رٹھوعہ ہریام پل کی تعمیر ی تاخیر کا ذمہ دار کون تحریر امجد حسین صارم

0
182

رٹھوعہ ہریام پل کی تعمیر ی
تاخیر کا ذمہ دار کون
تحریر امجد حسین صارم

رٹھوعہ ہریام پل کی تعمیر ی لاگت میں 2ارب اضافے اور
تاخیر کے ذمہ دار وفاقی پلاننگ کمیشن اور سنٹرل ڈیویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) ہے، دو سال پہلے بھی حکومت آزادکشمیر نے اس ضمن میں وفاق سے درخواست کی تھی کہ پل کی تعمیر مکمل کرنے کیلئے مزید2ارب روپے کے فنڈز جاری کئے جائیں لیکن حکومت پاکستان نے فنڈز دینے سے انکار کردیا تھا ۔۔ ان دو اداروں نے ہی واپڈا کے دباو میں آکر پل کا ڈیزائن تبدیل کروایا ہے اور یہی واپڈا ہی اس پل کی تکمیل میں رکاوٹ ہے۔آزاد حکومت کا اس مسئلے میں کردار یہ بنتا تھا کہ وہ اپنی سرزمین پر اس طرح کے میگا پراجیکٹ کی تکمیل کے لئے ٹائم لائن پر نظر رکھتی ۔۔ مگر وہ اس میں ناکام رہی ہے ۔۔۔ میری نظر پھر بھی اصل مسئلہ بدمعاش واپڈا کا پیدا کیا ہوا ہے ۔رٹھوعہ ہریام برج کا ٹھیکہ چین کی ایک کمپنی بیکسن اور پاکستان کی ایک تعمیراتی کمپنی سکائی ویز نے حاصل کیا تھا معاہدہ کی جو دستاویزات میں نے دیکھی ہیں کے مطابق اس پل کا 70فیصد تعمیراتی کام بیکسن کمپنی نے اور باقی 30فیصد سکائی ویز نامی پاکستانی کمپنی نے مکمل کرنا تھا چائنز کمپنی بیکسن نے اپنے حصے کا تعمیراتی کام مکمل کر دیا جبکہ سکائی ویز نامی پاکستانی فرم جس نے اپنے ٹھیکہ کی تمام رقم محکمہ سے قرضہ جات کی صورت میں وصول کر چکی ہے محض 10فیصد کام مکمل کرنے کے بعد بقیہ 20فیصد تعمیراتی کام ادھورا چھوڑ کر اپنی تمام تر مشینری کے ساتھ غائب ہو چکی ہے ۔ یہ آزاد کشمیر حکومت کی ناکام گورننس ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معاملہ ہائی کورٹ تک گیا جسٹس شیراز کیانی صاحب نے اپنے حکم نامے میں واضع لکھا کہ سکائی ویز کی تمام مشینری کو ضبط کیا جائے اور کوئی چیز بھی باہر نہ جائے اس کے باوجود حکومت عدالتی احکامات پر عمل درآمد کرانے میں ناکام کیوں ہوئی ؟ کیا اس کرپشن یا کمیشن کھاتے میں حکومت خود ملوث تو نہیں رہی؟