گھبرانا نہیں (ڈالر کی کہانی) تحریر:منیر احمد

0
105

گھبرانا نہیں (ڈالر کی کہانی)

تحریر:منیر احمد
آج کل جو چیز سب سے زیادہ موضوع بحث ہے وہ ڈالر اور اسکا بڑھتا ہوا نرخ ہے۔ اتنے تسلسل سے اس موضوع پر بات ہورہی ہے کہ ایک راج مزدور سے لیکر ماہرین معاشیات تک سب اسی موضوع پر بحث کرتے نظر آتے ہیں۔ عام آدمی اور بالخصوص بزنس کے طالبعلم کے ذہنوں میں سوالات جنم لے رہے ہیں کہ راتوں رات ڈالر کی قیمت کیسے بڑھی؟ اس اضافے کے پیچھے کونسے عوامل کار فرما ہیں۔ میں انتہائی سادہ اور عام فہم الفاظ میں بتانا چاہوں گا لیکن اس سے پہلے ایک چھوٹی کہانی سناؤں گا جو اس ساری صورتحال کو واضح کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
چائنیز بمبو یا بانس کی کہانی شاید آپ نے سنی ہو۔ چائنیز بانس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب یہ بویا جاتا ہے تو اسے مسلسل پانی دیا جاتا ہے۔ ایک سال میں یہ زمین سے نہیں نکل پاتا۔ دوسرے سال بھی سطح زمین ہر کچھ نظر نہیں آتا۔ تیار سال بھی زمین کے اندر ہی رہتا ہے۔ چوتھے سال بھی نظر کچھ نہیں آتا لیکن بونے والے مسلسل پانی دیتے رہتے ہیں۔ پانچویں سال جاکر یہ زمین سے نکلتا ہے اور پھر چھ ہفتے کی قلیل مدت میں یہ اسی فٹ تک اونچا ہوجاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ بانس پانچ سالوں میں اسی فٹ اگا یا چھ ہفتے میں؟
اب ہم آتے ہیں ڈالر کی طرف۔ کسی بھی ملک میں زرمبادلہ (دوسرے ممالک کی کرنسی) کی ایک محدود مقدار ہوتی ہے۔ ان میں سب سے زیادہ اہم ڈالر اسلئے ہے کہ سب سے زیادہ لین دین دنیا میں ڈالر میں ہوتا ہے۔ ڈالر کی قیمت طے کرنے کے سادہ الفاظ میں دو طریقے ہیں۔
ایک طریقہ تو (براہ راست مداخلت کہا جاتا ہے)یہ ہے کہ آپ کے ملک کا مرکزی بینک (ہمارا مرکزی بینک سٹیٹ بینک ہے) اسکی قیمت کا تعین کرے۔ فرض کریں سٹیٹ بینک طے کرے کہ ڈالر سو روپے سے زیادہ نہیں ہوگا۔ لیکن یہ صرف حکم نہیں ہوتا بلکہ مرکزی بینک ڈالر سو روپے تک محدود رکھنے کیلئے مارکیٹ میں ڈالر کی ترسیل جاری رکھتا ہے۔ جب بھی ڈالر کی طلب مارکیٹ میں بڑھتی ہے تو فطری طور پر ڈالر کا ریٹ بڑھنا شروع ہوجاتا ہے۔ ریٹ کو کم رکھنے کیلئے مرکزی بینک مارکیٹ میں ڈالر کی ترسیل بڑھا دیتا ہے۔ مرکزی بینک یہ اس صورت میں کرسکتا ہے جب اسکے پاس وافر مقدار میں ڈالر موجود ہو۔ لیکن اگر ڈالر کی پہلے سے کمی ہو تو پھر کیا کیا جائے؟ دو صورتیں ممکن ہیں۔ یا تو ملک کے اپنے ذرائع آمدن ہوں جن سے ڈالر ملک میں آئے۔ ان ذرائع میں،
۱- برآمدات یعنی وہ سامان جو آپ دوسرے ملکو ں کو بیچ کر ڈالر لیتے ہیں۔
۲- باہر سے کوئی آکر آپ کے ملک میں سرمایہ کاری کرے کاروبار کرے وغیرہ
۳- آپ کے ملک کے لوگ باہر سے پیسہ کما کر قانونی طریقے سے بینکوں کے ذریعے ملک بھجوائیں
دوسری صورت بیرونی مدد یا قرضے کی ہوتی ہے۔ مدد چونکہ مخصوص حالات میں اور محدود ہوتی ہے اسلئے سود پر قرض لینا پڑتا ہے۔ تو اگر مرکزی بینک کے پاس اپنے ذرائع آمدن نہ ہوں جیسے پاکستان کا مسئلہ ہے کہ ہماری برآمدات پچھلے پانچ سالوں میں ستائیس فیصد کم ہوئی ہیں تو ایک ہی صورت رہ جاتی ہے قرض لینے کی۔ مرکزی بینک قرض لیکر مارکیٹ میں نکالتا رہے۔ ڈالر رک جائیگا لیکن آپ قرضوں کے بوجھ تلے دبتے چلے جائیں گے جو آنے والوں حکومتوں اور نسلوں نے سود سمیت واپس کرنا ہے۔
اب آتے ہیں ڈالر کے نرخ کے تعین کی دوسری صورت کی طرف۔ اسے فری فلوٹ ایکسینچ ریٹ کہا جاتا ہے۔ اس میں مرکزی بینک مداخلت نہیں کرتا۔ اسکا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ڈالر کے ریٹ کا تعین طلب اور رسد کرتے ہیں۔ اس صورتحال میں ڈالر اپنے حقیقی نرخ پر ملتا ہے اور اگر مارکیٹ میں زر مبادلہ کی کمی ہو تو نرخ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ مُک تصور دورانئے میں اس سے مہنگائی بڑھتی ہے روپے کی قدر کم ہوتی جاتی ہے لیکن ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر پر اسکا اثر نہیں ہوتا۔
ان دونوں صورتوں کا سادہ الفاظ میں موازنہ یوں کیا جاسکتا ہے کہ فرض کریں آپکو بخار ہے۔ آپ چاہتے ہیں کہ بخار فوری طور پر اتر جائے اسکے بعد بھلے آپکا بخار ٹائفائڈ اور معدے کے کینسر میں تبدیل ہو۔ تو آپ کو جیسے بخار ہوتا ہے آپ پینا ڈول، پونسٹان اور اسپرین کھا کر بخار کم کرلیتے ہیں لیکن بخار کی اصل وجہ پر توجہ نہیں دیتے۔ دوسری صورت میں آپ کہتے ہیں کہ نہیں مجھے ابھی بخار قبول ہے لیکن میں نے ڈاکٹر سے تشخیص کرواکر اور اسکی وجہ معلوم کرکے اسکا علاج کرنا ہے۔ یہ طریقہ ذرا لمبا ہے اور وقت لیتا ہے اور مریض کیلئے تکلیف دہ بھی ہوتا ہے۔
موجودہ حکومت نے دوسری صورت کا انتخاب کیا ہے۔ اگر وہ اپنے ذرائع آمدن (جو اوپر بیان کئے ہیں) بڑھا لیں اور قرضوں پر انحصار کم سے کم کرلیں تو آہستہ آہستہ ڈالر نیچے آئیگا، روپے کی قدر میں اضافہ ہوگا اور یہ حقیقی اضافہ ہوگا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اچانک نو مہینے کی قلیل مدت میں ڈالر اتنی سرعت کیساتھ اوپر کیسے گیا؟
اس سوال کا جواب چائنیز بانس کی کہانی میں ہے۔ اس اضافے کی آبیاری ایک طویل مدت سے کی جارہی تھی۔بخار کا وقتی علاج کیا جارہا تھا۔ اب یہ بخار ٹائیفائڈ میں تبدیل ہوچکا ہے لیکن ابھی کینسر نہیں بنا۔ اپنے محدود علم کے مطابق میری ذاتی رائے یہ ہے کہ حکومت کا یہ اقدام اچھا ہے بشرطیکہ وہ،
۱- برآمدات میں اضافے کیلئے ٹھوس اقدامات کریں
۲- بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری پر راغب کریں
۳- بیرون ملک پاکستانیوں کا پیسہ ملک میں لانا آسان بنا دیں اور ہنڈی حوالے کے کاروبار کرنے والوں سخت سزاؤں سے حوصلہ شکنی کریں۔
۴- ڈالر کی زخیرہ اندوزی کو روکنے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے۔
اور عوام سے اتنی سی اپیل ہے کہ گھبرائیں نہیں۔ افواہوں پر یقین نہ کریں۔ تحقیق کریں اور چیزوں کے بارے میں جاننے کی کوشش کریں۔ چھپ چھپ کر تھوڑا تھوڑا ضرور گھبرائیں لیکن زیادہ نہ گھبرائیں۔ قومیں مشکل حالات کا مقابلہ کرکے ہی بنتی ہیں۔ جو ترقی یافتہ ممالک ہیں وہ ان سب مرحلوں بلکہ ان سے کہیں زیادہ مشکل مرحلوں سے گزر کر یہاں پہنچی ہیں۔