ڈسکہ۔۔۔سستا رمضان بازار میں انتظامیہ کی جانب سے ناقص انتظامات ۔۔ دکانداروں اور شہریوں کی شکایات کے انبار

0
106

ڈسکہ۔۔۔سستا رمضان بازار میں انتظامیہ کی جانب سے ناقص انتظامات ۔۔ دکانداروں اور شہریوں کی شکایات کے انبار

سیالکوٹ (سلطان نیوز آن لائن) ۔۔۔ رمضان بازار ڈسکہ ۔۔۔۔ ن لیگ کی طرف سے جاری کردہ ہر سال رمضان بازار کی روایات کو قائم رکھتے ہوئے پی ٹی آئی کی حکومت نے پنجاب بھر میں سستے بازار کا اسی انداز میں انتظامیہ کو ہر ضلع تحصیل ٹاون میں لگانے سستے رمضان بازار لگانے کا عندیہ دیا۔۔۔۔ (پی ٹی آئی) پنجاب حکومت کے حکم کے پیش نظر انتظامیہ نے ہر شہر میں سستے بازار قائم کئے ۔۔۔ جس کی مانٹرینگ ضلعی لیول پر ڈی سی کررہے ہیں ۔۔۔ سستے رمضان بازار میں نظام کو بہتر کرنے اور عوام کو تمام سہولیات مہیا کرنے کے لئے محکمہ صحت سمیت کئی ادارے اپنا کام سرانجام دے رہے ہیں۔۔۔۔ سستا رمضان بازار ہے کیا اسکی افادیت کس کو حاصل ہوتی ہے آفسران بالا یا عوام کو یہ فیصلہ ہم عوام پر ہی چھوڑتے ہیں وہ حقائق جانتے اور دیکھتے ہیں ہمارے منصبی میں شامل ہے کہ ہم عوام الناس اور صاحب اقتدار کو اصل زمینی حقائق سے آگاہ کرنا۔۔۔ ڈسکہ میں سب سے پہلے بات کرتے ہیں جہاں شہریوں کے جمے غفیر ہونے کا علم ہو وہاں سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شہریوں کی حفاظت کے لئے سیکیورٹی کے بہتر سے بہتر انتظامات کئے جاتے ہیں تاکہ کوئی ناخوشگوار واقع پیش نہ آئے جو پچھلے دنوں ایک وزیر صاحب کے وزٹ کرنے پر صحافیوں نے سوال کیا کہ رمضان بازار میں امن و امان قائم رکھنے کے لئے کوئی سیکیورٹی کا بہتر انتظام نہیں جبکہ ملک میں دو تین جگہ دہشت گردی واقعات رونما ہوچکے ہیں ۔۔۔۔۔ جواب صرف۔۔۔۔ ڈسکہ میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ رمضان بازار کا احاطہ مشن سکول سے لیکر بنگلہ چوک تک ہوا کرتا تھا اور بازار کے اندر دونوں اطراف میں اسثال لگے ہوا کرتے تھے اس دفعہ رمضان بازار کا احاطہ بھی تقریبا آدھی جگہ پر محدود ہے اور اسٹال بھی دونوں طرف کی بجائے ایک طرف سجائے گئے ہیں۔۔ رمضان بازار ڈسکہ میں ضروریات زندگی کی تمام اشیاء کے اسٹال لگے ہوئے ہیں جن میں دالیں سبزیاں فروٹ گوشت وغیرہ شامل ہیں ۔۔ اسکے علاوہ پنجاب حکومت آٹے کا دس کلو کا ٹھیکہ سبسڈی پر دے رہی ہے جس کی تقریبا 10 کلو آٹے کی قیمت 250 روپے مقرر کئے ہوئے ہیں مگر آٹے کا معیار وہ بہتر بتا سکتے ہیں جو خرید رہے ہیں اسی طرح چینی بھی حکومت پنجاب کی طرف سے فروخت ہورہی ہے مگر وہ بھی اپنا علیحدہ ہی معیار رکھتی ہے۔۔۔۔۔ عوام کا رجحان رمضان بازار سے روزہ مرہ کی اشیاء خریدنے کا رجحان بہت کم دکھائی دیا ہے ۔ لوگوں کا کہنا ہے رمضان بازار میں اکثر اشیاء معیار کے حوالے سے بالکل ناقص ہے اور بازار سے قیمت میں اتنا فرق نہیں کہ رمضان بازار کا رخ کیا جائے۔۔۔ لوگوں کا کہنا ہے رمضان بازار میں سامان ناقص ہے ہی مگر صفائی ستھرائی کا نظام دکھائی نہیں دیتا ۔۔۔ رمضان بازار کے ارد گرد تمبو اور کھار دار تاریں لگائی ہوئی ہیں اسکے باوجود لوگ گندگی کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں۔۔۔ در حقیقت ہم اس موضوع پر جتنی بھی بات کر لیں کم ہے اس مقصد بات کے حصول کا ہے ۔۔۔ اس دفعہ رمضان بازار کے حوالے سے کوئی حکومت کو کوئی خاص پذیرائی حاصل نہیں ہوئی جس کی وجہ انتظامیہ کی ناقص پالیسیاں ہیں ۔۔۔ رمضان بازار سے ایک عام آدمی کو تو فائدہ حاصل نہیں البتہ انتظامیہ کے آفسران بالا اس سے مستفید ضرور ہوں گے۔۔۔۔ رمضان بازار عوام سے ایک دھوکا ہے اور کچھ بھی نہیں ۔۔۔۔ رمضان بازار کی بجائے مہنگائی پر کنٹرول کیا جاسکتا ۔۔۔ دکانداروں کو روزہ مرہ کی اشیاء میں سبسڈی دی جاتی جس کا طریقہ کار مل مالکان خوردونوش کی اشیاء پر ٹیکس ختم کیا جاتا ۔۔۔ فروٹ منڈیوں اور سبزی منڈیوں میں مالکان سامان مہیا کرنے والوں کو سبسڈی دی جاتی ۔۔ رمضان بازار میں لگانے والوں کا کہنا ہے اطراف میں تمبو اور اوپر سائبان لگانے سے کافی حبس بڑھ چکی ہے لوگوں کا ہجوم ہے تو نہیں ہوتا مگر تو کئی لوگ گرمی کی وچہ سے بے ہوش ہوجاتے متعدد بار انتظامیہ کو پنکھے کے لئے لکھوایا ہے تاکہ اندرون ٹھنڈک رہے مگر کوئی پرسان حال نہیں انتظامیہ نے اپنے چند حواریوں کو پنکھے جاری کئے ہیں۔۔پنکھے نہ ہونے کہ وجہ سے ایک تو گرمی بہت زیادہ اور مکھیوں کا مسلسل اشاء پر بیٹھا رہنا نقصان دہ ہے۔۔ دکانداروں سے آج انتظامیہ کے حوالے سے پوچھا گیا تو کہ وہ یہاں نگرانی نہیں کرتے دکاندارواں کا کہنا تھا آج کیا کئی روز سے انتظامیہ کا کوئی آفیسر کیا اسسٹنٹ کمشنر ڈسکہ تشریف لانے کی ڑحمت نہیں کی۔۔۔۔نے رمضان بازار مجسٹریٹ پرائس کنٹرول اپنے فرائض منصبی بجائے چالان ٹارگٹ پورا کرنے کے ادا کرتے روز مرہ کی بنیاد بہتری آتی اور مہنگائی کو کنٹرول کیا جاسکتا تھا مگر۔۔۔ ایک عام شہری کے لئے رمضان بازار دھوکے کے علاوہ کچھ نہیں رمضان بازار میں اشیا کے اسٹال لگانے والوں کی شکایات۔۔ رمضان بازار میں لگانے والوں کا کہنا ہے اطراف میں تمبو اور اوپر سائبان لگانے سے کافی حبس بڑھ چکی ہے لوگوں کا ہجوم ہے تو نہیں ہوتا مگر تو کئی لوگ گرمی کی وچہ سے بے ہوش ہوجاتے متعدد بار انتظامیہ کو پنکھے کے لئے لکھوایا ہے تاکہ اندرون ٹھنڈک رہے مگر کوئی پرسان حال نہیں انتظامیہ نے اپنے چند حواریوں کو پنکھے جاری کئے ہیں۔۔پنکھے نہ ہونے کہ وجہ سے ایک تو گرمی بہت زیادہ اور مکھیوں کا مسلسل اشاء پر بیٹھا رہنا نقصان دہ ہے۔۔ دکانداروں سے آج انتظامیہ کے حوالے سے پوچھا گیا تو کہ وہ یہاں نگرانی نہیں کرتے دکاندارواں کا کہنا تھا آج کیا کئی روز سے انتظامیہ کا کوئی آفیسر کیا اسسٹنٹ کمشنر ڈسکہ تشریف لانے کی زحمت نہیں کی۔۔۔۔

رپورٹ رانا عاشق علی بیورو چیف سیالکوٹ