پاکستان کے10 پراسرار مقامات‎”‎ انتخاب محمد اقبال شاہد چونیاں .

0
72

پاکستان کے10 پراسرار مقامات‎”‎

انتخاب محمد اقبال شاہد چونیاں
.
آپ نے دنیا بھر کے پراسرار مقامات کے بارے میں سن رکھا ہوگا لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ایسے ہی کچھ مقامات پاکستان میں بھی ہیں جن کے بارے میں طرح طرح کی کہانیاں مشہور ہیں؟کچھ جگہوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں پریاں رہتی ہیں تو کسی کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہاں روحیں راج کرتی ہیں۔
آئیے آپکو آج دس ایسے مقامات کے بارے میں بتاتے ہیں۔
.
01- کوہ چلتن:
کوئٹہ کے قریب واقع اس پہاڑی سلسلے کو ’چیل تن‘‏‎ کہا جاتا ہے یعنی ’چالیس جسم اس جگہ کے بارے میں مشہور ہے کہ یہاں ان چالیس بچوں کی روحیں بھٹکتی ہیں جن کے والدین نے انہیں وہاں تنہاء مرنے کے لئے چھوڑ دیا تھا۔
.
02- مکلی کا قبرستان:
صوبہ سندھ کے شہر ٹھٹھہ کے قریب واقع یہ قبرستان اپنے اندر کئی داستانیں چھپائے ہوئے ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا قبرستان ہے جہاں قبریں منزلوں میں بنائی گئی ہیں تیرھویں صدی کے اس قبرستان میں ایک لاکھ سے زائد قبریں ہیں اور دفن ہونے والے لوگوں میں علاقے کے سردار ، نیک لوگ اور حکمران شامل ہیں لیکن اب یہاں کسی کو دفن نہیں کیا جاتا۔
.
03- شہر روغن:
بلوچستان میں واقع اس شہر کے بارے میں مشہور ہے کہ یہاں جن یا بدروحیں موجود ہیں۔ سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں یہاں ایک بدی الجمال نامی شہزادی رہا کرتی تھی لیکن اس پر جنات کا سایہ تھا کئی شہزادوں نے اسے ان جنات سے چھڑانے کی کوشش کی لیکن تمام ناکام ہوئے اور پھر ایک دن شہزادے سیف الملوک نے اسے ان جنات کے چنگل سے چھڑایا لیکن اب مشہور ہے کہ یہ جن اب اس علاقے کی پہاڑیوں، غاروں اور ندیوں پر حکومت کرتے ہیں اور یہاں آنے والے لوگوں پر حملہ کرتے رہتے ہیں۔
.
04- جھیل سیف الملوک:
کہا جاتا ہے کہ صدیوں قبل ایک ایرانی شہزادہ سیف الملوک اور پریوں کی رانی ایک دوسرے کے عشق میں مبتلا ہو گئے۔ لیکن کچھ روحوں کو یہ پیار ایک آنکھ نہ بھایا اور انہوں نے دونوں کو قتل کر دیا اور تب سے اب تک ہر رات کو پریاں اس جگہ آکر دونوں عاشقوں کو یاد کر کے روتی ہیں۔
.
05- موہاتا پیلس:
کراچی میں واقع اس شہر کے بارے میں مشہور ہے کہ یہاں برطانوی دور سے مافوق الفطرت اشیاء کا قبضہ ھے۔ یہ پیلس 1927ء میں بنایا گیا تھا اور کہا جاتا ہے کہ یہاں بہت عجیب حرکتیں دیکھنے کو ملتی ہیں،‏‎ کبھی پیلس کی روشنیاں خودبخود مدھم اور تیز ہوجاتی ہیں اور کبھی غیر مانوس سی آوازیں آنے لگتی ہیں۔
.
06- موہنجو دڑو:
دو ھزار سال پرانا یہ شہر اپنے اندر کئی راز سمیٹے ہوئے ہے سائنسی تحقیق کے مطابق یہ شہر تھرمل نیوکلئیر دھماکے کی وجہ سے تباہ ھوا اور اب سائنسدان اِس بات پر حیران ہیں کہ دو ھزار سال قبل کس طرح اس علاقے کے لوگوں کو ایٹمی دھماکے کا علم تھا؟ تاہم ابھی تک اس راز سے پردہ نہیں اٹھایا جاسکا
.
07-کالاباغ:
آپ نے کالاباغ ڈیم کے بارے میں تو بہت کچھ پڑھ رکھا ہوگا لیکن کیا آپکو معلوم ہے کہ جس جگہ یہ ڈیم بنا تھا وہاں آج بھی پراسرار بڑھیا راتوں کو پھرتی ہوئی پائی جاتی ہے جن لوگوں نے اس بڑھیا کو دیکھا ہے اُن کا کہنا ہے کہ یہ چھوٹے قد فربہ جسم لمبے بالوں والی بڑھیا راتوں کو وہاں چلتی ہوئی دیکھائی دیتی ہے۔
.
08- کوہ سلیمان:
تخت سلیمانی کی سب سے بلند چوٹی کوہ سلیمان ہے اور پشتو روایات کے مطابق یہ حضرت سلیمان علیہ السلام سے منسوب ھے۔ ابن بطوطہ کے مطابق اس چوٹی پر پہنچنے والے پہلے شخص حضرت سلیمان تھے اور یہ بھی روایات میں ملتا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام اور ان کی اولاد نے اردگرد کے علاقے میں سکونت اختیار کی۔
.
09- چوکھنڈی کا قبرستان:
یہ قبرستان کراچی سے29 کلومیڑ مشرق میں واقع ہے۔ جس میں ماضی کے بادشاہ اور ملکائیں مدفون ہیں اِس متروکہ قبرستان کے بارے میں مشہور ہے کہ جیسے ہی سورج غروب ہوتا ہے تو یہاں موجود قبریں جلنے لگتی ہیں اور بہت زیادہ گرم ہوجاتی ہیں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ کچھ قبروں میں سے چیخ و پکار بھی سنائی دیتی ہے۔
‎.‎
10- پیر چٹال نورانی گندھاوا:
بلوچستان کے علاقے جھل مگسی کے قریب ایک نخلستان آباد ہے اور اس کے پانی میں دو فٹ لمبی مچھلیاں پائی جاتی ہیں اور اگر کوئی انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرے تو یہ اُسے کاٹ کر موت کے گھاٹ اتار دیتی ہیں۔