پاکستان تعلیمی نظام بارے۔۔۔۔۔۔۔مورخ لکھے گا۔۔۔۔۔حکومتی پالیسیوں پر تنقیدی کالم۔۔۔۔۔سلطان نیوز پر۔۔۔۔انتخاب۔۔۔امتیاز شیخ

0
66

پاکستان تعلیمی نظام بارے۔۔۔۔۔۔۔مورخ لکھے گا۔۔۔۔۔حکومتی پالیسیوں پر تنقیدی کالم۔۔۔۔۔سلطان نیوز پر۔۔۔۔انتخاب۔۔۔امتیاز شیخ

مورخ لکھے گا کہ ایک قوم ایسی تھی صفر نمبر والے کو بھی پاس کرتی تھی اور پہلی پوزیشن والے کو بھی پاس کرتی تھی ۔

اور یہ بھی لکھے گا کہ اس قوم میں امیروں کے بچے 3 سال بعد اول جماعت میں ترقی پاتے تھے اور غریبوں کے بچے محض ایک سال سے بھی قلیل عرسے میں اول جماعت میں ترقی ہوتی تھی ۔

مورخ لکھے گا کہ امیروں کے بچے سکولوں سے نام خارج کرانے کا حق رکھتے تھے مگر غریب کے بچوں پر تعلیم مکمل کرنا لازم تھا۔ بیشک وہ نام داخل کرانے کے بعد پوری زندگی سکول نا آیا ہو

مئورخ یہ بھی لکھے گا کہ سکولوں کی ایک قسم میں بچوں کو کتابیں کاپیاں اور باقی لوازمات مفت ملتے تھے جبکہ دوسری قسم میں بچوں سے 20 روپے فیس لی جاتی تھی اور کتابیں بھی چند طالب علموں کو دے کر احسان عظیم کر کے باقی سب والدین کے ذمہ لگایا جاتا تھا ۔

مئورخ لکھے گا کہ 4 سال بین الاقوامی زبان میں تدریس کرنے کے بعد پانچویں سال پرچہ قومی زبان میں لیا جاتا تھا۔

وہ لکھے گا کہ سکولوں کو اپنی ضروریات کا سامان لینے کے لئے گورنمنٹ فنڈ دیتی تھی اور پھر ایسا لائحہ عمل بناتی تھی کے وہ ٹیکس کی صورت میں واپس وصول کر لیتی تھی ۔

مئورخ یہ بھی لکھے گا کہ کسی بھی علاقے میں پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد کا تعین بھی گورنمنٹ خود طے کرتی تھی کہ اس علاقے میں اتنے بچے پیدا ہونے ہیں اگر کم پیدا ہوئے تو سزا سکول کے اساتذہ کو ملتی تھی۔

مئورخ لکھے گا کہ ایم اے ۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی اساتذہ کو میٹرک اور مڈل پاس افیسرز چیک کرنے آتے تھے اور ان کی رپورٹ حتمی مانی جاتی تھی ۔

مئورخ کی یہ تمام باتیں جب یونان یورپ اور مغربی ممالک کے فلسفیوں اور ماہرین تک پہنچیں گی تو وہ اس قوم پر رشک کرینگے اور اس قوم کی علمی اور عقلی صلاحیتوں پر اپنا سر دھنتے رہ جائیں گے.