حکومتی ادارے ہزارہ برادی کا تحفظ یقینی بنائے۔۔۔ کالم نگار ۔چوہدری محمد مختار جٹ ایڈووکیٹ

0
152

حکومتی ادارے ہزارہ برادی کا تحفظ یقینی بنائے۔۔۔
کالم نگار ۔چوہدری محمد مختار جٹ ایڈووکیٹ

پاکستان کی جملہ سیاسی جماعتوں ۔ جملہ حکومتی انجنسیوں پاکستان کے جملہ اداروں سے ایک سوال۔۔ کوئٹہ کی ھزارہ برادری کا تحفظ کرنا کس کی ذمہ داری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ھزارہ برادری پر حملہ نیا نہیں گزشتہ کئی حکو متوں کے ادوار میں اس قسم کے حملے ھوئے بچے مرے۔نوجوان مرے ۔ بچیاں مریں ۔ مائیں مری باپ مرے ۔ بھائی مرے خاوند مرے۔ ازواج مریں ۔ ان شہادتوں کے نتیجہ میں بچے یتیم ھوئے ۔ کئی خاندان اجڑ گئے ۔ نہ ن لیگ کی حکومت نے کچھ کیا ۔ نہ مشرف حکومت نے کچھ کیا۔ نہ پی پی حکومت نے کچھ کیا اب پتہ نہیں موجودہ حکو۔مت اس قتل عام کا کچھ کر پائے گی ۔ افسوس اس بات کا ھے قتل عام ھو جاتا ھے مزمت ھو جاتی ھے احتجاج ھو جاتا ھے دھرنا ھو جاتا ھے مذھبی قائدین تقریریں کر دیتے ھیں ۔ جلوس بھی نکال لیتے ھیں ۔ حکومتی وزیروں مشیروں سے مزاکرات ھو جاتے ۔ معاملہ ٹھپ ھو جاتا ھے کئی حکومتی ادوار سے یہ پریکٹس دیکھ رھئے ھیں کچھ عرصہ بعد پھر وقوعہ سرزد ھو جاتا ھے اخر اس کی وجہ کیاھے ۔ اگر اس کو شیعہ سنی کی بات کہیں یہ بھی سمجھ سے بالا تر ھے اگر ھزارہ برادری شیعہ ھے اس لیے اس کے خلاف کوئی دھشت گردی کرتا ھے یا کرواتا تو دیگر کے خلاف کیوں نہیں بچارے ھزارہ ھی نشانہ ستم کیو ں ۔ اکثر کہا جاتا ھے ھزارہ برادری پرامن اور کاروباری لوگ ھیں اگر ان پر آئے روز قیامت بوجہ کاروبار ھے اس پر غور ھونا چاھئے۔ اگر کوئی دھشت گرد شیعہ سنی فسادات کروانا چاھئتا تو اس سلسلہ میں ملک بھر کی تمام فرقہ وارانہ جماعتوں کے قائدیں کو حکومت بلا ئے اور ان کے زمہ لگائے کہ وہ چور تلاش کریں ھر کسی نے جو اپنی اپنی آڑھت اور دکانداری بنا رکھی ھے ان قائدین نے سادہ لوح عوام کو جو اپنے پیچھے لگایا ھوا ھے ان سے معلوم کیا جائے آپ فرقہ واریت کے نام پر جو اپنے اپنے فرقوں کے محافظ بنے ھوئے ھیں کیا آپ کی صفوں میں تو چور نہیں گھسے ھوئے۔ جو اپنے مفاد کے لئے خاص ماحول تو نہیں بناتے تاکہ سادہ لوح عوام کی کمائی آپ کے کام آتی رھئے۔
اگر فرقہ پرست قائدیں صاف ھو جائیں ۔ تو پھر ھماری حکومت بین الاقوامی صورتحال پر غور کرے کیا کوئی دشمن ملک تو یہ نہیں کروا رھا لیکن چور پھر بھی فرقہ پرست جماعتوں میں ملیں گے کیونکہ دشمن ملک کو آلہ کار کسی قسم کی واردات کرنے کروانے کے لئے واردات کی نوعیت کے مطابق وھیں سے ملے گا جہاں وہ ماحول پایا جاتا ھو گا ۔ یہ بات اٹل ھے دھشت گرد کا نہ کوئی مذھب ھے نہ کوئی وطن یہ لوگ انسا نیت کے دشمن ھیں ان کو تلاشکرکے تلف کرنا چاھئے ۔ با با گرو نانک نے کہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلے انسانیت سیکھو انسانیت پر ایمان لائیو پھر بے شک ھندو۔ مسلم ۔ یا بدھ بن جائو۔ آخر اس بلا کو تلاش تو ھونا چاھئے جو آئے روز ھزارہ برادری پر قیامت ڈھا رھی ھے ۔
کیا زرداری۔ میاں صاحبان۔ فضل الرحمن مولانا صاحب ۔ قادری صاحب ۔مندوخیل صاحب ۔ منگل صاحب ۔ اسفندیار صاحب۔ شیر پاو صاحب ۔ کی سیاست صرف اپنے اور اپنی اولادوں کے اثاثے بچانے کے لئے ھے اپنے مفاد کے لیئے عمران خان کے
خلاف محاذ بنانے کے لئے ھے ۔۔ کیا ھزارہ برادری پاکستان کی محب وطن عوام نہیں ھے ان کے تحفظ کے لئے دھشت گردی۔ اور فرقہ پرستی کے خلاف محاز کیوں نہیں بنتے مولانا فضل الرحمن صاحب اس بلا کے بارے سیاسی لیڈروں سے ملاقاتیں کیوں نہیں کرتے جس نے مظلوم ھزارہ برادری کو برباد کر دیا ھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔آخر میں حکومت اور اپوزیشن دونوں سے التماس ھے فرقہ ورانہ دھشت گردی کی جڑیں فر قہ پرست جماعتوں کی معاونت سے تلاش کریں اور غیر ملکی شازشوں کا مقابلہ بھی قومی جذبہ سے کریں ۔ آخر میں پھر گزارش ھے ۔

پہلے انسان بنو۔ انسانیت پر ایمان لا و۔
بعد میں ھندو۔ مسلم ۔ سکھ۔ عیسائی ۔ بدھ جو مرضی بنے پھرو ۔ مظلوم کو تحفظ دو ۔ ھزارہ برادری کو انسانیت کے ناطے تحفظ دو ۔
شکریہ ۔۔ واسلام