منیر نیازی کی سالگرہ کے موقع پر انکی زندگی پر مختصر مگر جامع تحریر راجہ وسیم عباس کے قلم سے سلطان نیوز پر

0
77

منیر نیازی کی سالگرہ کے موقع پر
انکی زندگی پر مختصر مگر جامع تحریر راجہ وسیم عباس کے قلم سے سلطان نیوز پر

پیدائش 9 اپریل 1927
ہوشیارپور
وفات 26 دسمبر 2006 (79 سال)
لاہور
شہریت پاکستان
برطانوی ہند
عملی زندگی
پیشہ شاعر، نغمہ نگار
پیشہ ورانہ زبان انگریزی، پنجابی
اعزازات
تمغائے حسن کارکردگی

کہتے ہیں کہ شاعر و ادیب اپنے عہد کا نباض ہوتا ہے۔ اس کی تخلیقات میں اس کے عہد کی دھڑکنیں سنائی دیتی ہیں۔ انسانی تہذیب کے کسی عہد کو سمجھنے کے لیے ہمارے پاس جو بہت سے معتبر ماخذ ہوتے ہیں ان میں ایک ماخذ ادب بھی ہے۔ ادب کا طریقہ کار تاریخ اور سماجی علوم کے طریقے سے مختلف ہوتا ہے کیونکہ تخلیق کار نہ تو اپنے عہد کی تاریخ لکھتا ہے اور نہ سیاسی و سماجی واقعات اور معاملات کا معروضی تجزیہ کرتا ہے۔ وہ تو اپنے عہد کے طرز احساس کو اپنے وجدان سے چھوتا ہے۔ انسانی جذبات احساسات کی کائنات کی سیر کرتا ہے۔ زمان و مکاں کے معاملے کو اپنی تخلیقی آنکھ سے دیکھتا ہے اور پھر اسے یوں بیان کرتا ہے کہ آپ بیتی جگ بیتی معلوم ہونے لگتی ہے۔

کسی بھی شاعر و ادیب کے تخلیقی اور فنی سفرکو اس وقت تک پوری طرح سمجھنا ممکن نہیں جب تک کہ ہم اس کے گرد و پیش کی دنیا کو اپنے دھیان میں نہ رکھیں۔ خاص طور پر وہ تہذیبی اور سماجی حالات جن میں کس لکھنے والے کی زندگی کے ابتدائی ایام گزرے۔ وہ حوادث زمانہ جنہوں نے تخلیق کار کی پرورش میں اہم حصہ لیا شخصیت کی تشکیل میں وراثت میں ملنے والے عضویاتی اور نفسیاتی امکانات ماحول کے ساز گار عوامل کے ساتھ مل کر حصہ لیتے ہیں۔ بچپن کا ماحول، وہ لوگ جن میں بچپن گزرا ہو تا حیات فرد کی شخصیت پر اپنے اثرات مرتب کرتے رہتے ہیں۔

منیر نیازی کی فنی و تخلیقی شخصیت کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس ابتدائی ماحول اور فضا کو اپنے سامنے رکھنا ہو گا جس میں ان کا بچپن گزرا.

ہوشیار پور اس کے گاؤں کے درمیان چو کا ایک لامتناہی سلسلہ پھیلا ہوا ہے برسات کے دنوں میں پہاڑ ی نالے اسے لبالب بھر دیتے ہیں اور جب پانی کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے تو ریت کا لق و دق صحرا ا پنے شہر اور گاؤں کے درمیانی انگڑائی کی طرح پھیلنے لگتا ہے۔ اندھیری راتوں میں چور ان ریگزاروں میں سستا کر اپنے کام پر نکلتے ہیں۔ قبرستان کے اردگرد کبڑی کھجوروں کے جھنڈ میں مدھم سرگوشیاں ہوتی ہیں کالی سیاہ ڈراؤنی راتوں میں اس ریگ زار کے ذرے ایک دوسرے سے چمٹے صبح کے انتظار میں آنکھیں جھپکا کرتے ہیں۔ اور کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ اندھیری راتوں میں کوئی دیوانہ چاند کی تلاش میں ادھر آ نکلتا ہے اور رات بھر سانپوں سے بھرے جنگل کی آوازیں سنتا رہتا ہے۔ صبح شہر سے گاؤں جانے والا کوئی بھی مسافر اسے اٹھا کر اپنے ساتھ لے جاتا ہے اور ریت کے ذرے پھر سے دھوپ میں چمکنے لگتے ہیں ‘‘۔
’’یہ گاؤں گاؤں بھی نہیں قصبہ بھی نہیں۔ اسے نوآبادیاتی بھی نہیں کہا جا سکتا۔ اور شہر کا سٹیلائٹ ٹاؤن بھی نہیں۔ ایک بستی ہے جو بستے بستے بڑی دیر تک اور بڑی دور تک بس گئی ہے۔ چھوٹی اینٹوں کے بل کھاتی ہوئی گلیاں نیچی چھتوں کے اونچی کرسیوں والی مکان رنگ برنگے شیشوں والی بند کھڑکیاں اور کھلے دروازوں پر بانس اور سرکنڈوں کی تیلیوں کی چھتیں۔ ‘‘

’’اس بستی میں پرانے منصب داروں کے گھر تھے۔ اب ان میں چمگادڑوں اور ابابیلوں کا بسیرا ہے

۔یہ منیر نیازی کی بستی تھی جو اس کے اردگرد کم اور اس کے ذہن کی گہرائیوں میں طلسمی رنگوں میں بھیگے ہوئے گھر بسا کر بستی جاتی تھی‘‘۔ (1)

اس طویل اقتباس میں جس بستی کے خدوخال ہمیں دکھائی دے رہے ہیں وہ پوری آب و تاب سے ہمیں منیر نیازی کی شاعری میں آباد نظر آتی ہے۔ راتوں کی تاریکی گھنگھور گھٹائیں بستی کے ویران گھر، سنسان گلیاں اور گلی کے آخری سرے پر نامعلوم خوف کے سایے یہ عناصر وہ ہیں جن سے منیر نیازی کی شعری کائنات کا خاکہ تیار ہوتا ہے۔ خان پور کی بستی میں ہمیں کسی بھی شہر کی صورت اور کبھی کسی ویران بستی کی شکل میں منیر نیازی کے ہاں جلوہ گر ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ منیر نیازی نے نہ صرف اپنے باہر کے ماحول کو اپنی باطنی ذات کا حصہ بنایا ہے بلکہ وہ اس کی تخلیقی ذات میں یوں پیوست ہوا ہ یکہ قدم قدم پر اپنی جھلک دکھاتا ہے شاعر نے اپنے بچپن میں ماحول کے پراسرار عناصر کو اپنے اندر جذب کر لیا ہے شاید وہ خود بھی نہیں جانتا ہو گا کہ یہ عناصر آگے چل کر اس کی شاعری میں ایک طلسماتی فضا کی تشکیل کرنے والے ہیں جو اسی کے کام سے مخصوص ہو جائے گی اور اردو شاعری میں ایک الگ ذائقے کی حامل ہو گی۔
خان پور کی بستی میں سات بھائی اور تین بہنیں رہتی تھیں ان میں ایک بھائی کا نام فتح محمد خان تھا اور وہ اپنے بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھے فتح محمد خان کی شادی اس زمانے کے ایک شریف اور عزت دار گھرانے کی سگھڑ لڑکی رشیدہ بیگم سے ہوئی۔ ان دونوں کو جب اللہ نے ایک بیٹے سے نواز بیٹے کی پیدائش پر والدین نے وہ سب خوشیاں منائیں جو رواج کے مطابق شریف مناتے ہیں نام اس لڑکے کا محمد منیر خان رکھا۔ اس وقت کون جانتا تھا کہ خانپور کی بے نام بستی میں پیدا ہونے والا یہ منیر اردو شاعری میں ماہ منیر بن کر چمکے گا۔ اور جدید اردو شاعری میں اپنی منفرد پہچان بنائے گا۔

اپنی زندگی کے ابتدائی سات سال خان پورمیں گزارنے کے بعد منیر نیازی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ ساہیوال آ گیا یوں اس کی پرائمری تعلیم کی ابتدا خان پور سے ہوئی لیکن پرائمری مکمل ساہیوال میں ہوئی۔ اس کے بعد منیر خاں کو گورنمنٹ ہائی سکول ساہیوال میں داخل کروا دیا گیا جہاں سے انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ میٹرک کے بعد محمد منیر خان مزید تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے اس لیے انہوں نے امرتسر کا رخت سفر باندھا ور ان کی والدہ کی مرضی بھی یہی تھی لیکن ان کے چچا منظور احمد جو فوج میں کرنل تھے چاہتے تھے کہ انہیں بھی فوج میں ملازم کرا دیں۔ اس لیے انہوں نے محمد منیر خاں کو رائل انڈین نیوی میں بھرتی کرا دیا۔ چونکہ محمد منیر خاں کی متلون مزاج طبیعت ضابطے میں ڈھالنے کے لیے نہیں بنائی تھی اس لیے وہاں سے بھاگ نکلے پکڑے گئے سزا ہوئی مگر سزا نے محمد منیر خاں کے اندر بغاوت کے جذبے کو مزید مضبوط کر دیا۔ ایک بار پھر بھاگ نکلے۔ اس بار کامیاب ہوئے۔ کافی عرصہ چھپتے چھپاتے گزرا۔ روپوشی کے یہ دن پہلے انہوں نے اپنے شہر اور پھر حاصل پور میں بسر کی۔ چونکہ حالات کے تقاضوں کے مطابق زیادہ عرصہ عالم تنہائی میں گزارنا پڑا۔ اس عالم تنہائی نے ان کے مزاج اور شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ باضابطہ زندگی سے بغاوت کے اس تجربے نے ان کے اندر کی تخلیقی ذات کو تقویت دی خود سے مکالمے نے اپنے باطن سے رشتہ جوڑنے اور اپنی ذات سے ہم کلام ہونے کی ایسی خو ڈالی کہ محمد منیر خاں سے منیر نیازی تک کے سفرمیں اپنی ذات سے مکالمے کی دھیمی لے ان کی شاعری کا بنیادی وصف بن گئی۔

ساہیوال میں انہیں مجید امجد انجم رومانی اور صدیق کلیم جیسے شعراء اور ادباء سے ربط و ضبط کا موقع ملا۔ ان میں سے منیر نیازی نے مجید مجد سے سب سے زیادہ اثرات قبول کیے۔ 1950ء میں منیر نیازی نے لاہور کا رخ کیا اس کے بعد شہر کی سب سے جدید بستی ماڈل ٹاؤن اور پھر ٹاؤن شپ میں لاہور میں رفتہ رفتہ ان کے شاعرانہ شہرت پھیلنے لگ۔ جلد ہی منیر نیازی اپنے ہم عصروں میں نمایاں نظر آنے لگے۔ لاہور میں وہ حلقہ ارباب ذوق کے رکن بنے۔ حلقہ ارباب ذوق لاہور کے سیکرٹری بھی رہے حلقہ ارباب ذوق سے ان کا تعلق کسی نہ کسی صورت تا حال قائم ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے دیگر ادبی تحریکوں سے زیادہ ربط ضبط نہیں رکھا۔
انکا ایک بہت ہی مشہورغزل..
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

ضروری بات کہنی ہو، کوئی وعدہ نبھانا ہو

کسی سے دور رہنا ہو کسی کے پاس جانا ہو

کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہو

حقیقت اور تھی کچھ، اس کو جا کر یہ بتانا ہو

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

مقبول ہے۔

منیر نیازی نے اپنی زندگی میں دو شادیاں کیں ہیں۔ پہلی شادی صغریٰ خانم نامی خاتون سے ہوئی انہوں نے اپنی پہلی کتاب ’’پہلی بات ہی آخری تھی‘‘ کا انتساب اپنی پہلی بیوی کے نام کیا ہے صغریٰ خانم کا انتقال 1958 ء میں ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے دوسری شادی ناہید نامی خاتون سے 30دسمبر 1958ء میں کی۔ ان دو شادیوں کے باوجود وہ اولاد کی سعادت سے محروم رہے

دوستی کے اوپر منیر نیازی صاحب نے بہت خوبصورت شاعری کی. اشک رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستو
اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو
یہ اجنبی سی منزلیں اور رفتگاں کی یاد
تنہائیوں کا زہر ہے اور ہم ہیں دوستو
لائی ہے اب اڑا کے گئے موسموں کے باس
برکھا کی رت کا قہر ہے اور ہم ہیں دوستو
آنکھوں میں اڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دھول
عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو

نیر نیازی کو ان کی شاعرانہ خدمات پر بہت پہلے ادبی اور علمی ایوارڈز مل چکے ہیں۔ سرکاری اور غیر سرکاری ہر دو طرح کے اداروں نے ان کی تخلیقی خدمات کا اقرار کیا ہے انہیں بعض عالمی اداروں نے بھی اپنے اعزازات سے نوازا ہے۔

اسی طرح یہ چراغ جو 9اپریل 1927کو ہوشیار پور میں روشن ہوا. یہ اپنی زندگی کی منزلیں طے کرتا ہوا
26دسمبر 2006 کو 79 کی عمر میں لاہور میں آکر بجھ گیا.

زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا
دنیا سے خاموشی سے گزر جائیں ہم تو کیا
ہستی ہی اپنی کیا ہے زمانے کے سامنے
اک خواب ہیں جہاں میں بکھر جائیں ہم تو کیا
اب کون منتظر ہے ہمارے لئے وہاں
شام آگئی ہے لوٹ کے گھر جائیں ہم تو کیا
دل کی خلش تو ساتھ رہے گی تمام عمر
دریائے غم کے پار اتر جائیں ہم تو کیا

تحریر راجہ وسیم عباس سٹاف رپورٹر سلطان آن لائن نیوز