تحصیل احمدپور سیال۔تحصیل شورکوٹ کو آفت زدہ قرار دیا جائے حکومت پنجاب سے اپیل تحریر چوہدری محمد مختار جٹ ایڈووکیٹ

0
198

تحصیل احمدپور سیال۔تحصیل شورکوٹ کو آفت زدہ قرار دیا جائے
حکومت پنجاب سے اپیل
تحریر چوہدری محمد مختار جٹ ایڈووکیٹ
——————–۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
7 اپریل شام ویلہ ان علاقوں میں جوطوفانی بارش اور ژالہ باری ھوئی اس سے کسان کاشتکار چھوٹا بڑا ذمیندار تباہ ھوگیا۔ ژالہ باری سے ھونے والی تباھی کو دیکھ کر اس بات کا یقین ھو گیا بارش رحمت نہیں زحمت بھی ھوسکتی ھے ۔ جو 7 اپریل کو ھوا۔ گندم۔ چنا۔مٹر۔مسور۔کنولا۔ رایا۔سرسوں ۔ تارا میرا۔ کی پکی فصل تباہ برباد ھو گئی۔ آم۔ مٹھا۔ کینو۔ لیمو جو پھول بورا پر تھے ژالہ باری نے فنا وبرباد کر دئیے ابتدائی سطح پر اگی ھوئی فصل سورج مکھی۔ اگیتی کپاس۔ مکئی ۔جوار۔ کماد۔ چارہ ۔بھسم ھوگئے۔ طوفانی ھوا بارش نے ھزاروں درخت گرادئیے سیکڑوں مویشی ژالہ باری کی وجہ اور درختوں کے نیچے آکر مرگئے۔
صاحب اقتدار لوگوں کچھ ادھر بھی نظر کرو۔
سرکاری اداروں کی بے حسی کا نوٹس لو ۔ محکمہ مال۔ محکمہ لائیو سٹاک۔ دیگر حکومتی اداروں سے کوئی ھے جو پوچھے یہ محکمے کیا کر رھے ھیں کیا یہ محکمے کسی کسان زمنیدار کاشتکار کے پاس گئے ھیں کسی کا حال احوال پوچھا ھے فصلات۔ با غات۔ کی تباھی دیکھی ھے جن غریبوں کے مکانات گرگئے مویشی مر گئے۔ فصلات باغات تباہ ھوگئے ان کی ڈھارس بندھائی ھے افسوس کہ کچھ نہیں کیا گیا۔ آگے بھی کوئی امید نظر نہی آتی ۔ نہ کسی حکومتی پارٹی نہ کسی اپوزیشن پارٹی۔ نہ کوئی اسلام کی ٹھکیدار پارٹی۔ نہ مزدور کسان کے نام پر سیاست کرنے والی پارٹی ۔ نہ کوئی جیالوں کی پارٹی۔ نہ متوالوں کی پارٹی۔ کسی کو توفیق نہیں ھوئی ۔ اس تباھی پر لب کشائی کر لیں نہ کس میڈیا اینکر نے اس تباھی پر لب کشائی کی کیونکہ نہ کسی شریف۔ نہ کسی زرداری۔ نہ کسی بھٹو زرداری نہ کسی مولانا کا نقصان ھوا وگرنہ میڈیا کا فی چیختا چلاتا ۔ کچھ مقامی اخباری رپوٹرز نے مختلف میڈیا چینلز کے نمائیندوں نے اپنے طور کوشش کی کہ مقتدر طبقہ کو حالات کی آگاھی دیں لیکن اوپر بیٹھے مفاد پرستوں نے کوئی پزیرائی نہیں کی افسوس ھی کیا جا سکتاھے لہزا حکومت پنجاب سے اپیل ھے فوری طور پر تحصیل احمد پور۔ اور تحصیل شورکوٹ کا سروے کروا کر غریب کسانوں کی مالی مدد کی جائے ان علاقوں کو آفت زدہ قرار دے کر ما لیہ۔ آبیانہ ۔ زرعی قرضہ اور دیگر زرعی ٹیکس معاف کئے جائیں
مزید ان لوگوں کے لئے عرض کرتا ھوں جو بڑے شہروں میں بیٹھ کر بارش اور ژالہ باری سے لطف اندوز ھوتے ھیں انہیں کیا معلوم اس موسم میں بارش و ژالہ باری موت ھے ان کاشتکاروں کے لیئے جو تیرے لئے خوراک پیدا کرتے ھیں لہذا یاد آتا ھے
مرزا غالب جس نے کہا تھا۔

خوشی کیا کھیت پر میرے اگر سو بار ابر آئے۔
سمجھتا ھوں ڈھونڈھے ھے برق میرے خرمن کو

محترم دوستو۔
تمنا ھو جو بارش کی سیاہ بادل بھی چھا جائیں
جو میری فصلیں تباہ کر دے مجھے بارش کا کیا فائدہ۔
صاحبو !ھم کسان ھیں کسان زادے ھیں اس لیے غریبوں کسانوں کا درد رکھتے ھوئے عرض کرتے ھیں

برق شعلہ نوا ھو کر جلائے جن کے خرمن کو
اجڑ جاتے ھیں وہ دھقاں بیٹھا لیتا ھوں دامن میں
حوادث برق و باراں سے گریں کٹیا غریبوں کی
مختار ان غریبوں کو پناہ دیتا ھے دامن میں

خدارا اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ ھماری پکار اقتدار کے محلات میں بیٹھے لوگ سن لیں ۔ سلام و علیکم۔ شکریہ۔