گرھ مہاراجہ میں جشن ولادت سیدنا حسین رضاللہ تعالی عنہ کا روحانی انعقاد۔۔ اتحاد امت کا خوبصورت پیغام۔۔طرزسیاست کی تبدیلی کا اشارہ۔۔۔منقبتی کالم۔۔رانا شاہد نذیر کے قلم سے ۔سلطان نیوز پر

0
146

گرھ مہاراجہ میں جشن ولادت سیدنا حسین رضاللہ تعالی عنہ کا روحانی انعقاد۔۔ اتحاد امت کا خوبصورت پیغام۔۔طرزسیاست کی تبدیلی کا اشارہ۔۔۔منقبتی کالم۔۔رانا شاہد نذیر کے قلم سے ۔سلطان نیوز پر
تین شعبان/ تیسرے امامؓ

معزز قارئین
اسلام علیکم
تین شعبان المعظم تاج امامت کے تیسرے ستارے نواسہ رسول جگر گوشہ علیؓ و بتول سیدنا امام حسینؓ کی ولادت باسعادت کا دن مبارک ھے کون حسینؓ وہ حسینؓ جس کی زیارت کرنی ھو تو قرآن کو غلاف سے نکال لیا جاۓ اگر تعریف کرنی ھو تو تلاوت کر لی جاۓ ان کےصبرکا چھوٹا سا نظاره دیکھنا ھو تو روزہ رکھ کے نماز ادا کر لی جاۓ وہ حسینؓ جو بولتا قرآن ھے جو کربلا کا شہید ھے جو غازیؓ کا آقا اور حسن مجتبیؓ کا ویر ھے آپ کی ولادت باسعادت گڑھ مہاراجہ میں بڑی شان وشوکت سے منائی جاتی ھے امسال بھی امام بارگاہ خیمہ سادات کے بلمقابل جشن ولادت باسعادت شایان شان طریقےسے منایا گیا جس میں بڑی تعداد میں ملک بھرسے زاکرین اور قصیدہ گوحضرات علما اکرام نے شان حسینؓ اور شان اھلبیتؓ پہ بیان فرمایا لیکن اس بار اس جشن میں ایک بات نماياں نظر آئی وہ یہ کہ اس بار ھر مسلک کے لوگ شامل تھے کیا وجہ بنی کہ تنگ نظری اور شدت پسندی ختم ھو گئی اتنا بھائی چارہ کہ جو مختلف مسالک کے لوگ جشن کی جگہ گزرتے وقت تلاشی دے کر گزرتے تھے اس بار وھاں دوکانیں بنا کر بیٹھے تھے دیکھ کر دل باغ باغ ھو گیا گڑھ مہاراجہ میں یہ تبدیلی کسی بہت بڑی خوشخبری سے کم نہیں ھے لیکن اس بات کا کریڈٹ اعوان قوم کے بعد علاقہ کی سیاسی قیادت کو جاتا ھے جب قیادت بلاتفریق ھو جب قیادت مخلص ھو تو علاقہ امن کا گہواره بن جاتا ھے قومیں نفرتوں کی بجاۓ ایک دوسرے پہ محبتیں نچھاور کرتی ھیں جب لیڈر مذھب کے نام پر نہیں قومیت کے نام پر نہیں مسلک کے نام پر نہیں بلکہ ترقی کے نام پر امن کے نام پر ووٹ لے اور پھر بلاتفریق لوگوں کی خوشی غمی میں شریک ھو اور عوام میں لیڈر بن کے نہیں بلکہ سیاسی قیادت خادم بن کے عوامی کام کرے تو اس بار کے تین شعبان کے جشن کی صورت بنتی ھے سیاسی قیادت سے میری مراد رانا شہباز احمد خاں صاحب ھیں جو مختلف جہگوں پہ گئے اور جشن ولادت کے پروگرامز میں شرکت کی اور نیاز تناول کی رانا صاحب کا یہ اقدام قابل تعریف بھی ھے اور علاقہ میں محبت بھائی چارے برابری اور امن کا پیغام بھی اور ھمارے دل کو یہ اطمينان ھوا ھے کہ رانا صاحب لوکل مہاجر شیعہ سنی کے ایم پی اے نہیں بلکہ تمام قوموں کے تمام مسالک کے ایم پی اے ھیں بلکہ جن لوگوں نے ووٹ دئیے ان کے بھی اور جن لوگوں نے نہیں دئیے ان کے بھی ایم پی اے ھیں اور بلاتفریق لوگوں کے مسائل حل کرنے کے لیے کوشاں ھیں رانا صاحب کے اس اقدام کا علاقہ کی عوام خیر مقدم کرتی ھے اس تحریر کے ذریعہ سے میں پیغام دینا چاھتا ھوں باقی تمام سیاسی رہنماوں کو کہ وہ اپنی صفوں سے مذھبی سوداگروں کو مذھب کے نام پر سیاست کرنے والوں کو اپنے ذاتی مفاد کی خاطر علاقہ کا امن داؤ پر لگانے والوں کو مذھب کے نام پر اپنی مفت کی لیڈری چمکانے والوں کع کو نکال پرے پھنکیں ان کی اب گڑھ مہاراجہ میں بلکہ پیارے ملک پاکستان میں کوئی ضرورت نہیں ھے اور نا ان شدت پسند عناصر کی کوئی جگہ ھے اور اب ان کی کوئی چال کامیاب نہیں ھو نے والی اب گڑھ مہاراجہ کی عوام سمجھدار ھے پڑھی لکھی ھے مذھب کے نام پر نہیں ترقی امن محبت کے نام پر ووٹ دیتی ھے رات کے جشن نے محبت اور بھائی چارے کا ھی نہیں بلکہ امن کا پیغام دیا ھے اور اپنی سیاسی قیادت سے ھم امید رکھتے ھیں کہ وہ آئندہ بھی بلاتفرق پروگرامز میں شرکت کر کے عوام کا مان بڑھائیں گے آخر میں مبارکباد پیش کرتا ھوں اعوان برادری سادات برادری خاص طور ملک شفقت علی اعوان ملک بشارت علی اعوان ملک غلام قنبراعوان ملک نوید اعوان کہ آپ نے ولادت باسعادت کے شایان شان کامیاب پروگرام کروایا اور علاقہ گڑھ مہاراجہ میں محبت بھائی چارے اور امن کو چار چاند لگا دئیے اور گڑھ مہاراجہ کی عوام آپ لوگوں سے اسطرح امید رکھتی ھے کہ آئندہ بھی شدت پسند عناصر کی آپ نفی کریں گے اللہ تبارک وتعالی آپ کا حامی و ناصر ھو اور دعا ھے آپ کے تمام مرحومين خاص طور شریف النفس استاد محترم ملک مراتب علی اعوان مرحوم کی مغفرت فرماۓ جنت میں جگہ عطا فرما کے درجات بلند فرماۓ آمین