صاحبزادہ سلطان محمد علی (جامع شخصیت اورعالمی ریکارڈزپر طائرانہ نظر) انتخاب امتیاز شیخ

0
40

صاحبزادہ سلطان محمد علی (جامع شخصیت اورعالمی ریکارڈزپر طائرانہ نظر)

صاحبزادہ سلطان محمدعلی جنوبی ایشیاء کے مشہور صوفی بزرگ اور شاعر حضرت سلطان باہوؒ کے خانوادہ کے چشم و چراغ ہیں جنہیں خبررساں ادارے “صاحبزادہ سلطان” کے نام سےپکارتے ہیں – دھیمہ لہجہ ، انکساری کے ترازو پہ تلے ہوئے الفاظ ، چال میں متانت اور وقار ، شرم و حیا میں ڈوبی نیچی نگاہیں ۔ لیکن قومی و ملی زندگی میں تحرک اور مشکل کھیلوں کے سخت میدانوں میں کامیابیوں پہ کامیابیاں دیکھ کر صاحبزادہ سلطان کی شخصیت اقبال کے مصرعہ ’’نرم دمِ گفتگو ، گرم دمِ جستجو‘‘ کی بہترین مصداق لگتی ہے ۔

گفتار میں صداقت کردار میں شرافت ، علم دوست ، تعلیم و تحقیق کیلئے بے پناہ خدمات، علامہ اقبال کے بہترین شارح ، طریقتِ قادریہ کے عظیم راہنما ، اَمَن کے داعی ، بُلند نظر تحریکی قائد ، مُلکی و عالمی حالات سے مکمل آگاہ، افکار میں جدّت و قدامت کا حسین امتزاج ، پاکستان کو روحانی کمٹمنٹ سمجھنے والے ، سبز ہلالی پرچم کی سربلندی کیلئے کوشاں ، قانون کی حکمرانی کے علمبردار، گھُڑ سوار ، آف روڈ ریسنگ چیمپئن ، غرضیکہ ایک ہمہ جہت و ہمہ گیر جامع شخصیّت ۔

’’صاحبزادہ سلطان‘‘ کوراقم اِس خاص زاویہ نظرسےدیکھتاہےکہ کیسےاس خوب رُونوجوان نےقومی و عالمی ریکارڈز قائم کئےجنہیں دیکھ کر آدمی ششدر رہ جاتا ہے – ان ریکارڈزمیں کچھ کاتعلق، آپ کی ذاتی خدادادصلاحیتوں اور قابلیت کامنہ بولتاثبوت ہے جبکہ کچھ قائدانہ اوصاف کے مظہر ہیں- ریگستان وصحراکےپُرخطرراستوں پرڈرائیوکرنا ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کے مترادف ہےلیکن صاحبزادہ سلطان نے لیہ مظفر گڑھ کےوسیع و عریض تھل( صحرا خود وسیع ہونےکا استعارہ ہے)کےٹریک پر ریس کے دوران ڈرائیور سائیڈکا ٹائر پھٹ جانے کے باوجود کم و بیش40 کلومیٹر بقیّہ ریس کوتین ٹائروں پرمکمل کیا جو راقم کی تحقیق کے مطابق بغیر ٹائر کے صحرا کے کٹھن راستوں پر اتنا طویل سفر ایک ریکارڈ ہے ۔

صاحبزادہ سُلطان نے آف روڈ ریس کی دُنیا میں قدم رکھنے بعد ’’ٹیم سُلطان‘‘ کی بُنیاد رکھی جس سے پاکستان میں جدید ریسنگ ٹرینڈز متعارف ہوئے ۔ مزید برآں اس ٹیم کے زیر اہتمام اُردو زبان میں موٹر سپورٹس کا پہلا باضابطہ میگزین شروع کرنا نہ صرف اُردو زبان اور موٹر سپورٹس کی خدمت ہے بلکہ اپنی نوعیت کا واحد میگزین ہونے کے ناطے ایک ریکارڈ بھی ہے ۔

مزید یہ کہ 19 اپریل کو “متحدہ عرب امارات” میں باہا چیمپین شپ 2019ء میں 30 کلومیٹرپرگاڑی کا شاک ٹوٹ جانے کے باوجود بغیر شاک کے ریس جاری رکھی اوراگلے 118 کلومیٹرصرف 3 شاک پرریس کی اورتاریخ رقم کر کے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا اورپاکستان کیلئےپہلی آف روڈانٹرنیشنل ٹرافی جیتی، سبز ہلالی پرچم کے رنگوں میں روشنیاں بڑھ گئیں یعنی ایک اور نمایاں ریکارڈوطنِ عزیز پاکستان کے نام ہوا-

ریس میں یہ ریکارڈزبنانےکےعلاوہ ملکِ پاکستان کو ایک اور شاندار عالمی ریکارڈسےنوازا جو اُن کی قائدانہ خصوصیات کاثبوت ہےکہ مارچ 2019ء خانیوال میں” آل پاکستان سلطان نیزہ بازی” کا انعقاد کروایا اور چھ عالمی ریکارڈز پاکستان کے نام کئےجن کی تفصیل درج ذیل ہے:
1. ایک سو چھیاسٹھ (166) سیکنڈز میں نوے (90) کلوں (اہداف) کو نشانہ لگانے کا عالمی ریکارڈ
2. بیک وقت نیزہ بازی کے ٹریک پر چوبیس (24) گھوڑوں کے ایک ساتھ دوڑنے کا عالمی ریکارڈ
3. بیک وقت چھ ٹیموں کا دوڑ کر ہدف کو نشانہ لگانے کا عالمی ریکارڈ
4. ایک سو چھیاسٹھ (166) سیکنڈز کے اندر تیس (30) ٹیموں کے دوڑنے کا عالمی ریکارڈ
5. سنگل لائن میں 6 ٹیموں کے ایک ساتھ دوڑنے کا عالمی ریکارڈ
6. ایک سو چھیاسٹھ (166) سیکنڈز میں ایک سو بیس(120) گھوڑے فینش لائین پر پہنچنے کا عالمی ریکارڈ
مذکورہ بالاتمام ورلڈ ریکارڈز مختلف ورلڈ ریکارڈ اداروں کو بھجوائے گےہیں-

ان ریکارڈز کے علاوہ ایک شاندار ، بے مثال اوربےنظیر کارنامہ، کرائسٹ چرچ نیوزی لینڈ کی مسجد میں شہید والے مسلمانوں سے انوکھا اظہارِ یکجہتی تھا جِسے دُنیا بھر میں بے حد سراہا گیا ۔ تحقیقی ادارے مسلم انسٹی ٹیوٹ (جس کے بانی بھی صاحبزادہ سلطان ہیں) کےپلیٹ فارم سے صاحبزادہ سلطان کا 12 اپریل 2019 کوتقریباًبیس ہزار افراد پر مشتمل کرائسٹ چرچ کی النور مسجد کے نقشہ پہ ایک بولتی انسانی مسجد بنائی گئی جس میں “اسلام امن ہے” کاپیغام دیا گیا – جواپنی نوعیت کی منفردمسجدہے- یہ تاریخ میں انسانوں سےبنائی گئی پہلی مسجد قرارپائی اورمسجدکی پکارتھی “اسلام اِز پیس” ( یعنی بیس ہزار انسان مسجد کی شکل میں ڈھلے یک زبان “اسلام امن ہے” کے فلک شگاف نعرہ بلندکرتے رہے ) – اس پاکیزہ اورانسانی تاریخ میں منفرد حیثیت کے حامل کارنامےسےبھی صاحبزادہ سلطان نےپاکستان کونوازاجس کی تفصیل “مسلم انسٹی ٹیوٹ” کی ویب سائیٹ سے دیکھی جاسکتی ہے-

اس سے پہلے 2017 کے نومبر میں علامہ اقبال پہ ایک تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد بھی ’’صاحبزادہ سُلطان‘‘ کی سرپرستی میں اسلام آباد میں کیا گیا جس میں دُنیا کے چار بر اعظموں کے اٹھارہ ممالک سے اہلِ علم دانش نے شرکت کی جن میں سوڈان کے سابق وزیر اعظم سمیت کئی ممالک کے وزرا اور نامی گرامی لوگ شریک تھے ۔ یہ بھی ایک ریکارڈ تھا کہ اس سے پہلے نہ صرف پاکستان بلکہ دُنیا بھر میں کہیں بھی حکیم الامت مفکرِ پاکستان علامہ اقبال پہ اتنی بڑی اور اتنی بھرپور عالمی کانفرنس منعقد نہیں ہوئی ۔

متحدہ عرب امارات میں باہا ۲۰۱۹ میں صاحبزادہ سُلطان کا پاکستان کیلئے رنر اپ ٹرافی جیتنا پاکستان کیلئے ایک اعزاز بھی ہے اور ایک ریکارڈ بھی ۔

اقبال کے مردَ مومن کی عملی تعبیر و تصویر ، حضرت سُلطان باھُو کے اس عظیم فرزند کی نذر اقبال کے یہ شعر کرتا ہوں :
جس سے جگرِ لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم ۔ دریاؤں کے دِل جس سے دہل جائیں وہ طوفان

فطرت کا سرودِ ازلی اس کے شب و روز ۔ آہنگ میں یکتا صفتِ سورۂ رحمان

قدرت کے مقاصد کا عیّار اس کے ارادے ۔ دُنیا میں بھی میزان ، قیامت میں بھی میزان