شرم تم کو مگر نہیں آتی۔۔۔سابق ایم پی اے خان جی کے نام۔۔۔ رانا شاہد نذیر کے قلم سے کا دردمندانہ پیغام۔۔۔۔۔۔

0
355

شرم تم کو مگر نہیں آتی۔۔۔سابق ایم پی اے خان جی کے نام۔۔۔ رانا شاہد نذیر کے قلم سے کا دردمندانہ پیغام۔۔۔۔۔۔
سابقہ حکومتوں کی غلط، کرپشن سے بھرپور اور ناقص معاشی پالیسیوں کی وجہ سے معاشی مسائل میں گری ھوئی موجودہ حکومت نے رانا شہباز احمد خاں کی درخواست پر پی پی 130 میں زالہ باری بارش اور تیز طوفان سے ھونے والے نقصان کی وجہ سے کسانوں کو ریلیف دینے کا فیصلہ کیا جس پر عمل بھی شروع ھوا اور کئی کسانوں کو حکومت پنجاب کی طرف سے چیک دئیے گئے حکومت کی یہ امداد صرف رقم تک ھی محدود تھی( رقم وصول ھوئی) لیکن ایک آ ئی ڈی سے ایسی کربناک پوسٹ کی گئ جیسے 2014 کا سیلاب ھو اور پٹواریوں کی ملی بھگت ھو عوام اور ان کےمويشی بھوک سے نڈھال ھوں ایسی دردمندانہ پوسٹ تھی جیسے 2014 میں حکومت کی طرف سے ملنے والا ونڈا رانا شہباز احمد خاں اور محبوب سلطان کے مويشی کھا گئے ھوں اور امدادی دال چاول شکر گھی اور آٹا پٹواری مافیا اور رانا صاحب کے نوکر اور صاحبزادہ صاحب کے منشی کھا گئے ھوں ایسا احتجاج جیسے 70 نوکریاں بیچ کر رانا شہباز احمد غریبوں کا حق کھا گیا ھو نہیں نہیں جناب شیخ وقاص اکرم کو رانا صاحب نے ڈیڑھ لاکھ روپے فی سیٹ نہیں بیچی لوگوں تک سچ پہنچانا ھے تو محلہ حسین آباد کے لکھاری صاحب ہمت کرو جرأت کرو اپنے نام کی اپنی پیکچر لگا کر سچی فیسبک آئی ڈی بناؤ پھر کسی پہ تنقید کرواور لوگوں تک 2014 میں ھونے والی سیلاب زدگان کی مالی امداد میں کی گئی کرپشن کا احوال عوام تک پہنچاؤ اور پھر حالیا زالہ باری میں دی گئی حکومتی امداد میں کوئی الزام تراشی اور بہتان بازی کا بازار سرگرم کرو اس امداد میں نہ کوئی ونڈا آیا ھے نہ چاول اور دالیں اور نہ خیمے آۓ ھیں اور نا پٹواریوں کی تجوریاں بھری ھیں اور نا یہ امداد کروڑوں روپے تھی جو آئندہ الیکشن کمپین کے لیے کام آ سکے یہ چند لاکھ روپے تھے جو فی الفور حقداروں میں تقسیم کر دئیے گئے اور باقی لوگوں کی لسٹ وزیراعلی پنجاب کو بھیج دی گئی ھے ، سیال گروپ کے رھنماؤں یہ جو آپ کے سپورٹر نے جھوٹ پہ مبنی پوسٹ کر کے پراپگنڈا کیا ھے لوگوں کے زخم تازہ ھوۓ ھیں ان کو سیلاب کا زمانہ یاد آیا ھے ان کو اپنے پڑھے لکھے بچوں کی بے روزگاری یاد آئی ھے ان کو شیخ وقاص اکرم کے حلقہ سے آ کر گڑھ مہاراجہ کے ہسپتال میں لگے تین، درجہ چہارم کے بندے خون کے آنسو رولا رھے ھیں اور شہر کے گردونواح میں لگے سکولوں میں درجہ چہارم کے دوسرے حلقہ سے آۓ ھوۓ اور کرسیوں پہ برجمان لوگ میرے علاقہ کی عوام کا پیٹ کاٹ کاٹ کر کھا رھے ھیں قوم آپ سے بہت دکھی ھے اوپر سے فیک آئی ڈی بنا کر بظاہر آپ کے سپورٹرز ہیں لیکن آپ کی ھار کی موجب یہی لوگ ھیں ، اب جو عوام کے زخم تازہ کر رھےھیں اور اس لیڈر پہ بہتان بازی جو ایم پی اے تھا بھی نہیں تو بھی 80 غریب گھرانوں کی کفالت کرتا تھا اور اب بھی 80 غریب گھرانوں کی کفالت کرتا ھے اسے کیا ضرورت چار پانچ لاکھ روپے کھانے کی، خان صاحب لوگ آپ پر ھنس رھے ھیں کہ سپورٹرز سوشل میڈیا پہ ایسے ھوتے ھیں؟ جو آپ کی جگ ہنسائی کا موجب بن رھے ھیں جو آپ کے دور میں دئیے ھوۓ عوام کے زخم وہ تازہ کر رھے ھیں عوام کی سمجھ سے بالا تر بات ھے کہ چیک ابھی حکومت سے ایشو نہیں ھوۓ مالی امداد جاری نہیں ھوئی تھی اور کچھ ذہنی غلاموں نے الزام تراشی اور بہتان بازی کا سلسلہ شروع کر کے غلامی کا حق ادا کرنا شروع کر دیا ھے اور باشعور بہادر تعلیم یافتہ عوام کے گوش گزار عرض کرتا ھوں کہ اے سی احمدپورسیال نے علاقوں کا خود سروے کر کے چھ چھوٹے زمینداروں کے نقصان کی تفصیل بھیجی تھی جن کو چیک وصول ھو گئے ھیں اور باقی حکومت کی طرف سے نا کوئی ونڈا آیا ھے اور نا کوئی خوراک باقی پٹواری حضرات نقصانات کا سروے کر رھے ھیں آگے حکومت جو فیصلہ کرے گی وہ آپ کے اور میرے بس کی بات نہیں باقی فخر تحصيل احمدپور سیال خادم عوام ھر دلعزیز بلاتفریق لیڈر رانا شہباز احمد خاں اور جھنگ کے کپتان صاحبزادہ محبوب سلطان عوام کے مشکل وقت میں عوام کے ساتھ کھڑے ھیں اور امدادی کوششیں تیز کیے ھوۓ ھیں انشاءاللہ جو رنگ لائیں گی کسان کی مالی امداد ترجیحی بنیادوں پر ھو گی
اللہ پاک ھم سب کا حامی وناصر ھو اور اے رب کریم جو لیڈر عوام کا حق کھاۓ یا جس نے کھایا ھے ان کا حال سابقہ حکمرانوں جیسا کر دینا آمین سابقہ اقتدار پارٹی کے لیے
اھل ذوق کی نطر ،

سنا ھے تم بھی نیم شب میں ”
اٹھا کے تکیہ اب نیند ڈھونڈتے ھو