پنجاب ایجوکیشن فاٶنڈیشن اور تبدیلی سرکار تحریر: محمد عمر وقار اعوان۔

0
70

پنجاب ایجوکیشن فاٶنڈیشن اور تبدیلی سرکار
تحریر: محمد عمر وقار اعوان۔

کسی بھی ملک و قوم کا مستقبل وہاں کی نوجوان نسل کو گردانا جاتا ہے۔ نوجوان نسل اپنے ملک کی ترقی میں تبھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے جب وہ بہتر اور معیاری تعلیم سے آراستہ ہو۔ قوم کا ہر ایک فرد پڑھا لکھا ہو اور اپنی تعلیمی مہارت کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلیاں لانے کا خواہاں ہو۔ ملک پاکستان جسے بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے انہی میں سے ایک بڑا مسئلہ تعلیم کا مسئلہ ہے۔ جس پر قابو پانے کے لیئے حکومتیں اپنے تئیں کارہائے نمایاں سر انجام دیتی رہتی ہیں۔اسی ضمن میں پاکستان کے سب سے اہم صوبے پنجاب میں پسماندہ ترین علاقوں میں تعلیمی معیار کو بہتر کرنے کے لیئے 8 جون 2004 کو پنجاب ایجوکیشن فاٶنڈیشن کا قیام عمل میں لایا گیا۔جس کے ذریعے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو مالی معاونت کے ذریعے ان کے پائوں پہ کھڑا کیا گیا اور بعد ازاں ان سے بہترین تعلیمی نتائج حاصل کیئے گئے جس کا اولین مقصد نوجوان نسل کو نکھارنا تھا تاکہ وہ ملک و قوم کی خدمت کر سکیں۔پنجاب ایجوکیشن فاٶنڈیشن کا قیام کسی نعمت سے کم نہیں تھا، کیونکہ اس فاٶنڈیشن نے نا صرف پسماندہ علاقوں کے تعلیمی معیار کو بہتر کیا بلکہ ان پرائیویٹ سکولوں کو سہارا دیا جو لڑکھڑا رہے تھے اور مستقبل قریب میں مالی معاملات کی وجہ سے بندش کی طرف رواں دواں تھے۔ بلا شبہ ان اداروں کے لیئے اس فاٶنڈیشن نے فرشتے کا سا کردار ادا کیا جو غیب سے آ کر مدد کر جاتا ہے اور ڈوبتے کو سہارا دیتا ہے۔ آج وہی ادارے بہترین نتائج دے رہے ہیں اور ملک کی تعلیمی شرح کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں مجھے ایک دوست کی طرف سے بذریعہ فون یہ دعوت دی گئی کہ ہمارے سکول میں سالانہ تقریب تقسیم انعامات ہے ، جہاں آپ بطور مہمان خصوصی شرکت کریں گے۔ مورخہ 13 اپریل حسب وعدہ صبح 10 بجے ان کے بتلائے ہوئے ایڈریس پہ پہنچا تو سامنے منظر دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا۔ نہر کے کنارے انتہائی غیر گنجان آباد علاقہ، جہاں دور دور تک آبادی نظر نہیں آ رہی تھی، لیکن وہاں پہ پنجاب ایجوکیشن فاٶنڈیشن کے زیر اہتمام نیو سکول پروگرام NSP کے تحت سکول کا قائم ہونا اور بغیر کسی فیس/معاوضے کے صرف دو سال میں انتہائی کامیابی کے ساتھ 148 بچوں کی تعداد بنانا اور تحصیل بھوآنہ کی پسماندگی کو ختم کرنے کے لیئے عظیم کاوش کرنا واقعی لائق تحسین ہے۔ PEF کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق اس وقت پورے پنجاب میں مجموعی طور پر 7726 سکول پنجاب ایجوکیشن فاٶنڈیشن کی معاونت سے کام کر رہے ہیں جہاں تقریباً ساڑھے 26 لاکھ سے زائد طلباء و طالبات تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ جن میں بچوں کی تعداد 1427160 جبکہ مجموعی طور پر 1224973 بچیاں زیور تعلیم سے آراستہ ہو رہی ہیں۔پنجاب کے پسماندہ ترین علاقوں میں پنجاب ایجوکیشن فاٶنڈیشن کی طرف سے اس وقت 3 کامیاب ترین پروگرام چلائے جا رہے ہیں جن میں FAS, NSP اور EVS ہیں۔ ان تینوں پروگرامز میں سے FAS کو بہت زیادہ پذیرائی ملی اور اس کے تحت اس وقت 3714 سکول جبکہ NSP کے 2374 اور EVSکے 1638 سکول کام کر رہے ہیں۔ان سکولوں میں نرسری سے لیکر ہائیر سکینڈری لیول تک بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے۔ پنجاب ایجوکیشن فاٶنڈیشن کے تحت چلنے والے یہ ادارے گزشتہ کچھ ماہ سے مالی اور ذہنی طور پر پریشان دکھائی دے رہے ہیں ۔ گزشتہ ادوار میں پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ میاں شہبازشریف کے تعلیم دوست اقدامات کی بدولت اس ادارے کو عروج ملا اور اس سے ملحق تمام پارٹنر سکول بھی کافی مطمئن رہے، کبھی کبھار کوئی معمولی سا مسئلہ اگر جاتا تو اسے مذاکرات سے فوراً حل کر لیا جا تا۔مگر ان دنوں پیف پارٹنرز کئی افواہوں کا شکار ہیں۔بلکہ کچھ عرصہ تو تما م پیف سکولوں کی تین سے چار ماہ کی ادائیگیاں بھی روک لی گئیں جو پھر سکول مالکان اور اساتذہ کی طرف سے احتجاج اور دھرنے کے بعد جاری کی گئیں۔وہ تین سے چار ماہ پیف سکولوں میں پڑھانے والے اساتذہ کے لیئے بہت تکلیف دہ ثابت ہوئے ہیں کیونکہ ان سکولوں میں پڑھانے والے اساتذہ کی تنخواہ بہت کم ہوتی ہے جس سے ان کی بنیادی ضروریات بھی صحیح طرح سے پوری نہیں ہو پاتیں، کئی ایسے لوگ بھی تھے جو حکومتی اس رویے سے تنگ آ کر سکولوں کو خیر آباد کہہ گئے اور مختلف نوکریوں میں مشغول ہو گئے۔ مقام افسوس ہے کہ جس قوم کے استاد اپنے حقوق کی خاطر سڑکوں پہ نکلے ہوں اور احتجاجی دھرنے دیئے بیٹھے ہوں وہاں تعلیمی ترقی کیا ہو گی! موجودہ حکومت جسے تبدیلی سرکار بھی کہا جاتا ہے اور بلاشبہ اس حکومت سے پوری قوم کو کئی امیدیں بھی وابستہ تھیں بلکہ جب یہ حکومت نئی نئی قائم ہوئی تو بقول ان کے ہم پورے پاکستان میں تعلیمی ایمرجنسی لگائیں گے اور پاکستان میں خاص طور پر پنجاب میں نظام تعلیم کو بہتر کریں گے مگر اسی دور میں سکول مالکان اور اساتذہ کو سڑکوں پہ آنا پڑا اور اپنے حقوق کی جنگ لڑنا پڑی۔ بلکہ ابھی مزید اطلاعات یہی آ رہی ہیں کہ کہیں پنجاب ایجوکیشن فاٶنڈیشن کو ختم ہی نہ کر دیا جائے۔اس حوالے سے کئی افواہیں گردش میں ہیں۔ سیانے کہتے ہیں کہ افواہ تبھی بنتی ہے جب کہیں نا کہیں کوئی نا کوئی کچھ کہہ گیا ہو۔ محترم واثق قیوم عباسی جو کہ اس وقت PEF کے چیئرپرسن ہیں، وہ خود ایک پڑھے لکھے نوجوان اور تحریک انصاف کے وژن کے مطابق راولپنڈی سے منتخب MPA بھی ہیں۔بلاشبہ عباسی صاحب اس ساری صورتحال کو بخوبی دیکھ رہے ہوں گے اور ان افواہوں پہ بھی ان کی نظر ہو گی جس میں ساڑھے 26لاکھ بچوں اور7726 سکولوں کے مستقبل سے کھیلنے کی بات کی جا رہی ہے۔وزیر تعلیم پنجاب مراد راس، وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود، وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان اور صدر پاکستان عارف علوی صاحب ہمیں آپ احباب کی صلاحیتوں پہ پورا بھروسہ ہے اور ہم جانتے ہیں کہ آپ سب اس ملک کی قسمت بدلنے آئے ہیں، آپ5 حضرات سے گزارش ہے کہ اس سنگین مسئلے پر فوری توجہ دی جائے اور اگر PEF کو ختم کرنے کی کوئی رائے ہے تو اسے 2.6 ملین بچوں کے صدقے بھلا دیا جائے تاکہ پیف پارٹنرز کی پریشانی ختم ہو اور وہ پہلے کی طرح ملکی ترقی و تعمیر کے لیئے اپنی خدمات جاری رکھ سکیں۔