ام المومنین عائشہ صدیقہ منظوم کلام انتخاب اسماعیل یوسف

0
87

ام المومنین عائشہ صدیقہ منظوم کلام
انتخاب اسماعیل یوسف

سلام اے خانہ آرائے رسول دو جہاں تجھ پر
سلام اے جلوہ افروز حریم جاوداں تجھ پر

ابد تک مل گئی تجھ کو سیادت صنف نسواں کی
کہ جنت میں بھی تو ہو گی حرم ، محبوب یزداں کی

فلاح و خیر کی ، رشد و ہدایت کی ، امیں تو ہے
دلیل اس کی یہی کافی ہے ، ام المومنین تو ہے

کلام اللہ کی رو سے ہےصدیقہ لقب تیرا
فقط فرشی نہیں ، عرشی بھی کرتے ہیں ادب تیرا

تیری پاکیزگی پر نطق فطرت نے شہادت دی
تجھے عظمت عطا کی ، عافیت بخشی، فضیلت دی

اگر تیری سحر پر در رِدا پر داغ آ جاتا
خدا کا انتخابی فیصلہ مدتوش کہلاتا

لب الہام سے پایا حمیرا کا لقب تو نے
زبان حق سے انعام جلیلہ پائے ہیں تو نے

خدائے لم یزل کا بارہا تجھ کو سلام آیا
مبارک ہیں وہ لب جن پر ادب سے تیرا نام آیا

تیرا جوہر تھا حق گوئی ، تیرا شیوہ تھا حق بینی
تیری فطرت حیا پرور، تیری خو صبر آگینی

تیرا ہر اجتہاد افضل، تیری ہر بات تابندہ
تیری سیرت ہے قدوسی تیری توقیر پائندہ

شرف تیرے ڈوپٹے نے یہ جنگ بدر میں پایا
اسے پرچم بنا کر صادق مخبر نے لہرایا

بنات ملت بیضا نے سیکھا علم دین تجھ سے
خدا راضی تھا، اور راضی تھے ختم المرسلین تجھ سے

تیرا حجرہ امین خاص ہے ذات رسالت کا
بساط ارض پر ٹکڑا یہی ہے باغ جنت کا

اسی حجرے میں اکثر وحی اتری فخر عالم پر
تیرا حجرہ نہیں ، احساں ہے تاریخ آدمیت پر

اسی میں رحمت اللعالمین رہتے تھے ، رہتے ہیں
یہی حجرہ ہے ، جس کو گنبد خضرا بھہی کہتے ہیں

یہیں سے حشر کے دن سرور کونین اٹھیں گے
مگر تنہا نہیں اٹھیں گے ، مع شیخین اٹھیں گے

وہی شیخین جن سے ارتقائے دین اکرام ہے
کہ ایک صدیق اکبر ہے تو ایک فاروق اعظم ہے

شفاعت کی اسی رحمت کدے سے ابتدا ہو گی
اسی پر امتوں کی مغفرت کی انتہا ہو گی

تکلف برطرف ، ملت کی سچی محسنہ تو ہے
ہمیشہ حق پر جو قائم رہی ، وہ مومنہ تو ہے

ادب آموز انساں تھا ، ہر انداز میںہ تیرا
مسلم تھا صحابہ میں بھی فہم و فکر دیں تیرا

تیری فکر رسا شرعی مسائل میں مسلم تھی
نہ استنباط میں کم تھی ، نہ استخراج میں کم تھی

کسے معلوم تو نے مبداء فطرت سے کیا پایا
نگاہ پاک ، قلب مطمئن ، ذہن رسا پایا

تیری عظمت کا اندازہ یہ دنیا کر نہیں سکتی
کہ ادراک حقیقت عقل تنہا کر نہیں سکتی

چمن ہے دیں کا قائم تو رنگ و بو بھی باقی ہے
کتاب اللہ جب تک ہے جہاں میں ، تو بھی باقی ہے

تیری قبر منور پر سلام آثار قدرت کے
تیری روح مقدس پر درود انوار جنت کے

(مضطر گجراتی)

بشکریہ صاحبزادہ شاہ عبدالعزیز