کراچی، بابائے قوم قائداعظم کا مزار گرین لائن منصوبے کی زد میں، کراچی کی سڑکیں نہ بن سکیں مکمل تفصیلات جاننے کیلئے لنک پر کلک کریں

0
64

گزشتہ سے پیوستہ برس کراچی میں گرین لائن منصوبے کاآغازکیاگیا تھاجوکہ تاحال مکمل نہیںہو سکا۔تاہم منصوبے کے لیے اکھاڑ پچھاڑ کی وجہ سے عوام کومشکلات کا سامنا ہے۔ اس کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں چل رہی ہے کہ گرین لائن منصوبہ کیوں اور کس لیے شروع کیا گیااور کیا اس منصوبے کو لانچ کرنے کی خاطر کیا کسی سروے کے ذریعے عوام کی رائے لی گئی تھی کہ آیا ایسا کوئی منصوبہ کراچی کے عوام کو ضرورت بھی ہے یا نہیں۔
دوسری بات یہ کہ اس منصوبے کی زدمیں کئی اہم جگہیں اور عمارتیں بھی آ رہی ہیں جن میں بابائے قوم قائداعظم کا مزار بھی شامل ہے۔اس حوالے سے چیف جسٹس نے کمپنی سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ کیااس گرین لائن منصوبے کی زدمیں قائداعظم کامزار بھی گرا دیاجائے گا تو اس پرکمپنی نمائندے نے نہ میں جواب دیا۔
گزشتہ روز بھی اس کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں کی گئی۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ اس شہر کو کیا دینا چاہیے تھا آپ کیا دے رہے ہیں؟ یہ تو ایسے ہی ہے جیسے کینسر کے مریض کو پیناڈول دوا دی جارہی ہو۔چیف جسٹس کے ایک سوال کے جواب میں حکام نے جواب دیا کہ کمپنی وزیراعظم پاکستان کی ہدایت پر بنائی گئی تھی جس پر جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ وزیراعظم بھی ایسے کام نہیں کر سکتے۔جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ سرجانی سے لے کر گرومندر پھر نمائش سے ایم اے جناح روڈ تک کا منصوبہ ہے اس کے لیے مزارِ قائد کو تو کچھ نہیں ہوگا، ایسا نہ ہو کہ مزار قائد گرجائے؟عدالت نے چیف سیکریٹری، کے ایم سی، کے ڈی اے سمیت دیگر اداروں سے کراچی میں غیر قانونی عمارتوں، تجاوزات کے خاتمے سے متعلق جامع رپورٹ طلب کرلی۔
عدالت نے مذکورہ رپورٹ گوگل ایمجیز کے ساتھ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔