یوم مزدوراں اور تحصیل احمدپورسیال کے نجی تعلیمی ادارے۔۔۔۔۔۔۔ویران نصیب دا حال نہ پچھ۔۔۔۔۔تحریر ۔۔۔ رانا شاہد نذیر

0
28

یوم مزدوراں اور تحصیل احمدپورسیال کے نجی تعلیمی ادارے۔۔۔۔۔۔۔ویران نصیب دا حال نہ پچھ۔۔۔۔

۔تحریر ۔۔۔ رانا شاہد نذیر گڑھ مہاراجہ
معزز قارئین
اسلام علیکم

یوم مزدوراں مزدور طبقہ سے اظہار یکجہتی کا دن ھے اس سلسلے میں سرکاری اور غیر سرکاری طور پہ پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی سیمنار اور تقریبات منعقد ھوتی ھیں اور خاص طور سکولز کالجز میں تقریبات منعقد ھوتی ھیں اور پرائیویٹ سکولز خاص طور یکم مئی یوم مزدوراں کے حوالے سےپروگرامز منعقد کرتے ھیں لیکن افسوس کی بات ھے کہ پرائیویٹ سکولز میں مزدور کے حق میں تقریبات منعقد کرنے والے پرنسپلز ٹیچرز یہ کیوں بھول جاتے ھیں کہ ان کے سکول میں پڑھنے والا بچہ کسی لیڈر کسی پیر کسی ایم پی اے یا ایم این اے کا بچہ نہیں ھے بلکہ وہ غریب مزدور کا بچہ ھے وہ بڑی مشکل سے اپ کی ماھانہ بھاری فیس ادا کرنے والے مزدور کا بچہ ھے سارا دن ریڑھی لگا کر دو وقت کی روٹی کمانے والے مزدور کا بچہ ھے کڑی دھوپ میں سر پہ تگاری اٹھا کر روزی کمانے والے مزدور کا بچہ ھے جو بڑی مشکل سے فیس اور سکول کے طرح طرح کے فنڈز ادا کرتا ھے اور اب مزدور کے بچے پہ اور ماں باپ پہ تین مہینے کی ناجائز فیس کی تلوار لٹک رھی ھے جہاں تک مجھے یاد پڑتا ھے کہ سپریم کورٹ اف پاکستان نے تین مہینے کی چھٹیوں کی فیس نا لینے کا حکم صادر فرمایا تھا جو کہ پرائیویٹ سکولز مالکان نے ھوا میں اڑا دیا ھے اور گڑھ مہاراجہ گڑھ موڑ کے تمام پراییویٹ سکولز مالکان سے درد مندانہ گزارش ھے کہ غریبوں پہ رحم کریں ترس کریں بلکہ ارباب اختیار سے اپیل ھے کہ آج کے دن یکم مئی یوم مزدوراں پہ مزدور پہ ترس کھائیں اور پوری تحصیل احمد پور سیال کے پرائیویٹ سکولز کے مالکان کو لگام دی جاۓ اور تین مہینے کی ناجائز فیس کالعدم کروائی جاے تاکہ مزدور طبقہ کا استحصال ھونے سے روک جاۓ ایک سکول کے پرنسپل سے بات کی تو کہتا ھے کہ ھم نے خرچے کہاں سے پورے کرنے ھے تو ثابت ھوا کہ یہ درسگاهیں نہیں بلکہ کاروباری مراکز ھیں اور طالب علم کسٹمرز ھیں تعلیم یافتہ طبقے کی یہ سوچ ھے تو علم کا اللہ ھی حافظ ھے یوم مزدوراں پہ بڑے بڑے پروگرامز کر کے بڑے بڑے بھاشن دینے والوں سن لو تم چاھتے ھو کہ مزدور کا بچہ مزدور ھی بنے استاد کا بچہ استاد بنے پیر کا بچہ پیر ھی رھے کسان کا بچہ ھل ھی چلاۓ اگر معاشرہ سیدھا کرنا ھے تو سب سے پہلے استاد طبقے کو سیدھا ھونا پڑے گا سکول کو دوکان نہیں درسگاہ سمجھیں باقی میری تحریر کا کیا اثر ھوتا ھے یہ ارباب اختیار کے بس کی بات ھے اللہ پاک ھدایت نصیب فرماۓ آمین
اھل درد کی نظر

اساں اُجڑے لوک مقدراں دے ٗویران نصیب دا حال نہ پوچھ

توں شاکرآپ سیانا ایں ساڈا چہرہ پڑھ حالات نہ پوچھ۔۔