۔تحصیل ڈسکہ میں رجسٹریشن برانچ میں چوکیدار سمیت 10 نائب قاصدان براجمان

0
79

میری بات سے بات نکلتی گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحصیل ڈسکہ میں رجسٹریشن برانچ میں چوکیدار سمیت 10 نائب قاصدان براجمان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹی آئی الیکشن سے قبل جو پہلا منشور پیش کرتی تھی کہ عوام کا لوٹا ہوا پیسہ ڈاکوؤں سے واپس نکلوائیں گے پائی پائی وصول کر یں گے۔ دوسرا پاکستان فری کرپشن ملک بنائیں گے ۔۔ باقی بہت سارے منشور غریب خوشحال ہو جائے گا وغیرہ وغیرہ ۔ ملک کا پیسہ لوٹا لٹیروں سے نکلوانا یہ کب ہوگا پتہ نہیں غریب کی خوشحالی میں تو نہیں البتہ مہنگائی نے غریب کی کمر توڑ کر رکھ دی دو نوالوں سے بھی محروم ہوچکی ہے ۔ رہی کرپشن کی بات پہلے چھپ کر کی جاتی تھی اب بتا کر کی جاتی ہے ایک چپڑاسی سے آفیسر تک کرپشن کا کوئی مول نہیں اور سابقہ ادوار میں ایسا نہیں دیکھا تھا کہ آفیسر خود رشوت طلب کرتا ہو اب تو یہ مثال عام بن چکی ہے کیونکہ کلرک اور چپڑاسی یا اردلی حصے دار ہوتا تھا اب آفیسر اپنی رشوت خود وصول کرتا ہے کلرک اپنی خود خیر چپڑاسی کی تو پرانی بات ہے اب اسے اپنی ہی لی کرپشن پر انحصار ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ میں آج ایک ایسے ادارے کی کرپشن بتانے جارہا ہوں آپ نے کبھی ایسا طریقہ کار خوابوں میں بھی سنا نہیں ہوگا کہ ایک کلرک سے لیکر آفیسر تک کا کام ہی چپڑاسی سرانجام دے رہے ہیں اور پورے کے پورے ادارے پر کرپشن کرنے کے لئے براجمان ہیں اور ہر کسی کی پشت پناہی سیاسی افراد کرتے ہیں اور شاید آفیسر بھی ہوں ۔ میری مراد تحصیل آفس ڈسکہ ہے تحصیل آفس ڈسکہ میں تحصیل دار نائب تحصیل داران رجسٹریشن برانچ دفتر خزانہ قانونگو آفس اور واصلباقی آفس ہے ۔۔۔ہر آفس ماسوائے دفتر خزانہ کے جہاں نائب قاصد اور گن مین کی بھی ضرورت ہے کوئی نہیں باقی دفاتر میں دو دو نائب قاصد تعینات ہیں جو عوام کو گیرے رکھتے ہیں۔۔ سب سے قابل غور بات ہے رجسٹریشن برانچ میں کل ملاکر تقریبا 10 نائب قاصدان ہیں۔ جہاں پراپرٹی کے لین دین کی رجسٹریشن ہوتی ہے تحصیل دار کی تصدیق جسے ہم عام الفاظوں میں کہتے ہیں تحصیلدار کے روبرو دینے ۔ لینے اور گواہان کے بیانات دینے کے لئے پیش ہونا وہاں سے لیکر دستاویز یا رجسٹری کے انگھوٹا جات تک تقریبا 10 نائب قاصدان سے گزرنا پڑتا ہے اور انکا کردار کرپشن کے حوالے سے کیا کیا ہے ۔۔۔ دستاویز رجسٹری کی تیاری کے بعد دستاویز کی چیکنگ کے لئے جمع کروایا جاتا ہے لیکن کئی افراد اپنے تعلق کی بنا پر نائب قاصد عام الفاظوں میں لوگ انہیں چپڑاسی کے نام سے جانتے ہیں چیکنگ کے بغیر مال لیکر پیش کردیتے ہیں۔ جی اب دیکھتے ہیں ایک ہی برانچ میں اتنے زیادہ چپڑاسیوں کی وجہ تعیناتی کیا ہے۔۔۔۔ جی شروع ہوتے ہیں دستاویز کی تصدیق کرنے سے پہلے کے مرحلے۔۔ سب سے پہلے دیکھا جاتا ہے اربن کے ریٹ لسٹ موجودہ محلہ گلہ سڑک کا ہی لگا ہوا ہے کمرشل کا ریٹ کہیں رہائشی تو نہیں لگایا گیا جس کے لئے اربن کے لئے ایریا اور رورل کے لئے خسران کی قیمت مخصوص کی گئی ہیں درست ہے الغرض تمام دستاویز کی رجسٹریشن سے قبل ویری فیکشن اور دستاویز پر بائعہ مشتری گواہ کی پکچر کمپیوٹر کے ذریعہ سکین کرنا جناب سب رجسٹرار کے فرائض منصبی میں شامل ہے۔۔۔۔ یہ سارا عمل ایک نائب قاصد سرانجام دیتا ہے جبکہ یہ ذمہ داری سب رجسٹرار کی ہے صرف روپے بٹورنےکے لئے۔ تحصیل ڈسکہ میں سب رجسٹرار دور کی بات نائب قاصد کلرک حضرات پر بھی بھاری ہیں۔۔۔ سب سے پہلے رجسٹری محرر دستاویز کی چیکنگ پر معمور ہے۔۔ اس کے بعد کے تمام مراحل سب رجسٹرار اپنے فرائض منصبی ادا کرنے ہوتے ہیں۔ وہاں کلرک بھی نہیں ایک نائب قاصد کام سرانجام دے رہا ہے وہ تمام چیکنگ کے بعد دستاویز سب رجسٹرار کے ہاں پہنچا دیتا ہے جناب پھر خریدوفروخت کرنے والے کے بیانات لیکر رجسٹریشن برانچ میں اندارج کے لئے بھیج دیتے ہیں ۔ جو نائب قاصد رجسٹریشن برانچ تک پہنچاتا ہے وہ پہلے اپنا نظرانہ وصول کرتا ہے پھر دستاویز سائل کے حوالے کرتا ہے اور اب رجسٹری پر فوٹو سکین ہوتیں ہیں وہ بھی نائب قاصد عمل سرانجام دے رہا اس کے بعد رجسٹریشن برانچ کی طرف سائل دستاویز لیکر روانہ ہوتا ہے وہاں پانچ نائب قاصد تعینات ہیں جن میں محکمانہ طور پر ایک ہی تعینات ہے مگر اسکی ڈیوٹی بھی دروازے کے باہر ہوتی ہے مگر یہاں صورت احوال بڑی دلچسپ اور تکلیف دہ بھی ہے ایک نائب قاصد رجسٹر پر انداراج کرتا ہے دوسرا نمبر لگاتا ہے تیسرا دستخط و نشان انگوٹھا لگواتا ہے چوتھا رسید کاٹتا ہے پانچواں دستاویز مکمل ہونے کے بعد رجسٹری محرر کے سپرد کرتا ہے۔ اس کے بعد رجسٹری محرر دستاویز کو مکمل کرکے سب رجسٹرار کے سامنے رکھتا ہے اور دستاویز مکمل ہوا جی نہیں دوبارہ نائب قاصد اس دستاویز کو سکین کرتا ہے پھر چوکیدار کی پرمیشن سے سائل کو جاری ہوتا ہے۔ دستاویز کی ڈی لسٹ سے لیکر رجسٹر پر دستاویز کے اندراج تک ایک دستاویز میں کتنی جگہ کرپشن ہوتی ہوگی ہے اس کا فیصلہ آپ نے خود کرنا ہے۔۔۔ باقی رہ گئی بات رجسٹریشن برانچ سے نقول حاصل کرنا این ای سی بنوانا کوئی لیٹر ایک سب رجسٹرار سے دوسرے سب رجسٹرار یا دیگر محکمانہ لیٹر لکھنا ۔ کوئی بھی دستاویز میں لگے اعتراض کو دور کرنے کی ذمہ داری دستاویز کی چھان بین ۔ ریکارڈ کیپر یا رجسٹر محرر کی بجائے یہ تمام ذمہ داریاں چوکیدار پر لگائی ہوئی ہیں جس کا اصل کام رات کو تحصیل آفس کے تمام دفاتر کے تالے دیکھنا اور چوکیداری کرنا ہے۔۔۔۔۔ تین دفاتر اور 10 نائب قاصد سب سے پہلے ذکر کر چکا اپنے پس پردہ سیاسی یا محکمانہ طاقت کی بنا پر بنا کسی آرڈر کے بیٹھے ہوئے ہیں اور سائلوں سے زبردستی روپے بٹورتے اور ساتھ تعینات ہونے کا روعب جھاڑتے ہیں ۔۔ ڈی لسٹ سکینک اور پکچر بنانے والا نائب قاصدلوگوں سے ایسے پیسے مانگتے ہیں جیسے جگہ ٹیکس وصول کر رہا ہو کرے بھی کیوں نا سب رجسٹرار کے فرائض منصبی ادا کرہا ہے ۔۔ تمام نائب قاصدان کا ان تمام برانچوں میں بھاری مقدار میں تعینات ہونا ہی سائلوں سے مختلف ہتھکنڈوں سے روپے لوٹنا ہے ۔ایک دستاویز کم ازکم ہزارواں مختلف ہتھکنڈوں سے رشوت بٹوری جارہی ہے۔۔ رشوت کی وصولی سرعام جس شخص کے نیچے یہ سب کچھ ہو رہا ہے وہ ہیں جناب اسسٹنٹ کمشنر ڈسکہ جو مکمل آنکھیں بند کئے ہوئے ہے۔۔۔۔ چند روز قبل اسسٹنٹ کمشنر ڈسکہ نے ہمراہ ہیڈ کلرک اے سی آفس کے ہمراہ تحصیل آفس کا دورہ کیا تاکہ حاضری چیک کی جائے مگر تمام دفاتر ماسوائے رجسٹریشن برانچ کھلا تھا اور رجسٹری محرر حاضر تھا باقی تمام دفاتر میں تالے لگے ہوئے تھے کوئی نائب قاصد موجود نہ تھا میں اپنے کام کے سلسلہ میں کمپیوٹرائزڈ برانچ کے تالے لگے آفس کے پاس کھڑا تھا ۔۔ بندہ ناچیز نہ اسسٹنٹ کمشنر ڈسکہ سے سلام عرض کی مگر اس کے چہرے پر غرور ٹپک رہا تھا چہرا اوپر کی طرف کرکے گزرگیا کیا ایک اسسٹنٹ کمشنر کا لہجہ ایسا ہونا چاہئے اس کا اخلاق عام ملازمین سے بلند ہونا چاہئے۔ مگر وہ اسسٹنٹ کمشنر ڈسکہ تھا تنخواہ اسے عوام کے پیسے سے نہیں اپنے گھر سے ملتی ہے۔۔۔ اس نے ایک سائل سے پوچھا تک نہیں تم بند کمرے کے سامنے کیوں کھڑے ہو۔۔۔ اس کے بعد اسسٹنٹ کمشنر ڈسکہ نے کسی قسم کا کوئی ایکشن نہیں لیا اس لئے یہ اتفاق تھا ورنہ وہ خود 10 بجے کے بعد تشریف لاتے ہیں ۔۔۔تمام دفاتر کی وڈیو نشر کرنا مناسب نہیں مقصد اصلاح ہے۔ عوامی حلقوں نے خاموش احتجاج کے ذریعے احکام بالا سے فوری نوٹس کا مطالبہ کیا ہے.

رپورٹ .. رانا عاشق علی تبسم بیورچیف۔۔۔۔۔