اشتیاق احمد ۔۔۔ ایک مختصر تعارف انتخاب سیف اللہ صدیقی

0
73

اشتیاق احمد ۔۔۔ ایک مختصر تعارف

انتخاب سیف اللہ صدیقی احمد پور سیال

اردو ادب میں اشتیاق احمد کا وہی مقام ہے جو انگریزی ادب میں اینڈ بلائیٹن کا ہے۔ اشتیاق احمد نے ساٹھ کی دہائی میں لکھنا شروع کیا اور دو سال قبل اپنی وفات تک آٹھ سو ناول لکھے۔ بچوں کیلئے کہانیوں اور دیگر ناولٹ اس کے علاوہ ہیں۔ اشتیاق احمد کی مقبول ترین انسپکٹر جمشید سیریز کا اولین ناول ۲۷۹۱ میں شائع ہوا۔ ان کے کرداروں محمود فاروق فرزانہ اور انسپکٹر جمشید سے پاکستان کے بچے خوب واقف ہیں۔ اشتیاق احمد نے بچوں کیلئے مہم جوئی اور حب الوطنی کے جذبات ابھارنے والے ناول تخلیق کیے۔
پاکستان بننے کے بعد بچوں کے لیے لکھنے والوں میں عزیز اثری، جبار توقیر، سعید لخت، کمال احمد رضوی، سراج انور، لطیف فاروقی، عشرت رحمانی، شیدا کاشمیری کے علاوہ چند ایک ہی نام ایسے تھے جو طبع زاد لکھا کرتے تھے… عصمت چغتائی، حسینہ معین، انتظار حسین، شوکت تھانوی، کرشن چندر، احمد ندیم قاسمی نے بھی بچوں کے لئے لکھا… لیکن بہت ہی کم… ان کے علاوہ زیادہ تر لکھنے والوں نے غیرملکی ادب سے استفادہ کیا… کہیں براہِ راست ترجمے ہوئے… کہیں کرداروں کے نام مقامی ناموں سے تبدیل کیے گئے… اور کہیں مرکزی خیال ماخوذ قرار پایا… مارک ٹوئین، آرتھر کونن ڈائل، رائیڈرز ہیگرڈ کے شہرہئ آفاق ناولوں کے ترجمے شائع ہوئے۔… کرداروں اور مقامات کو مقامی رنگ دے کر پیش کرنے کیلئے خاص طور پر اینڈ بلائیٹن، فریکلن ڈبلیو ڈکسن، ولرڈ پرائس، وینڈی کوپر کے ناولوں کو مشرف بہ اردو کیا گیا… مہم جوئی اور سراغ رسانی کے کارناموں سے بھرپور، انگریزی ناولوں سے ماخوذ یہ کتابیں بچوں میں بہت مقبول ہوئیں… اصل ناول تو شاہکار تھے ہی، لیکن ان کو اردو کے قالب میں ڈھالنے والوں نے بھی کمال کر دکھایا…
حقیقت یہ ہے کہ اشتیاق احمد سے پہلے ہمارے ہاں بچوں کا طبع زاد ادب مچھلیوں، خرگوشوں، بندروں، جل پریوں اور کچھ حد تک ”سبق آموز“ معاشرتی قصے کہانیوں تک ہی محدود رہا۔ کسی حد تک اس محدودیت کے تانے بانے معاشرے کے سماجی ارتقا، شہری طرز زندگی کے پھیلاؤ، اور جدید علوم کے درجہئ قبولیت یا عدم قبولیت سے بھی ملتے ہیں۔ آج تقریباً چالیس برس بعد آپ لاکھ سر مار لیجئے… لاکھ فلسفے تراشئے… موشگافیاں کیجئے… کہ اشتیاق احمد کے ناول کیسے دل و دماغ پر حاوی ہوگئے تھے… کیوں بچے ان کرداروں میں اٹھنے بیٹھنے سونے جاگنے اور خواب دیکھنے لگے تھے… دراصل اشتیاق احمد کے کردار اپنے ماحول سے کٹ کٹا کر صرف مجرموں کی تلاش میں سرگرداں نہیں رہتے۔ وہ غریبوں اور بے سہارا لوگوں کی مدد بھی کرتے نظر آتے ہیں… اور جرم کی سماجی اور یہاں تک کہ سیاسی جڑوں کو بھی زیرِ بحث لاتے ہیں۔ اشتیاق احمد کی تحریروں میں آپ کو اطراف کی دنیا اس حد تک حقیقی محسوس ہوتی ہے کہ ان کے ناول ”3D“ کی حدود چھوتے نظر آتے ہیں… اشتیاق احمد کے ہاں موضوعات کی کمی نہیں ہے۔ ان کے ناول کا مجرم جگا ڈاکو بھی ہے اور جارج بش بھی۔ قصبے اور محلے کے قبضہ گروپوں اور منشیات فروش ہوں یا بین الاقوامی سیاست کے گھس بیٹھئے… کوئی بھی ان کے قلم کی پہنچ سے دور نہیں ہے… اشتیاق احمد کے قلم کے ہاتھ بہت لمبے ہیں۔ یہ بھی اشتیاق احمد کا طرہئ امتیاز ہے کہ بچوں کے ادب میں ان سے پہلے کسی نے بھی بین الاقوامی سازشوں کو ناولوں کا موضوع نہیں بنایا۔ تحیر، تجسس، سنسنی خیزی اور مہم جوئی سے بھرپور نت نئے موضوعات کے اس بے مثال انضمام سے دلچسپی کا جو رنگارنگ آمیزہ تیار ہوتا ہے، اس کا ذائقہ اس قدر پرلطف ہوتا ہے کہ اشتیاق احمد کا لکھا جو ایک بار پڑھ لے تو بار بار اسی ذائقے کا تقاضہ کرتا ہے… اور اسی لطف کی چاٹ اسے اشتیاق احمد کے ناول پڑھتے رہنے پر مجبور کرتی ہے۔ کوئی شک نہیں کہ ان کے پائے کا تو کیا…کوئی ایسا بھی نہیں جو فی زمانہ ان کی گرد کو بھی چھو سکے… یہ بھی سچ ہے کہ اشتیاق احمد کی پہچان ان کے جرم و سزا پر مبنی جاسوسی ناول ہیں… لیکن نقادوں کی رائے میں جرم و سزا کے موضوع پر صرف وہی اچھا لکھ سکتا ہے اور قبولِ عام کی سند پا سکتا ہے جو ایک اعلیٰ پائے کا افسانہ نگار بھی ہو… اور اگر شاعر ہو تو کیا ہی بات ہے۔ تخیل پردازی، حساسیت، اور دردمندی… افسانہ نگاری کے بنیادی درکار اوصاف ہیں… یہی سبب ہے کہ ان گنت جاسوسی ناول نگار آئے، لیکن شہرتِ دوام صرف ابن صفی نے پائی… اور پھر اشتیاق احمد نے… ابن صفی اعلیٰ پائے کے شاعر اور افسانہ نگار… اور اشتیاق احمد بھی افسانے کے میدان کے مایہئ ناز آل راؤنڈر… یہ آل راؤنڈری اور کسی کے نصیب نہیں ہوئی۔ وقتی ذہنی تفریح یا ذہنی عیاشی فراہم کرنے والے جاسوسی ناول نگار شاید ایک نسل کے پڑھنے والوں میں تو اپنی پسندیدگی برقرار رکھ سکتے ہوں لیکن شہرتِ دوام اور لازوال مقبولیت اگر کسی شے کا نام ہے تو… وہ یہ ہے کہ تین نسلیں اشتیاق احمد کے ناولوں کی گرویدہ ہیں… اور کون جانتا ہے کہ ابھی نہ جانے… آنے والی کتنی ہی نسلیں اتنی ہی شدت سے ان کے ناولوں کی شیدائی کہلائیں گی۔
سّری ادب کو اشتیاق احمد نے بھی ایک نئی جہت عطا کی ہے… اور وہ جہت یہ کہ ان کے سراغرساں ”فیملی مین“ ہیں۔ اردو میں تو دور کی بات، انگریزی ادب میں بھی ہمیں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی جہاں سراغرساں کا کوئی اپنا بھی گھرانہ ہو… اور نہ ایسی کوئی مثال کہ جہاں گھرانہ ہونے کے باوجود وہ اس کا ایک لازمی جزو بھی ہو… یعنی سراغرساں یا تو بے گھرانہ شخصیت ہوتا تھا یا پھر بے گھر… اور لازمی طور پر کنوارہ بھی… عام تصور یہی تھا کہ شادی ہو جانے کے بعد سراغرساں کو دھول دھپا چھوڑ کر سبزی ترکاری کی ٹوکری سنبھال لینی چاہیئے کیونکہ بطور ایک ذمے دار انسان یہ اس کا فرض ہے کہ ترجیحی توجہ وہ اپنے گھرانے پر مرکوز رکھے اور اپنے بچوں کو ایک اچھا انسان بنانے کے مقصد کو اپنی زندگی کا محور ٹھہرائے… اور اس فرض کی بجا آوری کی خاطر وہ سراغ رسانی کی زندگی کو خیرباد کہہ ڈالے… وہ اس لئے کہ سراغ رسانی کی ذمہ داریاں اسے اپنی گھریلو ذمے داریاں پر خاطر خواہ توجہ دینے کے لائق نہیں چھوڑیں گی۔ حالانکہ اس کے برعکس، حقیقی زندگی کے جاسوس اور سراغرساں بیک وقت یہ دونوں فرائض انجام دیتے نظر آتے ہیں… جاسوسی ناولوں میں عام طور پر شادی شدہ انٹلیجنس افسران کا مذاق اڑایا جاتا ہے یا پھر سینیئرجھکی افسران کے کردار میں پیش کیا جاتا ہے۔ اس طرح یہ ظاہر کرنا مدِنظر ہوتا ہے کہ ایکشن اور ذہنی جمناسٹک ”فیملی مین“ کے بس کا روگ نہیں ہے۔ یہ تو واضح نہیں کہ کنوارے سراغ رساں کے تصور کے تانے بانے یونانی دیومالائی ہرکولیس قسم کے کرداروں سے ملتے ہیں یا پھر۰۴۹۱اور ۰۵۹۱کی دہائی میں بننے والی ہالی وڈ کی فلموں کی اس روایت سے مستعار ہیں کہ ہیرو کو بہر صورت نوجوان اور کنوارہ ہی ہونا چاہیئے۔
اس تصور کو تبدیل کرنے کا سہرا بھی اشتیاق احمد کے سر ہے… انقلابی طور پر ان کے جاسوسی ناولوں کے کردار حقیقی زندگی کے فیملی مین ہیں… وہ حقیقی زندگی کے سراغرسانوں کی طرح بیک وقت اپنی پیشہ ورانہ اور گھریلو ذمے داریاں نبھاتے نظر آتے ہیں۔ وہ بیک وقت سراغرساں بھی ہیں اور باپ بھی… انسپکٹرجمشید اور انسپکٹر کامران مرزا نہ تو بطور سربراہِ خاندان اپنے فرائض سے غافل ہیں اور نہ بحیثیت سراغ رساں اپنی پیشہ ورانہ ذمے داریوں سے بے خبر… بلکہ وہ اپنی سراغ رسانی کی مہمات میں اپنے بچوں کو بھی ساتھ ہی شریک رکھتے ہیں اور اس دوران ان کی اس اخلاقی تربیت کا بھی سامان کرتے رہتے ہیں جو باپ کی حیثیت میں ان کے فرض ہے۔ یہ واقعی ایک نوبل آئیڈیا ہے جس کی مثال اس سے پہلے کہیں نہیں ملتی… اب کوئی چاہے تو اسے سری ادب کی ذیلی صنف یعنی اشتیاق نگاری کے نام سے بھی پکار سکتا ہے… کیونکہ سری ادب میں جدت کی یہ نئی راہ اشتیاق احمد نے ہی متعین کی ہے۔ اظہر المن الشمس ہے کہ بچوں کے سّری فکشن کے ساتھ ساتھ بچوں کے ادب کی ہر صنف میں اشتیاق احمد کی چھاپ سب سے زیادہ گہری، نمایاں اور غالب ہے۔ بچوں کے لئے اشتیاق احمد نے ہر طرح کی کہانیاں اور ناول لکھے ہیں۔ ان کہانیوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔
کہا جاتا ہے کہ کسی بھی کہانی کے مقبولِ عام ہونے کے لئے یہ شرط اولین ہے کہ قاری یا ناظر اس کے کرداروں اور ماحول سے انسیت محسوس کرے… کہانی کے کردار نہ صرف اسے حقیقت سے قریب تر معلوم ہوں بلکہ کردار جس ماحول میں جیتے جاگتے ہوں، وہ ماحول پڑھنے والے کو اپنا اپنا سا لگے… کرداروں کے معمولات ِ زندگی حقیقی ماحول سے قریب تر ہوں۔ اشتیاق احمد کی کردار نگاری اس اصول کی پاسداری کرتی دکھائی دیتی ہے۔ مشہور سراغرسانوں کے گھرانے ہونے کے باوجود اور ملک کے اعلیٰ ترین حلقوں تک رسائی کے باوجود ان کے کرداروں کے گھر کا ماحول محیر العقل نہیں ہے… عام سے سیدھے سادے مڈل کلاس گھرانے جیسے ہمارے معاشرے میں ہوتے ہیں… بچوں کے ڈسپلن اور تعلیم پر والدین کی گہری نظر… بچوں کے معمولات سے آگاہی… شام کو پارک میں جا کر پڑھنا، والدہ کا گھر کے کام کاج میں مصروف رہنا، چھوٹی بہن کا بھائیوں کی ٹوہ میں رہنا، بھائیوں کی اپنی بہن سے اپنے راز چھپانے کی ناکام کوشش کرنا، بہن کا بھائیوں کو ڈرانا کہ مجھے اپنے ساتھ شامل نہ رکھا تو اباجان اور امی جان کے پاس جاکر بھانڈا پھوڑ دوں گی، شام کی چائے پر بچوں کا والدہ کے ساتھ گپ شپ کرتے ہوئے والد کی آمد کا انتظار کرنا اور پھر بچوں کی آپس کی نوک جھونک کی وارداتیں، والد کے دلچسپ اور بے تکلف دوستوں کے گھرانوں کا ہنستا کھیلتا ماحول جہاں سب اٹھے بیٹھے پکنک پر نکل کھڑے ہوتے تھے، ایک منہ چڑھے ملازم سے توتو میں میں… پڑوسن کے گھر فون کرنے کے لئے جانا…یہ سب کچھ مڈل کلاس بچوں کو بہت ہی اپنا اپنا سا لگتا تھا… اور یہاں سے شروع ہوا کرداروں سے اپنائیت کا وہ احساس جو ہمیں انگریزی سے مستعار ناول پڑھنے میں کبھی محسوس نہیں ہوا… اور اگر کہیں محسوس ہوا بھی تو وہ کردار ہمارے ساتھ زیادہ دیر تک خود ہی چل نہ سکے۔ اپنے پن کے احساس کے علاوہ دوسری بات تھی اس اپنائیت کا تسلسل… اشتیاق احمد نے ان کرداروں پر تسلسل سے لکھ کر اس دوستی کو دائمی کر دیا… بچوں کے ادب میں ہمیں ایک ہی کرداروں پر مبنی آٹھ سو ناولوں کی سیریز کی ایسی دوسری مثال نہیں ملتی…بہت سے بچوں نے خود کو محمود، فاروق، فرزانہ گردانتے ہوئے اپنے ذہن میں اپنے گھرانے کیلئے انسپکٹرجمشید کے گھرانے جیسی ایک دنیا بسائی ہوئی تھی…اور یہ صرف اسی لئے کہ اشتیاق احمد کی کردار نگاری نے انہیں ایسا کرنے کا حوصلہ اور موقع دیا تھا… ایک قابلِ حصول ہدف مہیا کیا تھا…یہی وہ سب سے بڑی خوبی تھی جس نے اشتیاق احمد کو اشتیاق احمد بنایا… بلاشرکتِ غیرے… بچوں کا مقبول ترین اور آٹھ سو سے زیادہ ناول لکھنے والے مصنف اشتیاق احمد۔
اشتیاق احمد اب صرف ایک مصنف کا ہی نہیں بلکہ ایک اندازِ تحریر، ایک مکتبہئ فکر کا نام ہے… بچوں کا کوئی بھی رسالہ اٹھا کر دیکھ لیجئے… آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ نئے لکھنے والوں کی اکثریت شعوری یا لاشعوری طور پر اشتیاق احمد سے متاثر ہے اور اشتیاق احمد کے انداز میں لکھ رہی ہے۔ اشتیاق احمد ایک عہد ساز مصنف ہیں… اردو ادب کی تاریخ کا ایک لافانی کردار۔