چودھری مختارایڈووکیٹ۔۔۔سیاست کا درد مند شہسوار۔۔تعمیر وترقی کا حقیقی علمبردار۔۔۔تحریر رانا شاہد نذیر

0
187

چودھری مختارایڈووکیٹ۔۔۔سیاست کا درد مند شہسوار۔۔تعمیر وترقی کا حقیقی علمبردار۔۔۔

تحریر نوجوان لکھاری
رانا شاہد نذیر گڑھ مہاراجہ
03006500054
(باغی)
معزز قارئین اکرام
اسلام علیکم
گڑھ مہاراجہ کی سیاسی تاریخ میں حکمران خاندان یعنی سیال خاندان کے خلاف گڑھ مہاراجہ میں سب سے پہلی بغاوت گڑھ مہاراجہ کی جانی پہچانی شخصیت ھر سیاسی لیڈر کی مجبوری باشعور تعلیم یافتہ باکردار سیاسی رہنما جناب چوھدری محمد مختار ایڈووکیٹ نے 2002ء میں کی
( ان کے ساتھ رانا فقیرحسین بھی شامل تھے)
چوھدری صاحب نے اس وقت نائب ناظم کا الیکشن لڑا اور رانا فقیر حسین ناظم کے امیدوار تھے اس وقت گڑھ کے سیالوں کو ان حضرات نے ووٹرز کے دروازوں پہ جانے پہ مجبور کیا اور ڈور ٹو ڈور الیکشن کمپین کی بنیاد رکھی جو چوھدری صاحب کا ووٹرز پر بہت بڑا احسان ھے جو ھمیشہ یاد رکھا جاۓ گا خواہ ووٹر کسی بھی پارٹی کا ھواس الیکشن میں ان دونوں امیدواروں نے جاگیرداری سرمایہ داری حکم شاھی ڈیرہ داری نظام کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور بائیس سو ووٹرز نے ان پر اعتماد کا اظہار کیا گوہ چوھدری پینل الیکشن سات سو ووٹ سے ھار گیا لیکن آنے والی سیاسی تاریخ میں جاگیر داروں اور سرمایہ داروں کو اپنے اقتدار کا سورج غروب ھوتا نظر آنے لگا چوھدری صاحب نے ھمیشہ اصولوں کی سیاست کی ھے اگر کوئی عوامی نمائندہ عوام کی توقعات پر پورا نہیں اترتا تو چوھدری صاحب نے رخ بدلنے میں کبھی دیر نہیں کی اور اسے چھوڑ دیا اور سیاسی قبلہ بدل لیا اور چوھدری صاحب حلقہ کی سیاست کے داؤ پیج اچھی طرح جانتے ھیں اور نجف خان سیال کے ایم این اے بننے میں 40فیصد کردار چوھدری محمد مختار ایڈووکیٹ کا تھا کیوں کہ چوھدری صاحب دو الیکشن راناعطااللہ خاں کے ساتھ کمپین کر کے گزار چکے تھے اور ان کو باخوبی پتہ تھا کہ موسی خان بلوچ جیسے مقامی لیڈروں کو کیسے ڈیل کرنا ھے اور کیسے ووٹ بینک بڑھانا ھے نجف خان سیال نے چوھدری صاحب کے تجربات سے بہت فائدہ اٹھایا اور ناقابل شکست امیدوار کو شکست سے دوچار ھونا پڑا چوھدری صاحب نے الیکشن کمپین میں ھمیشہ عوام کی تعلیمی معاشی طبی ضروریات کے فقدان کو لیڈران کے سامنے اجاگر کیا اور سابقہ اقتدار پارٹی نے ان مطالبات کی مخالفت کی اور چوھدری برادران نے اقتدار گروپ یعنی سیال گروپ کو عوام کی تعلیم روزگار پہ شب وخون مارتے دیکھا تو اقتدار سے الگ ھو کر ایک بار پھر اصولی بغاوت کرتے ھوۓ سیال گروپ سے راہیں جدا کر لیں اور خاموشی اختیار کر لی اس دوران صاحبزادہ گروپ کو ان کی اھمیت کا علم ھو چکا تھا اور گروپ لیڈران نے ان سے ملاقات کی اور عوامی مفاد میں چوھدری صاحب نے سینکڑوں ساتھیوں سمیت صاحبزادہ گروپ میں شمولیت اختیار کرکے پاکستان تحریک انصاف کے پرچم کے نیچے تبدیلی کے نعرے کا NA114میں اھم حصہ بنے اور گروپ کی دن رات الیکشن کمپین کی اور لیڈران کے سامنے عوامی مسائل کو اجاگر بھی کیا اور حل کرنے کی تقید بھی کرتے رھے چوھدری صاحب ایک اچھے وکیل ھونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین مقرر بھی ھیں اپنے ھوں یا پراۓ چوھدری صاحب کی تقریر جو وہ اپنے مخصوص لہجے میں کرتے ھیں سب بڑے شوق و ذوق سے سنتے ھیں کیوں کہ مخالف پہ تنقید کا ہنر اور الفاظ کا چناؤ کسی اور کے بس کی بات نہیں میری ذاتی راۓ کے مطابق اگر گڑھ مہاراجہ کا ھر مقامی سیاسی رھنما چوھدری صاحب کی طرح مخلص باشعور نڈر بیباک ھو جاۓ اور اقتدار کی حوس ختم کر لیں تو یقیناً عوامی مسائل حل کرنا گروپ لیڈران کی مجبوری بن جاۓ گی اللہ تعالی چوھدری صاحب کے علم عمل اور زندگی میں برکتیں عطا فرماۓ( آمین )

ضروری وضاحت
کالم نگار کی راے سے متفق ہونا ضروری (ادارہ)