کاغان کی ٹراوٹ مچھلی ۔میرنےوالاکا نصیر اور صحافت اور خدمت کا منفرد کردار ۔۔امتیاز شیخ۔۔۔۔داد و تحسین سے مزین۔خوبصورت تجزیاتی کالم سلطان نیوز پر ۔۔۔معروف اینکر پرسن۔۔۔۔علی امجد چودھری کے قلم سے۔۔۔

0
128

کاغان کی ٹراوٹ مچھلی ۔میرنےوالاکا نصیر اور صحافت اور خدمت کا منفرد کردار ۔۔امتیاز شیخ۔۔۔۔داد و تحسین سے مزین۔خوبصورت تجزیاتی کالم سلطان نیوز پر ۔۔۔معروف اینکر پرسن۔۔۔۔علی امجد چودھری کے قلم سے۔۔۔

استاد صحافت

کاغان کے نصیر احمد سے ناچیز کی ملاقات گزشتہ ماہ دورہ ناران و کاغان کے دوران ہوئی تھی نصیر نے پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن کیا ہے یہ کاغان اور ناران کے درمیان کے علاقہ راجوان میں دریائے کنہار کے کنارے مچھلی کا کام کرتا ہے
یہ دریائے کنہار کی تازہ ٹراؤٹ مچھلی کا شکار کرتا ہے اور پھر یہی مچھلی اپنے کسٹمرز کو پیش کرتا ہے یہ تحصیل احمد پور سیال کے علاقہ میرنے والا میں پیدا ہوا تھا اس کے والد اشرف حسین روزگار کے سلسلہ میں ملک کے مختلف حصوں میں مقیم رہے تاہم نصیر حسین کی پیدائش اور پھر بیس سال میرنے والا میں گزرے
ناچیز کے ساتھ ساتھ تحصیل احمد پور سیال کے معروف معالج ڈاکٹر حبیب الرحمن بھٹہ اور ڈاکٹر عبدالغفور کشمیری کے لیئے نصیر کی چیڑ کی لکڑی پر بھنی ٹراؤٹ مچھلی سے زیادہ اس کے جھنگ سے تعلق میں دلچسپی تھی
نصیر تحصیل احمد پور سیال کی دو چیزوں سے بہت متاثر تھا ایک یہاں کی زرخیزی اور دوسرا گڑھ مہاراجہ کے معروف صحافی شیخ امتیاز رحمانی سے

شیخ امتیاز رحمانی سے اس کے متاثر ہونے کی وجہ اس کی ایک آب بیتی تھی نصیر کا خاندان دراصل یہاں اکیلا أباد تھا اس کے ددھیال اور ننھیال تحصیل بالاکوٹ کے علاقے کیوائی میں مقیم تھے اور ان دنوں ٹیلی فون کی سہولت بھی ناپید تھی اس لیئے نصیر کے خاندان کا اپنے ددھیال اور ننھیال سے تابطہ مہینوں بعد ہی ممکن ہوتا تھا
اسی دوران ہوا کچھ یوں کہ کہ نصیر کے والد کا ایک مقامی شخصیت کے ساتھ لین دین پر تنازعہ پیدا ہو گیا یہ شخصیت علاقے میں خاصی بااثر سمجھیں جاتی تھی اس کی برادری بھی طاقتور شمار کی جاتی تھی دوسری طرف نصیر کا خاندان یہاں اکیلا تھا نصیر کے والد کو گرفتار کروا دیا گیا اور علاقے کا کوئی بھی شخصیت کے اثر و رسوخ کی وجہ سے نصیر کے والد کا ساتھ دینے کے لیئے تیار نہیں تھا یہ سن دنوں کی بات ہے جب پولیس چوکوں میں برہنہ کر کے لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا کرتی تھی اس وقت کے اس چودہ سالہ بچے نے علاقے کے بہت سارے لوگوں سے مدد طلب کی مگر کوئی بھی شخص مدد کے لیئے تیار نہیں تھا
بس ایک بھلے مانس کی آواز کانوں میں پڑی گڑھ مہاراجہ دے شیخ کولوں لگا ونج کجھ کم آ ویسی (یعنی گڑھ مہاراجہ کے شیخ کے پاس چلے جاؤ وہ شاید آپ کی کوئی مدد کر دے )اور یہ کچا پکا روڈ پر پیدل سفر کر کے گڑھ مہاراجہ پہنچا تو اس کی زبان سے شدت خوف اور بھوک و پیاس بے ربط الفاظ کچھ یوں نکل رہے تھے شیخ مہاراجہ مگر گڑھ مہاراجہ کے لوگ سمجھ چکے تھے اور اگلے چند منٹوں کے بعد یہ چودہ سالہ نصیر گڑھ مہاراجہ کے دبنگ صحافی شیخ امتیاز رحمانی کی رہائش گاہ کے سامنے تھا

چادر اور بنیان میں ملبوس شیخ امتیاز رحمانی کے لیئے اس بچے کے درد کو سن کر گھر واپس جانا ممکن نہیں تھا اور یہ بچے کے ہمراہ تھانہ گڑھ مہاراجہ پہنچے اپنے والد سے حوالات کے باہر کھڑے ہو کر بچے کی ملاقات بچے کے لیئے پہلی تشفی تھی
یہ پہلے شخص تھے جو بااثر شخصیت کے مدمقابل نصیر کی صف میں کھڑے ہو گئے یہ اس کے والد کو کھانا بھی پہنچاتے یہ بااثر شخصیت کی طرف سے نصیر کے والد پر تشدد کی خواہش کی راہ میں بھی رکاوٹ رہے یہ نصیر کے والد کے عدالت میں ضمانتی بھی بنے اور یوں دریائے کنہار کے کنارے ٹراؤٹ مچھلی کی صورت میں سیاحوں کی خدمت کرنے والے نصیر کی تحصیل احمد پور سیال سے وابسطہ اچھی یادوں میں شیخ امتیاز رحمانی کا بھر پور کردار ہے گڑھ مہاراجہ جیسے پسماندہ علاقے میں پریس کلب کا قیام شیخ امتیاز رحمانی جیسے زیرک شخص کی وجہ سے
مکمن ہوا شاید 2013 یا 14 کے سیلاب کے دوران جب گڑھ مہاراجہ شہر بھی سیلاب میں ڈوبا ہوا تھا اور شیخ امتیاز رحمانی خود بھی متاثرین میں شامل تھے ناچیز نے شیخ امتیاز رحمانی کو اپنے پانی سے گھرے گھر سے کھانا بنوا کر سیلاب کے پانی سے گزر کر متاثرین کی طرف کھانا پہنچاتے دیکھا
اپنی بے باک صحافت کے زریعے مظلوموں کی داد رسی سے لے کر قدرتی آفات کے متاثرین کی داد رسی کرنے والے شیخ امتیاز رحمانی جیسے لوگ ہمارے معاشرے میں اگرچہ ناپید ہو رہے ہیں لیکن دراصل یہی ہمارے معاشرے کی بقاء کی ضمانت ہیں اور ان جیسے لوگوں کی وجہ تحصیل احمد پور سیال سے 18 گھنٹے کی مسافت پر راجوان میں بیٹھا نصیر أاج بھی اس دھرتی سے خوشگوار یادیں وابسطہ کیئے ہوئے ہے
سلام میری دھرتی کے اصلی ہیرو

کالم نگار
علی امجد چوہدری صدر نیشنل یونین آف جرنلسٹس ضلع جھنگ03076006762