مستحقین رمضان المبارک میں بھی محروم کیوں رہ جاتے ہیں۔۔۔ حصہ اول (میری بات ) کالم نگار رانا عاشق علی

0
54

مستحقین رمضان المبارک میں بھی محروم کیوں رہ جاتے ہیں۔۔۔ حصہ اول
(میری بات )

کالم نگار رانا عاشق علی سیالکوٹ

گداگر اور بیکاریوں کی بڑھتی تعداد۔ آپ بازار گلی روڈ پر جارہے ہوں تو ہر چوراہے پر بھیکاری آپ کے سامنے آکر کھڑا ہوجائے گا کہ آپ کسی دکان سے مثلا فروٹ سبزی گوشت کریانہ کپڑا ہسپتال سکول کے باہر حتی کہ دیکھا گیا ہے آپ میڈیسن خرید کر دوکان سے باہر نکلیں تو ایک آپ کے آگے اور آپ کے پیچھے گداگر آپ سے کچھ نہ کچھ کہہ کر روپے ضرور مانگے گا مجھے فلاں مجبوری ہے اب تو اکثر دیکھنے میں آیا ہے سفید پوشی کا روپ تارے آپ کے پاس آکر کھڑا ہوجائے گا مجھے کہیں جانا ہے کرایہ نہیں بن رہا اتنے کم ہیں روپے دے دو۔۔۔۔یہ تو روز مرہ کا طریقہ وارد ہے اس کے علاوہ کچھ لوگوں نے ایک خاص دن جمعرات مقرر کیا ہوا ہے وہ ہر سرکاری و نجی دفاتر اور دکانداروں سے بھیک مانگنے کہ آتے ہیں اور وصول کرنے کی بھیک کی رقم بھی مقرر ہوتی ہے ۔۔۔۔۔ اور جو حقدار ہوتے ہیں وہ گھروں تک محدود رہتے ہیں اب آتے ہیں اس بابرکت مہینے میں سرعام سینکڑوں لوگ افطاریاں کروا رہے ہیں اور سخاوت کرنے کے انبار لگے ہوئے ہیں جی بالکل ایسا ہی ہے مگر وہ ان لوگوں کے لئے جو خود صاحب استعطات ہیں افطاری کی دعوت دی جاتی ہے یا مخصوص علاقے مقرر ہیں جہاں افطاری کا اہتمام ہوتا ہے مگر وہاں بھی امیر طبقہ پایا جاتا ہے نا کہ کوئی غریب شخص۔۔۔۔۔ ہم اپنا ناک رکھنے کے لئے مقابلے در مقابلے میں ہوٹلوں میرج حالوں یا ڈیروں میں افطاریاں جاری ہیں۔۔۔۔ ایک مرد بات سناتا ہے ایک جگہ افطاری کرنے کے لئے داخل ہوا مگر گن مین نے اندر جانت کے لئے منع کردیا جبکہ وہ روزے دار تھا اسے اندر جانے کی اجازت نہ دی گئی ہو جیسے کسی بن بلائے بارات میں باراتئے کو پہچان کر واپس بھیج دیا جاتا ہے ۔۔۔۔ ڈسکہ شہر کی بات کریں تو ایک عام آدمی افطاری کرنے ایسی حثیت نہیں رکھتا جس طرح افطار پارٹیاں کیں جاتیں ہیں۔۔۔۔ باقی رہی بات واقعی غریب کی مدد مختلف پہلو میں کی جارہی ہے جی نہیں۔۔۔۔ جتنے روپے ہم افطار پارٹیوں میں لگا رہے ہیں اللہ نیتوں کے بھیت خوب جانتا ہے اور اجروثواب بھی وہ خود دینے والا ہے۔۔۔۔ اگر ہم سیاسی افطار پارٹیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنے اپنے علاقے میں افطاری کا اہتمام کیا جائے اپنے علاقے اپنے علاقوں میں رہنے والے مستحقین افراد کا علم رکھیں کم از کم کوئی سحری اور افطاری کے بغیر سو نہ پائے۔ ۔۔۔ کچھ ایسی این جی اوز کے مالکان ہیں انہیں ایک دفتر کی طرح بتایا جاتا ہے سب ٹھیک ہے اسی طرح لاکھوں روپے خرچ کرنے والوں کو بتایا جاتا ہے سب ٹھیک ہے ۔۔۔۔ کبھی غریب کے ساتھ افطاری کرکے دیکھیں پھر احساس ہوگا۔۔۔ بحرکیف رمضان میں بڑھتی ہوئی بیکاری لوگ صدقہ خیرات فطرانے وصول کرنے میں زیادہ نکل پڑھتے ہیں ۔۔۔ ڈسکہ شہر میں فضولیات کو ختم کرکے ایماندار ٹیمیں تشکیل دی ہوں تو جتنا روپیہ رمضان میں خرچ ہوتا ہے ہر گھر خوشحالی سے عام لوگوں کی طرح روزے رکھ سکیں اور عید منائیں۔۔۔۔ مگر وہی بات یہاں سیاست ہے اور اسکے لئے من مرضی کے علاقوں میں راشن اور افطاریاں تقسیم ہوتیں ہیں۔۔۔ڈسکہ شہر کی آبادی تقریبا 300000 کے قریب ہے جس میں 75000 ہزار کے افراد انتہائی مفلسی کی زندگی گزار رہے ہیں اور ہر محلے کے کونسلر کو خوب علم ہوتا ہے کہ کون کون انتہائی مفلسی کی زندگی گزار رہے ہیں ۔۔۔ 75000 افراد تقریبا 40000 ہزار مکانوں میں رہتے ہیں کچھ مالک ہیں کچھ کرایہ دار۔۔ رمضان کے مہینے میں اگر فی گھر 15000 ہزار روپے کا راشن بجھوائیں تو وہ اچھے طریقے سے سحری افطاری کا اہتمام کرسکتے ہیں۔ اگر اتنے گھر کی خوشحالی تقریبا 60 لاکھ کے پیچھے چھپی ہے مگر وہ اب بھی مخیر حضرات کی خیرات سے محروم ہیں۔۔ جبکہ ایک اندازے کے مطابق ڈسکہ شہر میں مختلف مقامات پر سحری و افطار پارٹیوں کا حساب کیا جائے تو مل ملا کر کروڑوں روپے چھوٹی بڑی سحری اور افطار پارٹیاں ہوتیں ہیں۔۔۔۔ جو صرف اعلی شخصیات کو مدوع کیا جاتا ہے اور فوٹو سیکشن ہوتی ہے اجروثواب کی نیت دل میں ہرگز نہیں ہوتی۔۔۔۔ باقی رہ گئی کاروباری گداگر اسکی پہچان تقریبا ہر شہری جانتا ہے وہ تقریبا رمضان کے مہینے میں کروڑوں روپے کی رقم وہ بھی اکٹھی کرلیتے ہیں۔۔۔۔ یہاں سخاوت کم اور شرارت زیادہ دکھائی دیتی ہے ۔۔۔ مثال کے طور پر میں ہی ہوں افطاری کا اہتمام کرتا ہوں میں افطاری میں ان کو بلاوں گا جس کے ساتھ میرا کوئی تعلق واسطہ ہو دیگر کسی ایسے شخص پر میری نظر نہیں پڑے گی کہ میرے نزدیک رہنے والوں نے سحری یا افطاری کی ہے کہ نہیں۔۔۔۔