ہمارا تعلیمی نظام کالم نگار رانا احتشام الحق

0
104

ہمارا تعلیمی نظام

کالم نگار رانا احتشام الحق

ہم جس دور میں رہ رہے ہیں یا جس معیار تعلیم کی پیروی کر رہے ہیں یہ علم دینے کا طریقہ ہمارا وراثتی طریقہ نہیں ہے یہ ہم نے انگریزوں سے لیا
آئیے ہم آپ کو اس تعلیم کے معیار کی چند ایک خصوصیات کا جائزہ لیتے ہیں
اس تعلیمی نظام کی تاریخ یہ ہے کہ جب انگریز برصغیر میں آئے انہوں نے برصغیر پاک و ہند کے لوگوں سے دشمنی اور عداوت کو نکالنے کا یہ طریقہ نکالا کہ کہ پاک وہند کی عوام کو ان انگریزوں کا غلام بنا دیا جائے
جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ برصغیر کے لوگوں کو ان انگریزوں کو اپنا لیڈر اور رہنما ماننا شروع کردیا
انگریزی کی مخالف میں جو آیا وہ پھر بے چارہ رسوا کر دیا گیا
ہندوئوں نے تو خود کو ان کا غلام تسلیم کیا
لیکن مسلمانوں کا ایک گروہ جو کہ علماء تھے انہوں نے مغرب کے کلچر کے سامنے بند باندھنے کی کوشش کی مگر وسائل کی کمی اور جدید علوم سے دوری کی وجہ سے وہ علماء کرام کامیاب نہ ہو سکے
اس تعلیمی نظام میں نصاب میں
1بے جا طول
2 نصاب کا بچوں کی ذہنی سطح کے مطابق نہ ہونا
3 نصاب میں عملی طور پر کسی مہارت کا فقدان
4 نصاب کا کسی ایک مخصوص اور مکمل نصاب دینے کا فقدان
ان چار نقطوں میں جس نقطے کو میں یہاں بیان کرنے کی کوشش کروں گا وہ یہ ہے کہ
نصاب میں عملی کام کا فقدان
ہمارے ملک میں بچے انٹر کالج کے topper ہوئے ہیں مگر انہیں اپنے کام میں مہارت تو کیا انہیں اپنے شعبے کی بنیادی معلومات کا بھی کچھ پتہ نہیں ہوتا ہے
اس کے برعکس اگر ہم دوسری طرف ان بچوں کو دیکھ لیں جو اپنا سکول چھوڑ کر کوئی عملی مہارت یا ہنر سیکھ لیتے ہیں وہ اس انٹر کے ٹاپر سے 10000 گنا زیادہ بہتر ہوتے ہیں
میں یہاں یہ بھی نہیں کہنا چاہتا لوگ پڑھائی چھوڑ دیں مگر یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ یہ معیار تعلیم بھی ہمارا نہیں ہے جس میں ہم انگریزی سیکھنے پر ہی فخر محسوس کریں نہ کہ عملی مہارت پہ
یہی وجہ ہے کہ آج تک نہ کوئی جابر بن حیان پیدا ہوا
نہ البیرونی
نہ ابن الہیثم
نہ بوع علی سینا
جنہوں نے یورپ کے اندھیروں کو علم سے منور کیا
تحریر نگار
*رانا احتشام الحق
*
Student of Bs information and technology
6th symester
United college jhang