وہ سکاٹ لینڈ کا ایک غریب کسان تھا. تحریر ۔محمد اقبال شاہد

0
41

“وہ سکاٹ لینڈ کا ایک غریب کسان تھا.

تحریر ۔محمد اقبال شاہد

کھیتوں کی طرف جاتے اس نے چیخنے کی آواز سنی. آواز کی سمت جا کر دیکھا کہ ایک بچہ دلدل کے ایک جوہڑ میں ڈوب رہا ہے. دلدل میں آپ جتنا زیادہ نکلنے کی کوشش کرتے ہیں زیادہ تیزی سے ڈوبتے ہیں .

کسان نے اسے تسلی دی پرسکون کیا. اور درخت کی ایک شاخ توڑ کر بچے سے کہا یہ پکڑ لو میں تمہیں کھینچ لیتا ہوں. اور کچھ دیر بعد بچہ باہر تھا. کسان نے اسے کہا کہ چلو میرے گھر تمہارے کپڑے صاف کرا دیتا ہوں لیکن بچے نے کہا میرے والد پریشان ہوں گے…… اور دوڑ لگا دی”

اگلی صبح ایک شاندار بگھی کسان کے گھر کے سامنے کھڑی ہوئی. اور ایک رعب دار شخصیت بگھی سے نکلی. اور کسان کا شکریہ ادا کرنے کے بعد کہا
میں آپ کو کیا صلہ دوں ؟ کیونکہ آپ نے میرے بیٹے کی جان بچائ ہے.
غریب کسان نے کہا….. شکریہ جناب لیکن میری جگہ کوئی بھی ہوتا تو یہی کرتا. مجھے کسی صلے کی طلب نہیں.

بہت اصرار کے بعد بھی جب کسان نے کچھ قبول نہ کیا تو وآپس جاتے جاتے اس رئیس کی نظر کسان کے بیٹے پر پڑی پوچھا ……کیا یہ آپکا بیٹا ہے ؟
کسان نے محبت سے بیٹے کا سر سہلاتے کہا جی جناب یہ میرا بیٹآ ہے”

رئیس نے کہا…… ایک کام کرتے ہیں میں اسے اپنے ساتھ لندن لے جاتا ہوں. اور اسے پڑھاتا ہوں.

بیٹے کی محبت میں اس پیشکش پر کسان راضی ہوگیا اور اسکا بیٹا لندن چلا گیا پڑھنے لگا. کسان کے اس بیٹے نے پڑھا.اور اتنا پڑھا کہ آج دنیا اسے الیگزینڈر فلیمنگ کے نام سے جانتی ہے.

جی ہاں …..وہ فلیمنگ جس نے پنسلین ایجاد کی وہ پنسلین جس نے کروڑوں لوگوں کی زندگی بچائی.

وہ رئیس جس کے بیٹے کو کسان نے دلدل سے نکالا تھا اُسی رئیس کا بیٹا جنگ عظیم سے پہلے ایک بار پھر ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں تھا. اور اسی فلیمنگ کی پنسلین سے اس کی زندگی بچائی گئی .

وہ رئیس کون تھے….؟
وہ روڈولف چرچل تھے. اور انکا بیٹا ونسٹن چرچل تھا. وہ چرچل جو جنگ عظیم میں برطانیہ کا وزیر اعظم تھا وہ چرچل جس کے پاس جنگ عظیم دوئم کے دوران عوام آئے تھے. اور جنگ کے حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا. تو اسی چرچل نے جو جواب دیا تھا. وہ جواب ضرب المثل بن گیا
” کہ جائیے آرام سے گھر جاکر سوجائیے کیونکہ برطانیہ کی عدالتیں عوام کو انصاف اور ادارے پوری نیک نیتی سے خدمات فراہم کررہے ہیں. برطانیہ کو کوئی شکست نہیں دے سکتا.”
اور برطانوی فتح نے یہ بات درست ثابت کردی.

اور یہی وہ چرچل تھا کہ جس نے کہا تھا کہ
“بھلائی کا کام کریں کیونکہ بھلائی پلٹ کر آپ کے پاس ہی آتی ہے”

اگر ہم پاکستانی معاشرے میں حقیقی تبدیلی چاہتے ہیں. تو ہمیں نیکی اور بھلائی کا شعوری چلن اپنانا ہوگا. کسان اور اسکا بیٹا ایک گاؤں میں رہتا تھا. لیکن جب ایک رئیس نے اسکے بیٹے پر دستِ شفقت رکھا اور اسکو زیورِ تعلیم سے آراستہ و پیراستہ کرنے کیلیے اپنا کردار ادا کیا. تو یہی بچہ بڑا ہوکر پنسلین کا مؤجد بنا. اور اسکی ایجاد کردہ دوا نے لاکھوں افراد کی زندگیاں بچانے میں اہم کردار ادا کیا.

ہمارے معاشرے میں بھی کئی غریب بچے صاحب استطاعت افراد کی نظرِ کرم کے مستحق و منتظر ہیں. وطنِ عزیز میں وقتاً فوقتاً یہ خبریں میڈیا کی زینت بنتی رہی ہیں. کہ کسان نے تعلیم یافتہ نہ ہونے کے باوجود شمسی توانائی سے چلنے والا ٹیوب ویل بنالیا.
تو کبھی یہ خبر سننے کو ملی کہ تندور پر روٹی لگانے والے بچے نے میٹرک کے امتحان میں صوبے بھر میں ٹاپ کرلیا. اور کبھی یہ کہ لیاری کی اٹھارہ سالہ بچی علاقے کے 80 بچوں کو نامساعد حالات کے باوجود مفت ٹیوشن دے رہی ہے. اور ان گنت مثالیں ہیں.

تبدیلی سوچ سے شروع ہوتی ہے. ہماری سوچ بدلیگی. پاکستان خود بخود بدلنا شروع ہوگا