائے کے ساتھ ہی اختتام پزیر ہو گئی تاہم ترقی یافتہ اور خوشحال قوم کے اس دانشور کے الفاظ ہماری سوچ کے ساتھ ساتھ چلنے لگے کہ ایک ترقی یافتہ اور پسماندہ قوم کی سوچ کیسے یکسر مختلف ہوتی ہے یہاں حکمراں اور رعایا کے درمیاں کم ہوتے فاصلے شاید غلامانہ ذہنیت کی حامل رعایا کے لیئے قابل برداشت ہی نہیں ہے

اسی تناظر میں مجھے چند دن پہلے اپنے ایک قریبی دوست کے پنجابی میں کہے الفاظ یاد أ گئے کہ یار ایہہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار بہتا ٹیلھا اے (یعنی یہ وزیر اعلی بہت ڈھیلے ہیں یہ دبنگ نہیں ہیں )الفاظ خاصے حیرت انگیز تھے اس کی جو وجہ انہوں نے بتائی اس کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ اب ہر ایم پی اے وزیر اعلیٰ تک فوری رابطہ کر سکتا ہے اور ہر رکن صوبائی اسمبلی وزیر اعلی سے ہر تیسرے روز ملتے ہوئے نظر آتے ہیں تونسہ سے ان کے حلقہ انتخاب کے لوگ وزیر اعلی ہاؤس میں بسیرا کیئے ہوئے ہیں تحریک انصاف کی تیسرے درجے کی قیادت بھی وزیر اعلیٰ ہاؤس میں پہنچ جاتی ہے اور یوں وزیر اعلیٰ ہاؤس اور وزیر اعلیٰ کے عہدے کا تقدس پامال ہو رہا ہے

اس کا جواز پیش کرنے والے سابقہ دور حکومت میں روجھان کے اس وقت کے رکن صوبائی اسمبلی کی مثال پیش کرتے ہیں جسے اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے ملاقات کرنے کے لیئے پہلے ایک ماہ کا ٹائم ملا مگر مقررہ دن یہ ملاقات نہ ہو سکی اور پھر مقررہ دن لانے کے لیئے کوئی دو ماہ اور گذر گئے اور یوں اس وقت کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کو منتخب کرنے والے رکن صوبائی اسمبلی تین ماہ کے انتظار کے بعد ملاقات کرنے میں کامیاب ہو گئے

مگر لگتا کچھ یوں ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اپنے پیش رو کی بجائے ترقی یافتہ قوم کے دانشوروں کو follow کرتے جا رہے ہیں یہ اپنے اور اپنے ماتحتوں میں فاصلے کم کرنا چاہتے ہیں کیونکہ کیلیفورنیا یونیورسٹی کے پروفیسر رچرڈ باکس سے بہت پہلے خلیفہ دوم حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ریاست کی گلیوں میں رات کو گھوم کر یہ پیغام دے دیا تھا کہ رعایا کی ترقی اور خوشحالی کے لیئے اپنے آپ کو اپنی ذہنی سطح سے کم پر لانا پڑتا ہے تب ہی ریاست اور رعایا خوشحالی کی طرف گامزن ہو سکتی ہے

علی امجد چوہدری صدر نیشنل یونین آف جرنلسٹس ضلع جھنگ