خزانے خالی ہیں : پوائنٹ ٹو پوائنٹ کالم نگار چوہدری وسیم میو

0
101

خزانے خالی ہیں :
پوائنٹ ٹو پوائنٹ
کالم نگار چودھری وسیم میو احمدپورسیال

“خزانہ خالی ہے” جیسا لازاوال قومی فقرہ عوام کے دکھوں پر “جلتی پرتیل” والا کردار اداکررہا ہے۔اس فقرے کے خالق آپ کو مہنگائ کے فضائل بیان کرتے نظرآئیں گے۔”خزانہ خالی کس نے کیا ہے؟” یہ وہ سوال ہے جس کا آن کیمرہ جواب دیتے ہوئے اچھے اچھوں کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا جاتا ہے لیکن میں نے بھی اُن شریف لوگوں کی کھوج میں مختلف دیگوں کے چمچوں کے خیالات ونظریات کوسنا لیکن خزانے پر جھاڑو پھیرنے والے کہیں نظر نہی آئے۔۔آخرکار ایک لمبی مغزماری کے بعد جواب تو نہی ملا البتہ ہرذی شعور پاکستانی کی طرح ذہن مں چند سوالات ضرورتلملا رہے ہیں۔۔۔ 1–کہیں قومی خزانے کو ان 600 بچوں نے تونہیں لُوٹا ہے جو صرف ایک سال 2018میں تھرمیں غذائ قلت کی وجہ سے مرگئے جبکہ اس شہر کے کتے اور گھوڑے میوہ جات کے لڈوکھارہے تھے؟ 2–کیا ہمارے خزانے کی جھاڑ پونچھ میں وہ 14،000ہزار ہماری مائیں بہنیں بھی ملوث ہیں جوہرسال زچگی کے دوران سہولیات کے فقدان کی وجہ سے موت کوگلے لگاتی ہیں اور زندہ بچنے والی سڑکوں اور گندے فرش پر بچے جنم دے رہی ہیں؟ 3–کیا ہمارے خزانے پرورکشاپ اورکارخانوں میں موجود “چھوٹے”نے ہاتھ صاف کیاجس کی چیخ استاد کے لگے راڈاورپانوں سے سجے ہوئے جسم سے نکلنے سے پہلے دم توڑ جاتی ہے؟ 4–کیا خزانےکے خالی ہونے کا ذمہ دار وہ مزدور ہے جواپنہ بیوی اوراپنے جگر کے4ٹکڑوں کو بے دردی سے قتل کرکے خودکشی اس لئے کرلیتا ہے کہ وہ اپنے خاندان کو دووقت کا کھانا نہی کھلا سکتا؟ 5–کیا آپ کے خزانے سے ان لاچار کسانوں نے اپنی جیبیں بھری ہیں جن کی کم از کم تین نسلیں کھاد،سپرے اورتیل والے کا قرض بمعہ سود بھرتے قبر میں اتر جاتی ہیں؟ 6–کیا آپ کے خزانے کی جھاڑ پھونک ان لوگوں نے کی ہے جو اپنے معصوم نونہالوں کو “بچے برائے فروخت” کے بینرتلے لے کے بیٹھے ہوتے ہیں؟ 7–کیا آپ کے خزانے پر بے بسی کی روہانسی تصویر بنے اس مزدور کا بیلچہ چلا ہے جو رزق کی تلاش میں ہاتھ میں کدال اور بیلچہ تھامے چوک میں بیٹھا مٹی اور صاحبوں کی گاڑی کے دھوئیں میں سانس لیتا ہے؟ #جناب دست بستہ عرض یہ ہے میرے ملک کے خزانے کو ان چہروں نے نہی لوٹاجوکوڑے دانوں میں اپنا کھانا تلاش کرتے نظر آتے ہیں اس ملک اور خزانے کا بیڑہ غرق کرنے والے وہ ہیں جنہوں نے ایک چہرے میں کئ چہرے چھپا رکھے ہیں۔ #آخر میں اربابِ اختیار سے عرض یہ ہے کہ اس خزانے کو غریبوں کی لاشوں اور ارمانوں سے بھرنے کی کوشش مت کریں بلکہ ان لوگوں سے رجوع کریں جو اپنے دونوں ہاتھ پاؤں سے لوٹنے میں مصروف رہے اگر آپ کے گہٹنوں میں پانی ہے ہےتو۔۔۔۔ والسلام تحریر #انجینئروسیم اقبال میئو (آپ کی رائے کا شدت سے منتظر)