تلاوت قرآن کا ثواب بجا۔۔مگر دین اسلام کی قیادت کہاں۔۔۔مظہر اقبال کے خیالات درست مگر بشیر کوکب کی آراء محکم۔۔۔۔۔۔..دلچسپ اور بحث طلب کالم۔۔۔۔سلطان نیوزپر۔۔۔۔

0
57

تلاوت قرآن کا ثواب بجا۔۔مگر دین اسلام کی قیادت کہاں۔۔۔مظہر اقبال کے خیالات درست مگر بشیر کوکب کی آراء محکم۔۔۔۔۔۔..دلچسپ اور بحث طلب کالم۔۔۔۔سلطان نیوزپر۔۔۔۔

بلا شبہ مدارس کی قرآن و سنت اور اسلامی علوم و فنوں کی تعلیم اشاعت تدوین و ترویج میں بےپناہ خدمات ھیں جن کا اظہار رمضان المبارک، نماز تراویح، نماز باجماعت پنجگانہ، نماز جمعتہ المبارک، عید الفطر، عید البقر،شادی کی تقریب نکاح خوانی،ختم شریف، قل شریف۔، غسل میت اور نماز جنازہ میں دیکھنے میں آتا ھے۔۔مگر
مگر المیہ یہ ھے کہ جو تھوڑا بہت قران پاک و سنت مبارکہ کا علم و شعور ھم نے ھاصل کیا ھے اس میں بلا شبہ ان تمام عبادات کی بنیادی اھمیت ھے لیکن جو اسلام کے نظام حیات کی عمارت اور معاشرت، تہذیب و ثقافت، معشیت و تجارت، عدالت و انصاف،تھانہ و کچہری، منڈی و بازار، میزان عدل و انصاف، سیاست و سیادت، ریاست کا انتظام و انصرام اور نظام حکومت اسلام کرنا چاھتا ھے تا کہ اللہ کی کبریائی اور حاکمیت قائم ھو اور اللہ وحدہ لاشریک کے بندوں کو زندگی کی بنیادی انسانی ضروریآت میسر آ سکیں۔۔
انسان کو اپنے لیئے اور اپنے بچوں کے کیئے ملاوٹ سے پاک صاف ستھری روٹی پانی دودھ آٹا مل سکے۔۔
اھل و عیال کےلیئے تن ڈھاپنے کو کپڑا، رھنے کے لیئے چھت مکان، علم و شعور کے لیئے تعلیم وتربیت، ذکھ درد سے نجات کے لیئے شافی خالص دوائی دارو اور علاج،
روٹی پکانے کے لیئے ایندھن لکڑی تیل گیس
رات کو پڑھنے امتحان کی تیاری مریض کی تیمار ساری کے لیئے روشنی ایندھن بجلی میسر آ سکے۔۔
محنت مزدوری سے تھکا ھارا مزدور رات کو گرمی جھاڑے برسات میں مچھروں سے بچ کر آرام کی نیند سو سکے اور صبح کی محنت مشققت اور رزق حلال کے لیئے تازہ دم ھو سکے۔۔
ان سارے معاملات کو جو مشینری اور حکومت چلاتی ھے۔۔
اس ساری حکومت انتظامیہ مقننہ، کابینہ،عدلیہ، فوج، ایجنسی،پولیس تھانہ کچہری،منڈی بازار،کھیت کھلیان باغ،گلی کوچے میں کوئی مولوی صاحب، حافظ صاحب،قاری صاحب،مفتی صاحب نظر نہیں آتے۔۔؟
اور نہ ھی مدرسہ صاحب کا تیار کیا ھواء کوئی دیانتدار حکمران،صدر، وزیر اعظم، سپیکر،وزیر بےتدبیر، چیف جسٹس، جج، سپیہ سالار، چیف آف آرمی سٹاف، جنرل کرنل،آئی جی ڈی آئی جی، انسپکٹر، چانسلر،
پرنسپل نظر آتا ھے۔۔
سوال ہیدا ھوتا ھے خی آخر اس کی کیا وجہ ھے۔۔؟؟
کہ اسلام میں قرآن و سنت کی جو تعلیمات ھدایات اور احکامات نازل ھوئے ھیں اس میں مولوی صاحب حافظ صاحب اور قاری ضاحب جیسے نیک بندوں کے لیئے مسجد و مدرسہ میں آذان و اقامت و امامت،نکاح طلاق، غسل میت،جنازہ،قل،دعائے خیر اور ختم شریف، عرس شریف اور مجالس و مناظرے کا حکم آیا ھے اور باقی دنیا کے انتظام و انصرام کے لیئے نواز شریف، زرداری، پرویز مشرف،الطاف حسین، ان کی آل اولاد اور آئیندہ نسلوں بلاول بھٹو زرداری، حمزہ شہباز،عمران خان جیسے لوگوں کے نام ھکم آیا ھے۔۔۔؟؟
ریکارڈ درست کر لیجیئے کہ مروجہ مدراہ سسٹم یہود و نصاری نے یعنی انگریزوں نے برصغیر میں آنے کے بعد 1782ء میں کلکتہ میں شروع کیا اور پھر اس کے بعد دیو بند، بریلی،ندوہ العلماء کے مدارس قائم ھوئے پھر یہیں سے دیوبندی بریلوی وغیرہ کا لاعلاج مرض شروع ھوآ جس نے رھی سہی امت مسلمہ کے بخیئے ادھیڑ کر رکھ دیئے۔۔ افتراق و انتشار فرقہ پرستی مذھبی مسلکی گروہ بندی کی عصبیتوں کی لعنت نے ملت مرحومہ کا شیرازی بکھیر دیا اور پھر جنازہ نکال کے رکھ دیا۔۔
الامان الحفیظ ۔۔

ایمان اور ضمیر کی کوئی رمق اور رتی بھر غیرت ا حمیت ھے تو سوچیئے اور جواب دیجیئے۔۔۔۔؟؟

حق اور سچ تو یہ ھے کہ اکثر علماء مشائخ پیروں ولیوں، مولوی، حفاظ اور قراء حضرات فرقہ پرستی مذھبی مسلکی گروہ بندی لسانی نسلی علاقائی عصبیتوں کی دلدل میں پھنسےرھے فرقہ وارانہ عصبیتوں اور مناظرہ بازی فتوے بازی کے جھل عارفانہ کا شکار ھونے کی وجہ سے قران و سنت حدیث کی روح کو نہ سمجھ سکے اور اسلام کے سرچشمہ فیض سے سیراب نی ھو سکے۔۔
بنی اسرائیل کے علمائے سوء کی طرح کٹ حتیوں اور ضد نے دین اسلام کی حقانیت سے محروم رکھا۔۔
وارثان انبیاء کا منصب جلیلہ پر فائز ھونے باوجود اپنے مشن سے بابلد و نا آشنا رھے۔۔
اکثر علماء و مشائخ خود بھی گمراہ ھوئےاور اللہ کے بندوں کو بھی گمراھی و بےراہ روی کا شکار ھونے دیا۔۔ قرآن و سنت کی بجائے خرافات میں امت کو الجھائے رکھا اور حق ق سچ کو چھپاتے رھے۔۔
مسلسل کتمان حق کے نتیجے کے طور پر اللہ تعالی نے انسانوں کی قیادت و سیادت علمائے کرام خے ھاتھ سے چھین کی اور ان کی بجائے فساق و فجار کے ھاتھ میں دے دی اور دنیا کی امامت تبدیل کر دی اور علماء و مشائخ ہیروں فقیروں کو ان کے ٹکڑوں پر پلنے کے لیئے چھوڑ دیا۔۔