17 رمضاں !! یوم بدر و یوم اصحاب بدر تحریر سیف اللہ صدیقی

0
131

17 رمضاں !! یوم بدر و یوم اصحاب بدر

تحریر سیف اللہ صدیقی
انفارمیشن سکریٹری پریس کلب احمد پور سیال

ہجرت کے بعد مسلمانوں کا سب سے پہلا غزوہ بدر کےمقام پر لڑی جانےوالی جنگ ہے۔ اس معرکہ میں کفار مکہ کی تعداد ایک ہزار سے زائد تھی اور ان کا پورا سراپا لوہے کے ہتھیاروں سے آراستہ تھا ۔ جبکہ مسلمانوں کی تعداد صرف 313 تھی، ان کے ہتھیار ٹوٹے ہوئے اور ان کی تلواریں کند تھیں۔ لیکن پھر بھی مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کی مدد اور توحید کے سچے جذبے کے ساتھ دشمنان اسلام پر فتح پائی!!

ذیل میں چند واقعات مختصر بیاں ہیں جو کہ مسلمانوں کہ جذبہ ایمانی کی عکاسی کرے ہیں

1 – انصار اور مہاجرین کا رد عمل

مدینہ میں قریشی لشکر کی آمد کی اطلاع ملی تو آپ نے مجلس مشاورت بلوائی اور خطرے سے نپٹنے کے لیے تجاویز طلب فرمائیں۔ مہاجرین نے جانثاری کا یقین دلایا۔ آپ نے دوبارہ مشہور طلب کیا تو انصار میں سے سعد بن عبادہ نے عرض کیا کہ غالباًً آپ کا روئے سخن ہماری طرف ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں۔ حضرت سعد بن عبادہ نے عرض کیا کہ:
” یا رسول اللہ! ہم آپ پر ایمان لائے ہیں۔ ہم نے آپ کی تصدیق کی ہے اور گواہی دی ہے کہ جو کتاب آپ لائے ہیں وہ حق ہے اور ہم نے آپ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا عہد کیا ہے۔ یا رسول اللہ جس طرف مرضی ہو تشریف لے چلیے۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے حق کے ساتھ آپ کو معبوث کیا اگر آپ ہم کو سمندر میں گرنے کا حکم دیں گے تو ہم ضرور اس میں گرپڑیں گے اور ہم میں سے ایک شخص بھی باقی نہ رہے گا “

حضرت مقداد نے عرض کیا:
” ہم موسیٰ کی امت کی طرح نہیں ہیں جس نے موسیٰ سے کہا کہ تم اور تہمارا رب دونوں لڑو۔ ہم تو یہاں بیٹھے ہیں بلکہ ہم آپ کے دائیں بائیں ، آگے پیچھے آپ کے ساتھ لڑیں گے”

2- ابو جہل کا خاتمہ

دو کم عمر بچے معاذ بن عمر بن جموع اور معاذ بن عفر ، حضرت عبدالرحمن بن عوف کے پاس آئے اور ان میں سے ایک نے کہا۔

’’چچا! آپ ابوجہل کو پہچانتے ہیں وہ کہاں ہے۔ ہم نے سنا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گالیاں بکتا ہے ۔ اس پاک ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر میں اس کو دیکھ لوں تو اس وقت تک اس سے جدا نہ ہوں گا جب تک کہ مر نہ جائے یا میں شہید نہ ہو جاؤں‘‘ اتفاق سے ابوجہل کا گزر سامنے سے ہوا۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے اس کی طرف اشارہ کر دیا ۔ یہ اشارہ پاتے ہی یہ دونوں ننھے مجاہد اپنی تلواریں لے کر اس کی طرف بھاگے۔ وہ گھوڑے پرسوار تھا اور یہ دونوں پیدل ۔ جاتے ہی ان میں سے ایک ابوجہل کے گھوڑے پر اور دوسرے نے ابوجہل کی ٹانگ پر حملہ کر دیا۔ گھوڑا اور ابوجہل دونوں گر پڑے۔ عکرمہ بن ابوجہل نے معاذ بن عمر کے کندھے پر وار کیا اور ان کا باز لٹک گیا۔ باہمت نوجوان نے بازو کو راستے میں حائل ہوتے دیکھا تو پاؤں کے نیچے لے کر اسے الگ کر دیا اور ایک ہی ہاتھ سے اپنے شکار پر حملہ کر دیا۔ اتنے میں معاذ بن عفرا کے بھائی معوذ وہاں پہنچے اور انہوں نے ابوجہل کو ٹھنڈا کر دیا اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کا سر تن سے جدا کر دیا۔

3 – غرور کا سر نیچا

ایک طرف ہتھایروں میں ڈوبا ہوا شیطانی ہجوم تھا اور دوسری طرف توحید کے مٹھی بھر پروانے۔ آخر حق و باطل کے درمیان زور کا رن پڑا ۔ بالآخر نصرت الٰہی سے کفار کو شکست فاش ہوئی اور ان کے ستر آدمی کام آئے جن میں ابوجہل اور عتبہ جیسے سردار بھی شامل تھے۔ اس کے مقابلے میں اسلامی فوج کے چودہ مجاہد شہید ہوئے۔ جن میں آٹھ انصار اور چھہ مہاجرین تھے۔

غزوہ بدر میں مسلمانوں کی فتح تاریخ اسلام میں ایک خاص اہمیت رکھتی ہے۔ چند غریب الوطن،جو قریش کے ظلم و جور سے تنگ آکر اور گھر بار چھوڑ کر مدینہ میں پناہ گزین ہوئے تھے،آج اس قابل ہوگئے کہ ظالموں کو بزور شمشیر مار بھگایا، اس سے مسلمانوں کے حوصلے بڑھ گئے۔ اسلام کا حقیقی عروج یہیں سے شروع ہوتا ہے۔ اب مسلمان محض جلاوطن اور بےخانماں مہاجر نہیں تھے بلکہ ایک زندہ اور آزاد قوم تھے۔ مٹھی بھر مسلمانوں کا اپنے سے تین گنا اور مسلح فوج پر چند گھنٹوں میں غالب آجانا معجزہ سے کم نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس فتح کو “حق کی حمائت میں فیصلہءربانی” کا درجہ حاصل ہے۔

اللہ تعالی سے دعا ھے کہ وہ آج کے مسلمانوں میں بھی جزبہ جہاد اور شوق شہادت پیرا کرے تا کہ اسلام کا بول بالا پھر سے ہو۔ آمین