گڑ ھ مہاراجہ کی سیاسی تاریخ کے منفرد راہی۔۔صاحبزادہ گروپ کی شان۔۔۔رانا محمد اسلم خان۔۔۔۔۔چالیس سالہ سیاسی کریئر کی کہانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رانا شاہد نذیر کی زبانی۔۔۔پہلی دفعہ۔سلطان نیوز پر

0
126

گڑ ھ مہاراجہ کی سیاسی تاریخ کے منفرد راہی۔۔صاحبزادہ گروپ کی شان۔۔۔رانا محمد اسلم خان۔۔۔۔۔چالیس سالہ سیاسی کریئر کی کہانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رانا شاہد نزیر کی زبانی۔۔۔پہلی دفعہ۔سلطان نیوز پر
سیاست شرافت اور کردار
تحریر نوجوان لکھاری رانا شاہد نذیر گڑھ مہاراجہ 03006500054
معزز قررئین اکرام
اسلام علیکم
آج جس شخصیت نے میرے الفاظ کو زینت بخشی ھے گڑھ مہاراجہ میں صاحبزادہ گروپ کے لیے نہایت ھی اھم ھیں سیاست اور شرافت اور سیاسی کردار کی کسوٹی پہ پرکھیں گڑھ مہاراجہ میں کوئی بھی تقریباً ان کا ہمسر نہیں دو دفعہ چئیرمین بلدیہ گڑھ مہاراجہ رھنے والے دوراندیش سیاستدان شرافت کے علمبردار ایمانداری میں بے مثال بااخلاق با کردار جناب رانا محمد اسلم خاں سابق چئیرمین سابق نائب ناظم سابق اپوزیشن لیڈر ٹاؤن کمیٹی گڑھ مہاراجہ رھنے والی شخصیت ھیں رانا صاحب دو دفعہ چئیرمین رھے ان کے دور میں گڑھ مہاراجہ میں کافی ترقیاتی کام ھوۓ جن میں گڑھ مہاراجہ کے وسع تر علاقے میں سیوریج سولنگ صفائی ستھرائی کی مہم کو عروج ملا اور ان کے دور چئیرمینی میں پہلی بار سٹریٹ لایٹس کا کام شروع ھوا اور گڑھ مہاراجہ کی گلیوں اور بازار میں ٹاؤن کمیٹی کی طرف سے لائٹس لگائی گیئں گو رانا صاحب کو مدت پوری کرنے کا موقعہ نہیں ملا اس کے باوجود ترقی کی مخالف اس وقت کی لیڈر شپ کے نیچے رہ کر رانا صاحب نے شہر کی ترقی کو اپنا شعار بنایا اور علاقہ کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالا شہر میں ھمیشہ مذھبی فسادات کی مخالفت کی اور صلح جوئی کو اپنا شعار بنایا اور ممبر امن کمیٹی بھی ھیں اس عہدہ کو بھی احسن طریقہ سے نبھا رھے ھیں مشرف دور میں پہلے یونین کونسل ٹائپ الیکشن میں یونین کونسل 127 گڑھ مہاراجہ میں برادی ازم کی مخالفت کرتے ھوۓ نائب ناظم کا الیکشن لڑا اور کامیاب ھوۓ اس وقت تحصیل شورکوٹ میں عوام کی نمائندگی کا حق ادا کیا اور دوسری بار یونین کونسل کاالیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کیا
اور اپنی کونسلر والی سیٹ پہ اپنے برادر نسبتی رانا اختر علی عرف مٹو( مرحوم ) کو الیکشن لڑیا اور سب سے زیادہ ووٹ لینے والا کونسلر بنایاتحصیل احمد پور سیال کی تمام یونین کونسلز کے کونسلرز سے سب سے زیادہ ووٹ غالباً سات سو ووٹ لے کر دیا اور پھر الیکشن 2002 میں ایم این اے کی سیٹ پر رانا عطاءاللہ خاں کی انٹری میں رانا محمد اسلم خاں نے اھم کردار ادا کیا پرانے سیاستدان ھونے کی وجہ سے عطاءاللہ خاں کے بہت ھی اھم مشیر بھی بنے اور بازو بھی عطاءاللہ خاں نے پہلی بار چھتیس ہزار ووٹ لیا لیکن الیکشن ھار گئے 2008 کے الیکشن تک رانا اسلم صاحب نے گروپ کے لیے بہت محنت کی اور خان مظفر علی خان سیال مرحوم سے مل کر پینل تشکیل دیا اس وقت خان نجف عباس خان سیال بھی رانا عطاءاللہ خاں کے ساتھ پینل بنانے کے خواھش مند تھے لیکن رانا عطاءاللہ خاں نے ساتھیوں کی مشاورت سے عون عباس خان کو پینل میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا(اس وقت کی بہت بڑی سیاسی غلطی سمجھا جاۓ تو بے جا نہ ھو گا ) لیکن پینل الیکشن ھار گیا کیوں کہ نجف خان ورکر انسان ھونے کی وجہ سے عوام میں کافی مقبولیت حاصل کر چکے تھے جس کا صاحبزادہ گروپ نے فائدہ اٹھایا اور سیال راجپوت اتحاد الیکشن 2008 ہار گیا خیر 2013 میں رانا عطاءاللہ خاں عوام سے 5 سال دوری کی وجہ سے عوام میں غیر مقبول ھو گئے اور احمد پور سیال کے راجپوتوں نے بھی ساتھ چھوڑ دیا تو مجبورن الیکشن سے دستبردار ھونا پڑا اور رانا اسلم خاں نے بھی برادری سے مشورے کے بعد صاحبزادہ گروپ میں شمولیت اختیار کی اور گروپ میں فعال کردار ادا کیا گو 2013 میں گروپ الیکشن ھار گیا لیکن رانا اسلم صاحب نے گروپ کے لیے محنت جاری رکھی جہاں تک کہ بلدیاتی الیکشن آ گئے گڑھ مہاراجہ میں رانا اسلم میٹھو خان رانا دلبر نے صاحبزادہ گروپ کے لیے محنت کی اور تینوں سیٹیں ون کر کے دیں جو سیال گروپ کا اھم ٹارگٹ تھیں اور باقی کونسلر کے امیدوار سو پچاس ووٹ سے ھارے رانا صاحب لیڈر آف دی اپوزیشن بنے لیکن سیال گروپ کو ٹف ٹائم دیا وقت گزرتا گیا اس وقت کے چئیرمین چوھدری اسلم چدھڑ اچانک دل کا اٹیک ھونے کی وجہ سے وفات پا گئے اور گڑھ مہاراجہ ایک اچھے انسان کے ساتھ ساتھ چئیرمین سے بھی محروم ھو گیا اور پھر اک بار سیاسی جوڑ توڑ شروع ھوئی مہر علی عرفان ملک معظم علوی مہر لیاقت ڈب نے فرینڈز گروپ بنایا اور رانا اسلم خاں نے اپنے دیرانہ دوست ملک قنبر علی اعوان کو بغاوت پہ اکسایا اوراپنے گروپ یعنی صاحبزادہ گروپ میں شامل کر لیا جو صاحبزادہ گروپ کی بہت بڑی کامیابی تھی جو چئیرمینی کے الیکشن میں رانا اسلم نے سمیٹ کر صاحبزادہ گروپ کی جھولی میں ڈال دی ادھر فرینڈز گروپ کے رہنما مہر لیاقت علی ڈب سیال گروپ کا وذن برداشت نہیں کر سکے اور توبہ تائب ھو کر پھر سیال گروپ میں شامل ھو گئے اور چئیرمین کے امیدوار نامزد ھو گئے ان کے جانے کے بعد باقی ممبرز نے رانا اسلم کی حمایت کا اعلان کر کے باضابطہ طور پرصاحبزادہ گروپ میں شمولیت اختیار کر لی جس کا کریڈٹ بھی رانا اسلم ھی کو جاتا ھے رانا اسلم خاں نے بہت ھی عمدہ بیٹنگ کی اور عون عباس خان کے دست راست اور دیرانہ ساتھی سیال گروپ کی مجبوری جناب ملک قنبر علی اعوان ،کے بیٹے ملک نوید اعوان کو سیال گروپ کے امیدوار براۓ چئیرمین مہرلیاقت ڈب صاحب کے مقابلے میں لا کھڑا کیا اور رانا اسلم صاحب خود ملک نوید کے حق میں دستبردار ھوگئے بلدیہ میں گھمسان کا رن پڑا جوڑ توڑ ھوئی منت ترلے ھوۓ خرچے ھوۓ دعوتیں ھوئیں وعدے ھوۓ لارے لگاۓ لیکن فرینڈز گروپ ثابت قدم رھا اور صاحبزادہ گروپ کے تین سے بڑھ کر سات ووٹ ھوۓ کوئی بعید نہیں تھی کہ رانا اسلم صاحب گڑھ مہاراجہ میں صاحبزادہ گروپ کا چئیرمین بنوا دیتے لیکن پاؤں پکڑ گیم اور لالچ دے کر جھوٹے وعدے لارے لپے ایک بار پھر کامیاب ھو گئے لیکن وقت نے یہ ثابت کر دیا کہ سیاسی جوڑ توڑ میں رانا محمد اسلم خاں کا کوئی ثانی نہیں اور بہت ھی عمدہ تجربہ کار سیاسی گیمر ھیں، انشاءاللہ رانا اسلم کے بارے دوسری قسط کا انتظار ۔ اللہ پاک رانا صاحب کی عمر عزت علم میں برکت عطا فرماۓ آمین
اھل ذوق کی نظر

‏سوکھے ہوئے پیالوں کو ساحل پہ پٹخ کر _____

دریاوں کوشرمندہ بھی کر جاتے ہیں پیاسے __!