کابینہ میں نئے چہرے تحریر جاوید صدیق

0
121

بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے پچاس کی دہائی میں جب وزیراعظم لیاقت علی خان کے قتل کے بعد پاکستان میں وزرائے اعظم ہفتوں اور مہینوں میں تبدیل ہو جاتے تھے طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں اتنی جلدی دھوتیاں تبدیل نہیں کرتا جتنی جلدی پاکستان میں وزرائے اعظم تبدیل ہو جاتے ہیں۔ یہ دور وہ تھا جب لیاقت علی خان کے قتل کے بعد خواجہ ناظم الدین ‘ ملک غلام محمد‘ چوہدری محمد علی‘ محمد علی بوگرہ‘ آئی آئی چندریگر‘حسین شہید سہرودی اور فیروز خان نون قریباً سات سال کے عرصہ میں اقتدار میں آئے اور گے ۔

ضرور پڑھیں: سٹاک مارکیٹ میں مندا‘ ایک ہفتے کے دوران سرمایہ کاروں کے 72 ارب روپے سے زائد ڈوب گئے
ایوب خان کے دور کو بعض حلقے سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کا دور سمجھتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی سویلین حکومت قدرے مستحکم تھی لیکن دوبارہ بھاری اکثریت سے وزیراعظم بننے کی خواہش نے مسٹر بھٹو سے ایسی غلطیاں کرائیں جو نہ صرف ان کے اقتدار کو لے ڈوبے بلکہ خود انہیں پھانسی کے پھندے تک پہنچا دیا۔ جنرل ضیاء الحق کے گیارہ سالہ ’’اسلامی دور‘‘ کے بعد نوے کی دہائی میںکو ئی بھی منتخب حکومت دو سے اڑھائی سال سے زیادہ نہ چل پائی۔ 1999ء میں فوجی ٹیک اوور کے بعد ایک دہائی تک صدر جنرل مشرف کا دوررہا۔ ان کے بعد پی پی پی اور مسلم لیگ کی حکومتیں اپنی آئینی مدت پوری کرنے میں کامیاب رہیں۔

2018ء میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ’’تبدیلی‘‘ اور ’’نئے پاکستان کی تعمیر‘‘ کے نعرے کے ساتھ اقتدارمیں آئی۔ پی ٹی آئی نے کابینہ میں نئے چہرے متعارف کرائے۔ یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ لوگ نیا پاکستان بنائیں گے۔ وزیر خزانہ اسد عمر کے بارے میں یہ تاثر تھا کہ وہ ایک بڑے معیشت دان ہیں۔ ان کے پاس نجی شعبہ کی ایک بہت بڑی کمپنی چلانے کا تجربہ تھا۔ اسد عمر کو عمران خان نے انتخابی مہم کے دوران ہی وزیر خزانہ بنانے کا اعلان کر دیا تھا۔ اسد عمر مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کی معاشی پالیسیوں کے ایک بڑے ناقد تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں پارٹیوں نے پاکستانی معیشت کا ستیاناس کر دیا ہے۔ کرپشن اور نااہلی کے باعث پاکستان کی معاشی ترقی رک گئی۔ ملک مقروض ہوگیا۔ بجٹ خسارہ بڑھ گیا زرمبادلہ کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہوگئے۔ اسد عمر نے ابتداء میں آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کا اعلان کیا ۔ سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات اور چین کے ڈالروں کی مدد سے آئی ایم ایف کا متبادل ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن انہیں کامیابی نہ ملی۔ بالآخر انہیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔ وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن میں قرض نہ لینے‘ بیرون ملک پاکستانیوں کی مدد سے ملکی معیشت چلانے کے جو اعلانات کئے تھے ۔ اب سوشل میڈیا میں ان اعلانات کی کلیبس چلا کر مخالفین وزیراعظم پر پھبتیاں کس رہے ہیں۔ سات ماہ کے بعد وزیراعظم نے اپنے فیورٹ اسد عمر کو کابینہ سے ہی فارغ کردیا ہے۔ وزیر صحت عامر کیانی کے بارے میں تاثر تھا کہ خان صاحب کے قریبی رفیقوں میں شامل ہیں۔ لوگ یہ بھی دعویٰ کرتے رہے کہ عامر کیانی نے عمران خان پر بڑی انوسٹ منٹ کی ہے ان کی وزارت پکی ہے لیکن جب ادویات کی قیمتوں میں کئی سو گنا اضافہ ہوا تو یہ آوازیں اٹھنے لگیں کہ ادویات ساز کمپنیاں وزیر صحت کے ساتھ مل کر اپنا کام دکھا گئی ہیں تو شور مچ گیا ماضی میں ادویات کی قیمت بڑھنے کی وجہ ’’وزارت صحت اور ادویات ساز کمپنیوں کے گٹھ جوڑ کو قرار دیا جاتا رہا ہے۔ عامر کیانی پر مبینہ طور پریہ الزام بھی تھا کہ انہوں نے بعض نئی ادویات ساز کمپنیوں کو لائسنس جاری کئے

وزیراطلاعات فواد چوہدری بھی بہت پکے وزیر سمجھے جاتے تھے لیکن وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھے پی ٹی آئی کے ترجمانوں کے ساتھ ان بن اور میڈیا کے ساتھ حکومت کے تعلقات میں قدرے سرد مہری نے چوہدری صاحب کو سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت تک پہنچا دیا۔

وزیر مملکت شہر یار آفریدی کے بارے میں بھی وزیراعظم کو بیوروکریسی اور دوسرے اداروں سے اچھی رپورٹیس نہیں مل رہی تھیں وہ بھی فارغ ہوگئے ۔رہ گئے غلام سرور خان انہیں پٹرولیم کی وزارت سے فارغ کرکے ایوی ایشن کا قلمدان دیا گیا ہے۔ سرور خان نے پٹرولیم کی وزارت اس لیے لی تھی کہ ان کے پرانے سیاسی حریف چوہدری نثار علی خان پٹرولیم کے وزیر رہے تھے۔ پٹرولیم کی وزارت لے کر انہیں شاید یہ تسکین ہورہی تھی کہ وہ اپنے حریف کی پرانی کرسی پر براجمان ہوگئے ہیں۔ لیکن پٹرولیم کی وزارت ایک کلیدی وزارت ہے۔ اس وزارت کی ورکنگ اور فیصلوں کا براہ راست اثر عوام پر پڑتا ہے ان کی وزارت میں پٹرولیم مصنوعات اور گیس کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے نے عوام کی واقعی چیخیں نکال دیں۔ پٹرولیم منسٹری کی بیوروکریسی بھی غلام سرور خان کے بارے میں گلے شکوے وزیراعظم تک پہنچاتی رہتی تھی۔ جو نئے چہرے کابینہ میں شامل ہوئے ہیں ان میں اکثر ٹیکنو کریٹس ہیں۔ دیکھتے ہیں وہ ’’نیا پاکستان‘‘ بنانے میں عمران خان صاحب کا کس حد تک ہاتھ بٹاتے ہیں۔