ہزارہ جل رہا ہے پوائنٹ ٹو پوائنٹ کالم نگار انجینئروسیم اقبال میئو

0
141

ہزارہ جل رہا ہے
پوائنٹ ٹو پوائنٹ
کالم نگار انجینئروسیم اقبال میئو
———————– ————– اپنے پیاروں کے جسد خاکی کے ساتھ دھرنا دئے یہ لوگ یمن،فلسطین اور کشمیر میں جاری قیامتِ صغریٰ کے متاثرین نہیں بلکہ ملک پاکستان کی ہزارہ کمیونٹی کے لوگ ہیں۔۔میرے ناقص خیال کے مطابق یہ میرے ملک کا یہ واحد قبیلہ ہے جس کی مائیں بچہ جنم دیتے وقت اس کی درازعمری کی بجائے اسکی طبعی موت کی دعاکرتی ہیں۔۔ہزارہ برادری کی نسل کشی کا آغاز کرنے والا پہلا کردار ظہیرالدین بابرتھا۔۔کوئٹہ کے پودگلی چوک کے درودیوار کی سسکیاں آج بھی سنائ دیتی ہیں جہاں 2001 میں ہزارہ کمیونٹی کے پہلے فرد کو قتل کرکے اس لامتناہی عفریب کو جنم دیا جو اب تک سینکڑوں والدین کو جوانی میں ضعیف،ماؤں کی آنکھوں کی بینائ چھین کر اور جوان بہنوں کی چادریں نگل چکا ہے۔۔ صدافسوس!یہ مذہبی جنونیت بشمول سنی اور شیعہ کے ہزاروں گھروں اور ملک کے گوہر نایاب دفن کرچکی ہے۔۔۔اگر سانحہ نشتر پارک کراچی ،سانحہ رشیدآباد ملتان اور پارا چنارامام بارگاہ کے قاتل ابھی تک دریافت نہی ہوسکتے۔۔تو اسی طرح ہزارہ کے لوگوں کے لہوکے پیاسے بھی کبھی منظر عام پہ نہی آسکتے۔۔شاہی فرمان کے مطابق صرف منظور پشین ہی اس ریاست کا بچہ نہی بلکہ مذہبی شدت پسندی کی بھینٹ چڑھنے والا ہر شہری بھی اس ریاست کا بچہ ہے اس کے قاتلوں کی نشاندہی اور باقی ماندہ کی حفاظت بھی اسی ریاست کی ذمہ داری ہے۔۔ ہرمسلک کے متشدد ونگ کے ساتھ ریاست کے کرتا دھرتاؤں کی سلفیاں تو نظرآتی ہیں لیکن ان کے ہاتھ روکنے کے عملی اقدامات نہیں۔۔۔اگر مستقبل میں یہ مذہبی ٹارگٹ کلنگ نہ رکی تو ہزارہ قبیلے کی اجتماعی قبروں کی بجائے یہ قبریں پاکستان کے مستقبل اور امن کی ہونگی۔ والسلام تحریر #انجینئروسیم اقبال میئو (آپ کی رائے کا شدت سے منتظر)