پتہ نہیں۔ تحریر:سبطین عباس ساقی

0
134

پتہ نہیں
تحریر:سبطین عباس ساقی
قارئین کرام!ایک مراثی نے نیا کھیس لیا۔کھیس بہت ہی عمدہ اور خوبصورت تھا۔ایک دن گاوں والوں کو دکھانے گیا تو نمبردار کو کھیس بہت پسند آیا۔اس نے مراثی سے کہا کہ میرے بیٹے کی شادی قریب ہے۔شادی والے دن یہ میرے بیٹے کے کندھے پہ ہو۔مراثی نے کونسا انکار کرنا تھا۔شادی کا روز آیا اور وہ کھیس دولہے کے کندھے پر ڈال دیا گیا۔راستے میں کسی راہ گزر نے اس مراثی سے پوچھا کہ بارات کس کی ہے تو مراثی نے جواب دیا”دولہا نمبرداراں دا تے کھیس مراثی دا”(دولہا نمبرداروں کا ہے جبکہ کھیس مراثی کا)۔نمبردار کے کچھ ٹاوٹوں کو یہ بات ناگوار گزری اور انہوں نے مراثی کی کون پٹائی کی اور خبردار کیا کہ اب کسی کو کھیس کے بارے میں بتا کر نمبردار کی بے عزتی نہیں کرے گا۔کچھ ہی آگے جانے کے بعد ایک اور راہ گزر نے پوچھا کہ بارات کس کی ہے تو مراثی نے روتے ہوئے جواب دیا”دولہا نمبرداراں دا تے کھیس دا پتہ نہیں”(دولہا تو نمبرداروں کا ہے لیکن کھیس کا پتہ نہیں)۔نمبردار کے ٹاوٹ پھر جوش میں آگئے اور مراثی کی پھر جم کر پٹائی کی اور کہا کہ تم بارات کے حوالے سے ہی کسی کو کچھ نہ کہو۔مراثی نے بھی ایسا ہی کرنے کی ٹھان لی تاکہ مزید پٹائی سے بچ سکے۔تیسری بار پھر ایسا ہی ہوا کہ کسی راہ گزر نے مراثی سے پوچھ لیا کہ بارات کس کی ہے تو مراثی نے جواب دیا”نہ مینوں دولہے دا پتہ تے نہ ہی کھیس دا”(نہ مجھے دولہے کا پتہ ہے اور نہ ہی کھیس کا)
ٹھیک اسی طرح کچھ حکومت کے ووٹرز کی حالت بھی دیکھنے میں آ رہی ہے۔وہ بھی یہ کہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ حکومت تو پی ٹی آئی کی ہے لیکن مہنگائی کا پتہ نہیں۔حکومت تو پی ٹی آئی کی ہے لیکن پٹرول کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ کا ہمیں پتہ نہیں۔حکومت تو پی ٹی آئی کی ہے لیکن بے روزگاری کا ہمیں پتہ نہیں۔ویسے قارئین کرام آپ یقین جانیے کہ اپریل کا ہر دن مجھے اپریل فول لگنے لگا ہے۔30 روپے کی چیز 50 جبکہ 50 والی 70 روپے کی ہوگئی ہے۔بندہ کسی چیز کا ریٹ پوچھ لے تو رات کی نیند اڑ جاتی ہے۔یکدم اتنی مہنگائی جہاں کہا جاتا تھا کہ پٹرول 45 روپے لیٹر کریں گے وہاں وہی پٹرول 101 روپے لیٹر کے حساب سے بیچا جا رہا ہے۔جہاں لوڈشیڈنگ کو لے کر گھنٹوں تقاریر کی جاتی تھیں وہاں اب دوبارہ سے عالمی شہرت یافتہ میڈم لوڈشیڈنگ کی آمد ہوچکی ہے۔جہاں بے روزگاری کو ختم کرنے کے دعوے لیے جاتے تھے وہیں آج کل بے روزگاری عام ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں اسی ریاست کی بات کررہا ہوں جس کو ریاست مدینہ بنانے کی بات کررہا ہوں۔قارئین کرام آپ سے بھی گزارش ہے کہ کسی چیز کی قیمت پوچھنے سے قبل اپنی صحت کو ضرور دیکھ لیں کیونکہ پرہیز علاج سے بہتر ہے۔اور ہاں حکومت تو تبدیلی سرکار کی ہے لیکن مسائل کا پتہ نہیں