ٹیچر کی کہانی۔۔چیونٹی کی زبانی۔۔۔۔۔حکومتوں کی کارستانی۔۔۔۔اہم کالم۔۔۔۔سلطان نیوز پر۔۔

0
103

ٹیچر کی کہانی۔۔چیونٹی کی زبانی۔۔۔۔۔حکومتوں کی کارستانی۔۔۔۔اہم کالم۔۔۔۔سلطان نیوز پر۔

”حکومت ٹیچرز کو کس طرح تنگ کر رہی ہے۔ اس کےلئے
ایک ”چیونٹی“ کی کہانی سنیں۔“

”چیونٹی“ ہر روز صبح سویرے اپنے کام پر جاتی تھی، فوراً ہی اپنا کام شروع کر دیتی تھی۔

”چیونٹی“ بہت محنت سے کام کرتی تھی، اسکی پروڈکشن بھی بہت زیادہ تھی اور وہ اپنے کام سے خوش بھی تھی۔

جنگل کا بادشاہ ”شیر“، ”چیونٹی“ کے کام سے بہت حیران تھا، کیونکہ وہ بغیر کسی آفیسر کے کام کرتی تھی۔

”شیر“ نے سوچا، اگر ”چیونٹی“ بغیر کسی آفیسر کے، اتنی زیادہ پیداوار حاصل کررہی ہے تواگر وہ کسی آفیسر، کی ماتحتی میں کام کرے تو اس کی پروڈکشن اس سے کئی گنا زیادہ ہوجائے گی۔

اس لیئے ”شیر“ نے ایک ”لال بیگ“، کو جو کہ آفس کا تجربہ رکھتا تھا اور رپورٹ لکھنے میں بہت مشہور تھا، ”چیونٹی“ پر آفیسر کے عنوان سے تعینات کر دیا۔

”لال بیگ“ نے ”چیونٹی“ پر کنٹرول رکھنے کی خاطر، کام کی جگہ پر اسکے آنے اور جانے کے وقت کو نوٹ کرنے والا ایک بورڈ لگا دیا۔

”لال بیگ“ کو ایک اور مددگار کی ضرورت تھی جو کہ رپورٹس کو ٹائپ کرے، اس لیئے ”لال بیگ“ نے اس کام کےلیئے، نیز فائلوں کو آرکائیوز کرنے کےلیئے ایک ”مکڑی“ کو تعینات کر دیا۔

”شیر“، ”لال بیگ“ کے کام سے خوش تھا۔
”شیر“ نے اس سے کہا کہ ایک گراف بنائے جس میں ”چیونٹی“ کی بڑھتی ہوئی پروڈکشن کی شرح درج ہو، جس کو میں جنگل کے باقی دوستوں کے سامنے پیش کروں۔

”لال بیگ“ نے اس کام کےلیئے ایک عدد کمپیوٹر اور پرنٹر خریدا، اور اس نے اس جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کےلیئے ایک عدد ریٹائر ”مکھی“ کو بھی ہائر کر لیا۔

”چیونٹی“ جو کہ کبھی بہت پر سکون ہو کر اپنا کام کرتی تھی، اب آئے روز کی میٹنگز اور کاغذی کاروائی میں اسکا ٹایم ضایع ہونے لگا ، جس نے اس کے اندر بیزاری پیدا ہونے لگی۔

”شیر“ اس نتیجے پر پہنچا کہ ایک داخلی آفیسر تعینات کرے، جو اس جگہ نظارت کرے، جہاں ”چیونٹی“ کام کرتی تھی اور یہ پوسٹ ایک ”ٹڈی“ کو دے دی گئی۔
”ٹڈی“ نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اپنے کام کرنے کی جگہ لیئے ایک کارپٹ اور ایک کرسی خریدی۔

اسی طرح ”ٹڈی“ کو اپنے کام کےلیئے ایک کمپیوٹر اور ہیلپر کی ضرورت تھی جو کہ اس نے سابقہ جاب والی جگہ سے منگوا لئے تاکہ بجٹ کی ترتیب اور منیجمنٹ کا کام آسانی سے انجام دے سکے۔

جس ماحول میں ”چیونٹی“ کام کر رہی تھی اب جذبات سے خالی ہوچکا تھا،اب اس میں کوئی جوش و خروش باقی نہیں رہا تھا۔ اب کوئی بھی ہنسی خوشی نہیں رہتا تھا بلکہ سب غمگین تھے۔

جب یہ رپورٹس ”شیر“ تک پہنچیں کہ ”چیونٹی“ کی پیداوار میں پہلے کی نسبت خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔

”شیر“ نے ایک اچھی پرسنیلٹی والے ”الو“ کو اپنا مشیر بنایا اور اسکو حکم دیا کہ وہ پروڈکشن میں کمی کی وجوہات کا پتہ لگائے ، اور ان وجوہات کا کوئی راہ حل بتائے۔

”الو“ نے اس کام میں تین مہینے لگائے اور کئی جلدوں پر مشتمل ایک رپورٹ تیار کی، اور اس نتیجے پر پہنچا کہ، مشکلات کی اصل وجہ، ورکرز کی زیادہ تعداد ہے۔

لہذا ورکرز کی تعداد کو کم کیا جائے۔

اس بناء پر ”شیر“ نے حکم دیا کہ ”چیونٹوں“ کو بہانے بہانے سے نوکری سے نکال دیا جائے، کیونکہ ”چیونٹی“ میں اب کام کرنے کا جذبہ باقی نہیں رہا۔