21 اپریل یوم وفات علامہ ڈاکٹر محمد اقبال انتخاب محمد وقاص ہادی

0
111

21 اپریل یوم وفات علامہ ڈاکٹر محمد اقبال

انتخاب محمد وقاص ہادی

علامہ ڈاکٹر محمد اقبال رح ایک عظیم مفکر شاعر تھے، انہوں نے اپنی شاعری سے دنیا کو توحید، خودی، فقر، مقام ملکوت، جبروت، لاھوت، پیغام حجاز، نظریہ و کردار، علوم کا فلسفہ اور انقلابات دہر کی منظر کشی کا پیغام دیا.
ایران، انڈونیشیا، ھندوستان، پاکستان، اٹلی، جرمنی، بنگلہ دیش، آمریکا، رشیا، ترکی اور دنیا کے کئی ممالک میں اقبال کی شاعری کو پذیرائی ملی.

اقبال کو پڑھنے والا انسان خودار بن جاتا ہے.

پھلا پھولا رہے یارب! چمن میری امیدوں کا
جگر کا خون دے کر، یہ بوٹے میں نے پالے ہیں
رلاتی ہے مجھے راتوں کی خاموشی ستاروں کی
نرالا عشق ہے میرا، نرالے میرے نالے ہیں
مرے اشعار اے اقبال کیوں پیارے نہ ہوں مجھ کو
مرے ٹوٹے ہوۓ دل کے یہ درد انگیز نالے ہیں

اقبال نے جو خواب دیکھا پاکستان کا اس کی تعبیر کے لیے محمد علی جناح کو اپنا رفیق بنا کر ان کے ذریعہ سے خواب پورا کر دکھایا۔

امراض کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہو تو اُمت کے حکیم زیادہ یاد آتے ہیں جنھوں نے سو سال پہلے مسلمانوں کو لاحق بیماریوں کا علاج بتا دیا تھا کہ

خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں
ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں

ایک اور جگہ کہا کہ

علاج آتشِ رومی کے سوز میں ہے ترا
تری خرد پہ ہے غالب فرنگیوں کا فسوں

تشویشناک امر یہ ہے کہ اقبال ؒ کو بھلا دینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں جب کہ خود پاکستان اقبالؒ کا فیضان ِ نظر ہے، اقبالؒ کو وہی لوگ فراموش کرنا چاہتے ہیں جو جواز ِ پاکستان اور قیامِ پاکستان کی نفی کرتے ہیں. کیا وہ اتنے بارسوخ ہو چکے ہیں کہ مفکر ِپاکستان کو پاکستان سے جلاوطن کر دینا چاہتے ہیں. نہیں ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا. وہ اپنے آقاؤں کی بخشی ہوئی ساری دولت صرف کر دیں تب بھی اقبال کی محبّت اور عقیدت کروڑوں پاکستانیوں کے دلوں سے نہیں نکال سکتے.

80 سال پہلے یہی وہ دن تھا جب دانائے راز ؒ متحدہ ہندوستان، مشرق وسطیٰ، ایران، افغانستان اور سینٹرل ایشیاء کے مسلمانوں کو ایک ولولۂ تازہ دیکر رخصت ہوئے. بانگ ِ درا اور بال ِجبریل کی نظموں کا تو بہت تذکرہ ہوتا ہے، ان کے علاوہ بھی اقبالؒ کی کوئی نظم یا کوئی شعر اٹھا لیں، آج بھی تر و تازہ اور سو فیصد Relevant ہے.

ضرب ِ کلیم میں ایک نظم کا عنوان ہی ’’اجتہاد‘‘ ہے. شعر سنیے اور سر دُھنیے.

ہند میں حکمت ِ دیں کوئی کہاں سے سیکھے
نہ کہیں لذت ِ کردار نہ افکار ِعمیق
حلقہ شوق میں وہ جرأتِ اندیشہ کہاں
آہ! محکومی و تقلید و زوالِ تحقیق
خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہان ِ حرم بے توفیق
ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب
کہ سکھاتی نہیں مومن کو غلامی کا طریق

اقبال کے نزدیک اپنے نظریے سے منہ موڑ لینے اور اپنے حرم اور مرکز سے ناطہ توڑنے کے باعث مسلمان ذلت و زوال کا شکار ہیں. نظریۂ توحید کلیدی حیثیّت کا حامل ہے اور اس میں ہی اصل قوُت پوشیدہ ہے مگر فکری وحدت کافی نہیں اس کے ساتھ عملی وحدت درکار ہے.

زندہ قوت تھی جہاں میں یہی توحید کبھی
آج کیا ہے؟ فقط اک مسئلہ علمِ کلام
میں نے اے میر ِسپاہ تیری سپاہ دیکھی ہے
قُل ھو اللہ کی شمشیر سے خالی ہیں نیام
آہ اس راز سے واقف ہے نہ مُلا نہ فقیہہ
وحدت افکار کی بے وحدتِ کردار ہے خام
قوم کیا چیز ہے قوموں کی امامت کیا ہے
اسکو کیا سمجھیں یہ بیچارے دو رکعت کے امام

اقبال ؒ کا مسلمانوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ وہ وحدت ِ فکر و عمل کے بغیر ایک ملت کے طور پر زندہ نہیں رہ سکتے اور اس وحدّت کے تحفّظ کے لیے قوت درکار ہے.
فرماتے ہیں.

وحدت کی حفاظت نہیں بے قوتِ بازو
آتی نہیں کچھ کام یہاں عقلِ خداداد
اے مرد ِ خدا تجھ کو وہ قوت نہیں حاصل
جا بیٹھ کسی غار میں اللہ کو کر یاد
مسکینی و محکومی و نومیدی جاوید
جسکا یہ تصوف ہو وہ اسلام کر ایجاد
مُلا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

اسلام تو شوکت و جلال اور رفعت و کمال کا پیغام ہے وہ محکومی و غلامی کا نہیں، فرمانروائی کا نظرّیہ ہے، مغربی تہذیب اپنا لینے اور اس کی نقالی کرنے والوں کو کوئی دوسرا اسلام ایجاد کرنا ہو گا کیونکہ اصل اسلام میں غلامی اور نقالی کی گنجائش نہیں ہے. اگر انگریزوں نے نماز پڑھنے پر پابندی عائد نہ کی تو کئی اور انگریز پرست اُسی کو آزادی قرار دیکر آقاؤں کے قصیدے پڑھنے لگے.

مسلم دشمن قوتیں ہمیشہ اسلام کے فلسفۂ جہاد سے خوفزدہ رہی ہیں، ترک جہاد کے فتوے دینے کے لیے ہی انگریزوں کو ایک جعلی نبی کھڑا کرنا پڑا. مغربی قوتیں مسلمانوں کے جہاد پر ہر طرح کی قد غنیں اور پابندیاں لگاتی ہیں لیکن مغرب کے جارہانہ اقدامات کو جائز قرار دیتی ہیں، وہ خود کیسے ہی خطرناک ہتھیار تیار کریں اور انھیں بے گناہ شہریوں پر استعمال کریں، جس ملک کو چاہیں تاخت و تاراج کر دیں انھیں اس کا پورا حق ہے. اسی دوہرے معیار اور منافقت کو اقبالؒ نے آج سے سو سال پہلے بے نقاب کیا تھا. “جہاد ” کے عنوان سے ایک نظم کے چند شعر ہیں:

فتویٰ ہے شیخ کا یہ زمانہ قلم کا ہے
دنیا میں اب رہی نہیں تلوار کارگر

علامہ ؒ کہتے ہیں کہ مادیت میں کھویا ہوا مسلمان تو پہلے ہی جہاد ترک کر چکا ہے، اس لیے اب ایسے وعظوں کی ضرورت تو یورپ اور امریکا کو ہے.

تعلیم اسکو چاہیے ترک ِجہاد کی
دُنیا کو جسکے پنجۂ خونیں سے ہو خطر
باطل کے فال و فر کی حفاظت کے واسطے
یورپ زرہ میں ڈوب گیا دوش تا کمر
ہم پوچھتے ہیں شیخ ِکلیسا نواز سے
مشرق میں جنگ شر ہے تو مغرب میں بھی ہے شر؟
حق سے اگر غرض ہے تو زیبا ہے کیا یہ بات
اسلام کا محاسبہ، یورپ سے درگزر !

دنیا میں صرف مسلمانوں کا محاسبہ اور محاصرہ ہوا ہے جب کہ یورپ اور امریکا کو کھلی چھوٹ. کیا یہ انصاف ہے؟ یہ انصاف نہیں ہے کیونکہ

تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگ ِ مفاجات

Quaid R.A. said about him:-
“His message to humanity is action and realization of one’s self.”
“Faith in God and unceasing and untiring action is the essence of his message. ”

And some of his verses from various poems:-

؎ ہو بہو کهینچے گا لیکن عشق کی تصویر کون؟
اٹھ گیا ناوک فگن، مارے گا دل پر تیر کون؟

؎ تیرے احساں کا نسیم صبح کو اقرار تھا
باغ تیرے دم سے گویا طبلئہ عطار تھا

؎ اقبال بهی اقبال سے آگاہ نہیں ہے
کچھ اس میں تمسخر نہیں، والله نہیں ہے

؎ ٹھہر سکا نہ کسی خانقاہ ميں اقبال
کہ ہے ظريف و خوش انديشہ و شگفتہ دماغ

؎ مسلماں کو مسلماں کر ديا طوفان مغرب نے
تلاطم ہائے دريا ہی سے ہے گوہر کی سيرابی

؎ تيری خودی کا غياب معرکہ ذکر و فکر
تيری خودی کا حضور عالم شعر و سرود

؎ تو بھی ہے اسی قافلہ شوق میں اقبال
جس قافلہ شوق کا سالار ہے رومی

؎ زیارت گاہ اہل عزم و ہمت ہے لحد میری
کہ خاک راہ کو بتایا میں نے راز الوندی

اقبال کو ساری انسانیت سے محبت تھی آپ چاہتے تھے کہ کسی بھی انسان کا تقدس پامال نا ہو۔

یاد رکھیں جو قوم اپنے محسن کی یاد میں بخل سے کام لے ذلالت اسکا مقدر بن جاتی ہے۔

علامہ اقبال ہمارے دل کی دھڑکن ھے مگر آج کے دن یہ دھڑکن تیز ضرور ھو جاتی ہے۔

اللہ کے اس مرد مجاہد اقبال کو آؤ سب مل کر سلام پیش کریں۔

اللہ ہم سب کو ان کے پیغام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔

آمین یارب العالمین

( نوٹ : سب سے التماس کی جاتی ہے کہ اس مرد مجاہد کی برسی کے موقع پر ایک بار سورہ فاتحہ اور تین بار سورہ اخلاص پڑھ کر ان کو اصال ثواب کے لئے دعا کریں )