عظمتوں کے دیس کا میرا علی تو بادشاہ منظوم کلام شاعر محمد ارشد قاسمی

0
76

عظمتوں کے دیس کا میرا علی تو بادشاہ منظوم کلام

شاعر محمد ارشد قاسمی

حیدر و صفدر کہوں شیرِ خدا خیبر شکن
ہے نرالی ہر ادا بے عیب تیرا ہے چلن

عظمتوں کے دیس کا میرا علی تو بادشاہ
رفعتوں کے آسماں پر ہے تو روشن مثلِ ماہ

سیدی تو مرشدی رہبر مرا تو مقتدا
آفتابِ اولیاء تو پیکرِ جود وسخا

تو نے بچپن سے ہی تھاما دامنِ خیرالوریٰ
اس لیے تو ہر ادا تیری ادائے مصطفیٰ

تیرا ہر فرمان ایسا آبِ زر سے ہو رقم
سر تری دہلیز پر فہم و فراست کا ہے خم

زوجہ تیری فاطمہ امت کی نورالعین ہے
مصطفیٰ کی لاڈلی شہزادیء کونین ہے

ہے یہ فرمانِ پیمبر تو علی میرا اخی
بعد از صدیق و عثمان و عمرحق کا ولی

مرحب و عنتر کے جیسے پہلواں کفار کے
پل نہ ٹھہرا سامنے کوئی تری تلوار کے

محمد ارشد قاسمی