کرپشن کا خاتمہ ھو گا تو پا کستان فلاحی ریاست بنے گی کالم نگار چوہدری محمد مختار جٹ ایڈووکیٹ

0
101

کرپشن کا خاتمہ ھو گا تو پا کستان فلاحی ریاست بنے گی
کالم نگار چوہدری محمد مختار جٹ ایڈووکیٹ

/////////^//////////:://///////////
پاکستان 1947ء اور چین1949ء میں آزاد ملک کی حثیت سے دنیا کے نقشہ پر آئے۔ چین کی آزادی ایک انقلابی قیادت لیڈرشپ ماوزے تنگ کی مرھون منت تھی۔ پاکستان کی آزادی عظیم قائد جناب قائد اعظم محمد علی جناح کی سیاسی بصیرت اور مدبرانہ پالیسی کا نتیجہ تھی لیکن قائد اعظم کی مسلم لیگ کوئی انقلابی جماعت نہ تھی یہ قائداعظم کی لیڈر شپ کا کمال تھا کہ غیر انقلابی لوگوں کی اکثریت اور چند انقلابی لوگوں کو معاونت سے ایک آزاد ملک بنا دیا۔
قائدکی نظر میں آزاد مملکت کے قیام کا مقصد ایک ایسی مملکت تھا جو مسلمانان برصغیرکی عظیم جدوجہد اور قربانیوں کے نتیجے میں معرض وجود میں آئی جو آزاد و خود مختار ھو ۔ جہاں حقیقی جمہوری نظام قائم ھو۔ معاشی مساوات ، عدل و انصاف ، حقوق انسانی کا تحفظ ، قانون کا احترام، امانت و دیانت جس کی نمایاں خوبیاں ھوں ، جہاں کی بیوروکریسی عوام۔کی خادم ھو، جہاں کی پولیس اور انتظامیہ عوام کی محافظ ھو،
لیکن 1949ء میں آزاد ھونے والا ملک چین معاشی طور پر دنیا کو پیچھے چھوڑ کیا لیکن ھم ساری دنیا سے پیچھے چلے گئے اس کی وجوھات کیا ھیں ایک بات تو سمجھ آتی ھے ماوزے تنگ کافی دیر آزادی کے بعد زندہ رھئے جس نے ملک کو ایک سمت دی شومئے قسمت قائد اعظم کو یہ موقع نہ ملا وہ 1948ء میں فوت ھو گئے ان کے مخلص انقلابی ساتھی 1951ء میں لیاقت علی خان صاحب شہید کر دئے گئے چند ھی سال بعد وہ لوگ قیادت اور حکومت سے باھر کر دئے گئے جن کا تحریک پاکستان میں کوئی کردار تھا قیادت اور حکومت ان لوگوں کے حوالے ھوگئی جو 1946ء میں ھوا کا رخ دیکھ کر مسلم لیگ میں آئے تھے جن کا تحریک پاکستان میں رتی بھر کردار نہ تھا ۔مفاد پرست تھے جنہوں نے حکومت کا سوچا ملک کا نہ سوچا۔ بیوروکریسی کو مضبوط کیا ۔ اقربا پروری ھوئی۔ دولت پسندی اور ارتکاز دولت کا رجحان پیدا ھوا اس طرح کرپشن اوپر سے لے کر نیچے تک ھمارے اداروں میں صراحت کر گئی ۔ تقریبا” چار دھائیوں سے کرپشن کو حکمرانوں نے اپنا حق سمجھ کر ملک کو خوب لوٹا وطن عزیز کو عالمی سامراجی اداروں کا مقروض بنا دیا ملک غریب ومقروض ھوتا گیا غریب غریب تر ھوتا گیا متوسط طبقہ کو اپنی سفید پوشی بچانا مشکل ھو گیا ھے۔ ادارے تباہ کر دئے گئے اداروں میں اپنے نمک خوار بیٹھا دئیے گئے جن کی مد د سے حکمرانوں نے اندرون بیرون ملک اپنی جائیدادیں بنا ئیں اپنی اولادوں کو ایڈجسٹ کیا جو اربوں پتی ھیں اور پاکستان ایک دنیا میں ایک بھیکاری ملک بنا دیا گیا ھے آج صبح شام میڈیا پر 40 سال سے حکمرانی کرنے والے خاندانوں کے گماشتے مختلف حیلوں بہانوں سے 40 سالہ دور اقتدار میں ملک کی بربادی کرنے والوں کی صفائیاں دے رھے ۔ چین میں تو ماوزے تنگ نے کرپشن کے خاتمے کے سفر کا آغاز سخت فیصلوں سے کیا اور جلد ھی اس نے چین سے کرپشن ختم کر کے اسے ایک عظیم طاقت بنا دیا لیکن ھمارے ملک میں ایسے نہیں ھو رھا اس کی وجہ ھمارا نظام حکومت ھے چین میں تو کرپشن کی سزا پھانسی بھی ھوئی لیکن ھمارے ھاں تو کرپٹ سیاست دان کو بیوروکریٹ کو گرفتار کرنا ھی محال ھے کیونکہ ھمارا نظام عدل ۔ ھماری جمہوریت۔ ھماری عوامی جہلانہ سوچ ۔ ھماری 40 سالہ پیدا کی گئی غلامانہ زھینیت نےکرپشن کے مفہوم کو ھی بدل دیا ھے جب بھی کوئی کرپٹ پھندا میں آتا ھے بھاڑے پے لگے ھوئے گمشا شتے ان کے حق میں ھر سطح پر عجیب غریب آوازیں نکال رھے ھوتے ھیں غریب سادہ لوح عوام کو گمراہ کر لیتے ھیں اور سادہ لوح عوام کرپٹ لوگوں کے حق میں نعرے لگا رھئے ھوتے ھیں اور کرپٹ سیاست دانوں کے پالتو جانور یہ آواز نکال رھے ھوتے ھیں ھمارے لیڈروں کو کیوں گرفتار کیا جا رھا ھے اگر ان کو پکڑا ھے تو دوسروں کو بھی پکڑو انہنوں نے بھی تو کرپشن کی ھے سادہ لوح بھوکے عوام کو صرف جب اتنی سمجھ آگئی کہ ھمارے سیاست دانوں کی اولادیں بیرون ملک اور جائیدادیں بیرون ملک ان کو ھمارے پر حکمرانی کرنے کا کیا حق ھے ملک کی تقدیر بدل جائے گئی۔
اب سوال یہ ھے 40 سال سے جن لوگوں نے ھم پر راج کیا ھمیں سامراجی قرضوں کے بوجھ تلے دیا ان کا محاسبہ کون کر سکتا ھے یقینا” وہ آدمی کر سکتا ھے جو کبھی خود کرپشن میں ملوث نہ رھا ھو ۔ جسکی دیانت داری پر کوئی شک نہ ھو جو اعصابی طور پر محا مضبوط ھو ۔ بے خوف نڈر ھو جو کرپشن کے معاملہ میں اپنوں کو بھی معاف نہ کرے وہ ھے عمران خان جو فلاھی ریاست کے وعدے پر قائم ھے جو چین کی طرح کرپشن کے خاتمے کی پالیسی پر عمل پیرا ھے عمران خان نے سیاسی و فکری انقلاب کے ذریعے عوام کو سمجھا دیا ھے ان کے حقوق کیا ھیں ۔ ان پر ڈاکہ کیسے ڈالا جاتاھے کس نے ڈالا ھے ۔وہ سچے دل سے نئے پاکستان کے قیام میں اپنی تمام تر توانئیاں صرف کر رھا ھے وہ عوام کے مسائل کا ادراک رکھتا ھے جن کے ازالے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لا رھا ھے لیکن عمران خان کا مقابلہ ان تجربہ کار کرپٹ سیاستدانوں اور بیوروکریٹس سے ھے جن کے کئی مافیاز ھیں جنہنوں نے سادہ لوح عوام کے ذہنوں کو مفلوج کیا ھوا ھے بے پناہ وسائل سے عمران خان کو ناکام کرنے پر تلے ھوئے ھیں یہ مافیا ھی کا کمال ھے کہ اسد عمر جیسے آدمی کو مہنگاھی کے نتیجہ میں وزارت چھوڑنا پڑی ۔
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم ھونے کے بعد امید کی جا رھی تھی کہ روائتی نوکر شاھی میں بہتری آئے گی لیکن ایسا نہیں ھوا جہاں آج بھی پرانا افسر شاھی نظام رائج ھے جہاں رشوت کے بغیر غریب کا کوئی پرسان حال نہیں جہاں آج بھی کسی فائل کو کلیئر کروانے کے لیئے رشوت دینی پڑتی ھے ۔ جہاں آج بھی قابل افسروں کو پروٹوکول نہ دینے پر او ایس ڈی بنایا جا رھاھے جہاں آج بھی من پسند لوگوں کو من پسند سیٹوں پر نوازا جا رھا ھے ۔ جہاں آج بھی میرٹ کی دھجیاں اڑائی جا رھی ھیں ۔ جھاں آج بھی کئی کئی ماہ سے آفسر اساتذہ ۔ کلرک۔ گھر بیٹھے سرکاری تنخواہ کے مزے لوٹ رھے ھیں ۔ اگر نئے پاکستان میں بھی یہی ھونا ھے ۔ تو عوام کی مایوسی بڑھے گی اس سلسلہ میں حکومت کو سخت پا لیسی اپنانا ھوگی۔ عوام کو بھی بد دیانت سیاستدانوں کی سازشوں سے بچنا ھو گا عمران خان کو موقع دینا ھو گا تاکہ پاکستان سے کرپشن کا خاتمہ ھو پاکستان سامراجی ما لیاتی اداروں کے قرضوں سے نجات پا سکے اور پاکستان صیح معنوں میں اسلامی فلاھی ریاست بن جائے

شکریہ واسلام علیکم۔