میں پاکستانی،روزہ دار ( پوائنٹ ٹو پوائنٹ ) کالم نگار انجینئروسیم اقبال میئو

0
85

میں پاکستانی،روزہ دار

( پوائنٹ ٹو پوائنٹ )
کالم نگار انجینئروسیم اقبال میئو

“نہ مجھے کوئ جگائے نہ کوئ کام کہے مجھے آج روزہ ہے”سحری سے دست وگریباں ہونے کے بعد گھروں میں اکثریہ اعلان سماعتوں سے ٹکراتاہے۔۔اس فرمان کوجاری کرنے کے بعددوپہرتک ائرکنڈیشنر کی ٹھنڈی ہوا میں دین ودنیاسے بے خبرسونا،آدھ کھلی مدہوش آنکھوں سے ظہرکی نمازاداکرنا، پھرمحض وقت گزاری کے لئےٹی وی پرڈراموں اور ریسلنگ کے روح پرورمناظردیکھنے کےساتھ یوٹیوب پرپیاس کوکنٹرول کرنے کے ٹوٹکے سرچ کرنا اور بوقت افطاردسترخوان کی فرنٹ سیٹ پربیٹھ کرصحیح طرح ہاتھ صاف کرکے مغرب کی نماز سے بھاگنےکی یہ دلیل کہ” آج توجسم میں طاقت ہی نہیں رہی”اس سے پہلے کہ گھرکا کوئ بزرگ تراویح کامشورہ دے پیٹ اورسرکے درد کا بہانہ کرکے بسترکاچارج سنبھال لینااورروزے جیسی مقدس عبادت کی حالت میں تسبیح اورقرآن کی بجائےموبائل کو مخلص ساتھی سمجھ کراسی سے رجوع کرکے ہم بجائے اپنی سیاہ کاریوں پرنادم ہونے کے۔۔قسمتِ سیاہ کہ ہم رحمتوں اور بخشش والے اس مہینے میں بھرپور لعنت سمیٹ کر ابلیس کے ہراول دستے کا کردار ادا کرناچاہتے ہیں۔۔عبادت کا صحیح معانی میں ثواب اورثمر تکلیف اورمشقت کے بغیرممکن نہیں۔مشقت اورصبرکے بغیرکوئ بھی عبادت ریاکاری سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔۔یقیناً ہم جیسے روزاداروں کے لئے ہی یہ فرمان ہے”کچھ روزاداروں کو بھوک اور پیاس کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا” تحریر انجینئروسیم اقبال میئو (آپ کی رائے کا شدت سے منتظر)