بجلی چوراور واپڈاملازمین تحریر ۔میاں عدیل اشرف

0
146

بجلی چوراور واپڈاملازمین

تحریر ۔میاں عدیل اشرف
انفارمییشن سیکرٹری
مرکزی پریس کلب چونیاں
03424106902

ہمارے معاشرے میں بجلی چوری بڑی عام ہو چکی اور ایسے لوگ بھی بجلی چوری میں ملوث پائے جاتے جو خود کو بڑے نیک اور ملک کے محافظ سمجھتے اور دوسروں کو ملکی حالات کو سلجھانے کا درس دیتے ہیں حکمرانوں پر تنقید بھی کرتے اور خود اپنے گریبان میں نہیں جانکتے کہ کیا ہم اپنے ملک و قوم کےبنائے گئے قوانین پر پورا اتر بھی رہیں ہے یا نہیں بس دوسروں پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں ہمارے اردگرد روزانہ کی بنیاد پر بجلی چوری پکڑی جاتی ہے روزانہ ایف آئی آر بھی درج ہوتی ہیں لیکن سمجھ نہیں آتی جیل میں آج تک کوئی بجلی چور نظر نہیں آیا اور ان کی بجلی بھی ویسے ہی چل ری ہوتی اور جو چوری کے میٹر اور اکثر مقامات سے ٹرانسفارمر بھی پکڑے جاتے کیا وہ میٹرز اور ٹرانسفارمر پہلے واپڈا کے ریکارڈ میں نہیں ہوتے کیا وہ لوگ میٹر اور ٹرانسفارمر خود گھروں میں کارخانے لگا کر تیار کرتے ہیں کیا واپڈا ملازمین جب ریڈنگ کے لیے جاتے ان کو معلوم نہیں ہوتا کہ یہ میٹرچوری کا ہے یا خراب ہے یا ہمارے دفتری ریکارڈ میں نہیں سب کچھ پتہ ہوتا لیکن تب کاروائی نہیں کی جاتی اور اگر کاروائی ہو بھی تو صرف فرضی اگر واپڈا ملازمین خود بجلی چوری کروانا چھوڑ دیں تو کسی کی جرأت نہیں کے وہ بجلی چوری کر لیں کوئی بھی محکمہ اتنا کمزور نہیں ہوتا جتنا اس محکمے کے ملازمین خود کمزور بنا دیتے ہیں اگر ملازمین خود ٹھیک ہوں تو سب کچھ ٹھیک ہو سکتا ہمارے معاشرے کا میڈیا روزانہ دیکھاتا ہے کہ اتنے میٹر اور ٹرانسفارمر پکڑے گئے لیکن یہ کوئی نہیں دیکھاتا کہ اتنے بندوں کو بجلی چوری کی سزا بھی ہوئی ہےاگر سزا ہونی شروع ہو جائے تو میرا نہیں خیال کے کسی میں اتنی جرأت ہو کے وہ بجلی چوری کرے جب تک کسی واپڈا ملازم کی ملی بھگت نہ ہو حکومت واپڈا ملازمین کو ریلیف دیتی ان کے بجلی کے بل معاف کرتی اور وہی ملازم اپنے میٹر سے کئی کئی گھروں کو بجلی سپلائی کرتے ہیں اور خود پیسے وصول کرکے حکومت کے دیئے گئے ریلیف کا غلط فائدہ اٹھاتے ہیں اس لیے میڈیا کو ان کے چہرے کا دوسرا رخ بھی دیکھانا چاہیے تاکہ اصل حقائق عوام دیکھ سکے اور ان کا مکرہ چہرا بے نقاب ہو سکے بجلی چوری تب ہی رک سکتی جب واپڈا محکمے کے ملازمین خود ایک قانون کی پاسداری کرنے والے اور محب الوطنی پاکستانی بنیں گے ورنہ بجلی چوری کبھی نہیں رک سکتی.

*تحریربقلم خود*
*میاں عدیل اشرف*
انفارمییشن سیکرٹری
*مرکزی پریس کلب چونیاں(رجسٹرڈ1972)