پاکستانی سمندر میں تیل کی ڈرلنگ کیوں ناکام ہوئی ؟پس پردہ محرکات تجزیہ :سجاد اظہر

0
38

پاکستانی سمندر میں تیل کی ڈرلنگ کیوں ناکام ہوئی ؟پس پردہ محرکات
تجزیہ :سجاد اظہر
کیکڑا ون جس پر قوم کے 100 ملین ڈالر پھونک دیئے گئے اور جس کے بارے میں وزیراعظم پاکستان قوم کو سہانے خواب دکھاتے رہے وہ خواب اچانک کیوں بکھر گئے ؟کیا وہاں تیل واقعی نہیں تھا یا پھر حقیقت کچھ اور ہے ؟آیئے اس حقیقت کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں :
آج کی دنیا حیرت انگیز سائنس کی دنیا ہے جب بھی کہیں کوئی ڈرلنگ کی جاتی ہے ا س سے پہلے وہاں جدید ترین مشنری سے سروے کیا جاتا ہے ۔یہ سروے زمین کی نیچے کی پرتوں کو ایک ایکسرے ہوتا ہے جس میں تیل و گیس کے ذخائر کا با آسانی ماپا جا سکتا ہے تاہم اس کی کوالٹی کو اندازہ ڈرلنگ کے بعد ہی ہوتا ہے ۔اس لئے یہ کہنا کہ ایگزون موبل نے 100 ملین ڈالر کا ٹھیکہ لے کر جہاں دنیا کا دوسرا بڑا ڈرلنگ رگ لگایا وہ محض تخمینوں پر لگایا ہو گا یہ سراسر غلط ہے ۔وہاں تیل کے سو فیصد ذخائر ہیں مگر انہیں کسی بیرونی دباؤ کے تحت روک دیا گیا ۔یہ دباؤ کیا تھا ؟ کس کا تھا اور اس کے مقاصد کیا تھے اس کا جائزہ ہم ذیل میں لیتےہیں :
آج کی دنیا کو نہ امریکہ چلا رہا ہے نہ یورپ بلکہ اسے دو بڑے مافیا ڈرائیو کر رہے ہیں ۔ایک تیل کا مافیا ہے اور دوسرا ہتھیاروں کا ہے ۔ تیل کے بڑے ذخائر خلیجی ممالک میں ہیں مگر ان ذخائر کے اکثریتی شیئر امریکی اور یورپی کمپنیوں کے پاس ہیں ۔ یہ کمپنیاں ایسا شیطانی گٹھ جوڑ کر چکی ہیں کہ یہ فی الحال تیل کو اسی علاقے میں رکھ کر دنیا کو مہنگا بیچنا چاہتی ہیں اس لئے اگر دنیا کے دوسرے ممالک میں تیل نکل آیا تو خلیجکا مہنگا تیل کون خریدے گا ؟ یہ مافیا کتنا طاقتور ہے اس کا اندازہ اس سے کر لیں کہ خود امریکہ اپنے اندر کا تیل استعمال نہیں کر پا رہا اور وہ بھی خلیج سے مہنگا تیل خریدنے پر مجبور ہے ۔ امریکہ نے شیل تیل کے ذخائر کھولے تو اس مافیا نے تیل کی قیمت کو 145 ڈالر فی بیرل سے صرف 30 بیرل تک گرا دیا جس کے نتیجہ یہ نکلا کہ جن کمپنیوں نئ شیل گیس میں سرمایہ کاری کی تھی وہ دیوالیہ ہو گئیں کیونکہ شیل گیس نکالنے پر لاگت ہی 50 ڈالر فی بیرل آتی تھی ۔
کنیڈا نے مٹی کو صاف کر کے تیل نکالنا شروع کیا تو وہ سعودی عرب کے بعد تیل پیدا کرنے والا دوسرا بڑا ملک بن گیا مگر یہاں بھی لاگت زیادہ تھی چنانچہ اس مافیا نے کنیڈا کو بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ۔
صدر اوبامہ نے جب عہدہ سنبھالا تو انہیں جو پہلی بریفنگ دی گئی انہیں بتایا گیا کہ امریکہ متبادل انرجی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے جس دن ہم نے نئی انرجی دنیا میں متعارف کرا دی اس دن ہمارے وارے نیارے ہو جائیں گے اور امریکہ پر جو 14 کھرب ڈالر کا قرضہ ہے وہ بھی ادا ہو جائے گا مگر ابامہ آٹھ سال گزار گئے انہیں متبادل انرجی کی چابی نہیں ملی کیونکہ جن کمپنیوں کی تیل پر اجارہ داری تھی وہ اس تحقیق کو آگے نہیں بڑھنے دے رہی تھیں ۔شاید بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ امریکہ میں تحقیق بھی نجی شعبے کے پاس ہے اور نجی کمپنیاں ہی سرمایہ لگا کر نئی ٹیکنالوجی متعارف کراتی ہیں ۔آج سولر پینل 16 یا 18 فیصد پر کام کرتا ہے اگر یہ پینل 40 فیصد پر کام شروع کر دے تو دنیا سے بجلی کی تاریں گرڈ سٹیشن اور پاور ہاؤس غائب ہو جائیں تمام گاڑیاں سولر پاور پر شفٹ ہو جائیں ۔جرمنی کی ایک کمپنی نے دو سال پہلے 47 فیصد پر کامیاب تجربہ کیا مگر پھر اچانک اس کمپنی نے خود کو دیوالیہ قرار دے دیا اور یہ غائب ہو گئی ۔ ٹیسلا کمپنی جس نے بجلی سے چلنے والی گاڑیاں متعارف کرائیں اور جس نے کہا کہ وہ پوری دنیا کو سولر پر منتقل کر سکتی ہے اس پر آئے دن دیوالیہ ہونے کی تلوار لٹک رہی ہے ۔
پاکستان کے سمندر میں تیل نہ نکالنے کی ایک اور وجہ جیو سٹریٹجک ہے ۔پاکستان کو پچھلے دس سالوں سے قرضوں کے جال میں پھنسایا جا رہا ہے تاکہ اس کا ایٹمی پروگرام رول بیک کروایا جا سکے ۔روپے کی مسلسل گرتی ہوئی ساکھ اور عالمی اداروں کی جانب سے سخت شرائط کا مقصد بھی یہی ہے کہ ملک کو معاشی انارکی کی طرف لے جایا جائے ۔ان حالات میں یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تیل کی صورت پاکستان کے ہاتھ میں دس سے پندرہ ارب ڈالر سالانہ کی لاٹری دے دی جائے چنانچہ پہلے اگزون موبل کو کہا گیا کہ عالمی مارکیٹ میں ایرانی تیل کی کمی کو پورا کرنے کے لئے کیکڑا ون کھولیں لیکن پھر اچانک امریکہ اور تیل کی علاقائی قوتوں میں معاملات طے پا گئے اور ایگزون موبل کو نتایج روک دینے کا آرڈر دے دیا گیا ۔
جب کیکڑا ون پر سیدھی ڈرلنگ روک کر عمودی ڈرلنگ شروع کی گئی تھی اسی دن سے واقفان حال سمجھنے لگے تھے کہ دال میں کچھ کالا ہے کیونکہ آج سے دس سال پہلے پنڈی گھیب میں رتانہ ون نامی رگ لگایا گیا تو یہاں اعلان تک کر دیا گیا کہ ایشیا کا سب سے بڑا تیل کا ذخیرہ نکل آیا ہے ۔ تیل اور گیس کا پریشر اتنا تھا کہ رگ کے سیفٹی والو تک پھٹ گئے گاؤں خالی کرانے کے آرڈر تک آ گئے ۔پھر امریکہ سے ہائی پریشر والو خصوصی آرڈر پر بنوائے گئے ۔ محدود پیمانے پر سپلائی بھی شروع کر دی گئی اوریہاں سے تیل ریفائنری تک لے جانے کے لئے پائپ لائن بھی بچھ گئی مگر دو سال بعد اس کنویں کو جہاں ایشیا کے سب سے بڑے ذخائر موجود تھے اچانک بند کر دیا گیا ۔ یہ بات بھی سوچنے کی ہے کہ امریکی اور یورپی کمپنیاں اور ان کے ساتھ پاکستانی کمپنیاں جو ڈرلنگ کرتی ہیں وہ ناکام کیوں ہوتی ہے اور چینی کمپنیاں جو ڈرلنگ کر رہی ہیں ان میں کامیابی کا تناسب کیوں زیادہ ہے ؟
کیکڑا ون میں تیل کے وسیع ذخائر موجود ہیں اوراس حوالے سے وزیر اعظم پاکستان کو جو خواب دکھائے جاتے رہے وہ بھی سو فیصد ٹھیک تھے مگر ایسے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ قوتیں پاکستان کو مضبوط نہیں کمزور دیکھنا چاہتی ہیں ۔اور یہ قوتیں پاکستان میں ہر اہم جگہ پر براجمان ہیں ۔ہمیں اپنی منجھی کے نیچے ڈانگ پھیرنے کی ضرورت ہے ۔