استحصالی طبقات سے بچاتے ہوئے خوشحال کسان کلیلیے نظام زراعت میں بہتری کی تجاویز۔۔۔۔۔تحریر ۔۔چوہدری محمد مختار جٹ ایڈووکیٹ

0
129

استحصالی طبقات سے بچاتے ہوئے خوشحال کسان کلیلیے نظام زراعت میں بہتری کی تجاویز۔۔۔۔۔
تحریر ۔۔چوہدری محمد مختار جٹ ایڈووکیٹ
پاکستان کی خوشحالی زراعت کی ترقی سے وابستہ ھے
باقی سب مفروضے ھیں
—————————————————————
یہ بات تو تسلیم شدہ ھے کہ ملک کی 80فیصد آبادی شعبہ زراعت سے وابستہ ھے اور باقی آبادی کا روٹی روز گار بھی کسی نہ کسی طریقہ زراعت کے ھی مرھون منت ھے ملک کی کوئی بڑی صنعت شوگر۔ ٹیکسٹائل۔ جملہ انسانی۔ حیوانی۔ ۔صحت ۔خوراک۔ لباس سے متعلقہ جو بھی صنعت ھے زراعت ھی کے تابع ھے گویا اس حوالہ سے ملک کی کثیر آبادی جو پیشہ زراعت سے وابستہ نہیں ھےوہ بھی زراعت کے رحم وکرم پر ھے ۔
لہذاجب تک ھمارے حکمران زراعت سے وابستہ طبقات۔ زراعت کی ضرویات۔ کے پیداواری اخراجات۔ فصلات کی خرید وفروخت کا جامع معقول نظام نہیں بناتےزراعت کبھی ترقی نہیں کرےگی زراعت سے وابستہ طبقات کبھی خوشحال نہ ھونگے۔نہ ھی ملک خوشحال ھوگا ۔ حکمرانوں کے لئے لمحہ فکریہ ھے ملک زرعی ۔ 80 فیصد آبادی زراعت سے وابستہ ۔ لوگ محنتی۔ زمین زرخیز۔
اس کے باوجود دالیں۔ فروٹ ۔ سبزیاں ۔ خوردنی تیل ۔ کاٹن۔ زرعی مشینری۔ سیڈ ۔ ھم باھر سے امپورٹ کرتے ھیں ملک میں حالت یہ ھے زیادہ پیداوار ھوجائے کھیتوں میں گل سڑ جاتی ھے کوئی پرسان حال نہیں ھوتا۔ اگر کوئی قدرتی آفات طوفان ؛ سیلاب آکر فصل تباہ کردے کوئی نہیں پوچھتا۔ اس طرح زراعت سے وابستہ طبقات تو تباہ ھوھی جاتے ھیں اسکے ساتھ دوسرے لوگ بھی مارے جاتے ھیں۔
اب میں کوشش کرو ں چند بنیادی مسائل پر سوال اٹھائیںوں سب سے پہلے زراعت سے وابستہ طبقات کا زکر کرتا ھوں۔1۔۔ بڑا ذمنیدار (جاگیردارطبقہ)
جناب والی۔ یہ وہ طبقہ ھے جو ملک کی 80 فیصد اراضی کامالک ھے اور قابض ھے زمینوں پر غیر حاضر ھے اسلام آباد۔ لاھور ۔ کراچی۔ پشاور۔ کوئٹہ اور دیگر بڑے شہروں میں کوٹھیاں تعمیر کرکے بیٹھا ھے اس کا مزارع رعایا اراضی کاشت کرتا ھے جاگیردار کا منشی کارندہ سارا حساب کتاب لے کر اسے دیتا ھے اسے اس چیز سے کوئی غرض نہں اس کا مزارع یا رعایا کیسے دن رات محنت کر کے اس کی ضرورت پوری کرتا ھے خود کسمپرسی کی زندگی بسر کرتاھے۔ اپنی اراضی میں ایک محل نما گھر بنا کر رکھتاھے کبھی کبھار اپنی اراضی میں آکر اسے الیکشن لڑنا ھوتاھے اور اسمبلی میں جاکر اپنے حقوق کا تحفظ کرتا ھے تاکہ اس کا اس کی آئئندہ نسل کا مستقبل محفوظ رھے اس طرح اس طبقہ کی آجارہ داری اگر قائم رھتی ھے تو یہ فرسودہ جاگیرداری نظام ھمشہ قائم رھے گا اس سسٹم کے بارے ملک کے محب وطن عوام کوکچھ سوچنا ھوگا۔

دوسرا طبقہ۔ چھوٹا ذمنیدار ھے یہ دو چار مربع کا مالک ھو سکتا ھے ان میں سے بھی ذیادہ تر شہری زندگی پسند کرتے ھیں اپنی زمین پٹہ پر دیتے ھیں اراضی پٹہ پر لے کر کاشت کرنے والے خود کاشت بھی ھوسکتے ھیں مزارع رکھ کر کاشت کرواتے ھیں یا اجرتی کھیت مزدور رکھ کر کام کرواتے ھیں اس طرح زراعت میں ایک ٹھیکداری نظام قائم ھوگیاھے ٹھکیدار لوگ بڑے ذمنیداروں سے بھی اراضی پٹہ پر لے لیتے ھیں غیر حاضر مالک اراضی کو طے شدہ رقم سا لانہ دے دیتے ھیں الیکشن کے موقع پر یہ طبقہ بڑے زمیندار کے امدادی بن کر خوش ھے ۔

کاشتکار طبقہ ۔ اس کلاس میں 10/15 مربع تک کا زمیندار ھو سکتا ھے ۔ مزارع۔ ٹھکیدار۔ دو چار ایکڑ کا ذمیندار اس کلاس میں آتے ھیں اس طبقہ کے لوگ صیح زرعی مسائل کا ادراک رکھتے ھیں یہی لوگ زرعی قرضے لیتے ھیں بنک اور عملہ بنک خوب ان کا استحصال کرتے ھیں اس طبقہ کو محکمہ مال کے آفسران کلرک پٹواری۔ لینڈ ریکارڈ۔ فوڈ گودام کے آفسران کلرک اور دیگر عملہ سے واسطہ پڑتا ھے ۔
اس طبقہ نے گندم فروخت کرنے کے لیے باردانہ کے حصول کے لئے دھکے کھانے ھوتے ھیں اور رشوت دے کر باردانہ لینا ھوتاھے۔ گرداور۔ پٹواری۔ اے سی ۔ تحصیل دار کے دفتروں میں ذلیل ھونا ھوتا ھے۔ اسطبقہ نے گنا فروخت کرنے کے لئے شوگر مافیا سے اپنی لوٹ کروانا ھوتی ھے اور مونجی فروخت کرنے کے لیئے رائس ملز ما لکان کو ادھار فصل دینی ھوتی ھے یہی کاشتکار ھے جو سرکار سے لٹتا ھے ۔ آڑھتی۔ بیوپاری۔ کمشن ائجنٹ۔ ڈیلر سے لٹتا ھے اسی طبقہ کو۔

کاشتکاری کے لئے اراضی ۔ فصلات کے لئے پانی ۔ پانی کے لئے نہری نظام کی بہتری موگہ توڑنے جوڑنے والے نہری عملہ کی بدمعاشی سے تحفظ درکار ھوتا ھے طاقت ور لوگ موگھے توڑتے ھیں عملہ ملوث ھوتا ھے نہر۔ راجباہ کو کٹ ھوتے ھیں پرچے غریب کسانوں پر اور تاوان موگھہ کے جملہ سامیواروں پر اس سے نجات چاھئے۔

فصلات کے لئے سیڈ۔ پیسٹی سائیڈ کھاد اور زرعی آلات اھم ضرویات ھیں جو انتہائی مہنگھے داموں کاشتکار کو ملتی ھیں ۔ کوئی پوچھتا نہیں ۔
بجلی مہنگی واپڈا عملہ کی لوٹ علیحدہ کوئی نہیں سنتا۔ ڈیزل آئے روز مہنگا خدا معافی
زرعی آلات مہنگے۔ اور غیر معیاری۔ ڈیزل میں ملاوٹ پیٹر تباہ۔ انیجن تباہ ۔ زرعی ادویات میں ملاوٹ پرائیویٹ کمپنیوں کی موجیں محکمہ زراعت کے آفسران کے کمیشن ۔ گفٹ ادویات ڈیلروں کے موج میلے اندرون ملک سیر سپاٹے ۔ تباہی کا شتکار کی زمیندار کی کسان کی ۔
اب سوال یہ ھے کیا اس صورتحال میں زراعت منفعت بخش پیشہ رہ گیاھے ۔اگر زراعت کو زندہ رکھناھے تو درج ذیل باتوں پر غور کرنا ھو گا وگرنہ خوشحال کسان ۔ خوشحال پاکستان کا نعرہ اس دور کا سب سے بڑا جھوٹ اور فراڈ ھو گا ۔
نمبر 1 سرکاری زمین بے زمین کسانوں کو الاٹ کردی جائے۔
نمبر 2 غیر حاضر اور غیر کاشتکار ذمینداروں جاگیرداروں سے اراضی لے کر کسانوں میں تقسیم کی جائے

نمبر3 کاشتکاروں کو زرعی آلات سستے داموں مہیا کیے جائیں ۔ بلاسود قرضے دئیے جائیں زرعی بنک عملہ کی لوٹ کسوٹ سے تحفظ دیا جائے

نمبر4 کھاد۔ بیج۔ زرعی ارویات انتہائی کم قیمت پر کاشتکاروں کو دی جائے ان چیزوں میں ملاوٹ کو روکا جائے چیک کرنے والے عملہ کی بدمعاشی کنٹرول کی جائے ان کے بھتے۔ کمشن ۔ گفٹ لینے اور سیر سپاٹے قابل تعزیر قرار دیئے جائیں

نمبر5 زراعت کے لیئے ڈیزل اور بجلی کے ریٹ انتہائی کم رکھے جائیں ۔ نہری پانی ٹیل تک پہنچایا جائیے محکمہ انہار کے رشوت خور آفسران اور دیگر عملہ کو کاشتکاروں کی شکائت پر سخت سزا دی جائے
نمبر6 کاشتکار کی پیداوار کے ریٹ کا شتکاروں کی مشاورت سے مقرر کئے جائیں ریٹ مقرر کرتے وقت پیدا واری لاگت کسان کی محنت کو سامنے رکھ کر ریٹ مقرر کیئے جائیں جو قیمت مقرر ھو جائے اس قیمت پر پیداوار ھر حال میں خریدی جائے حکومت اس بات کی ضامن ھو ھر تحصیل کا اے سی اس بات کا ذمہدار ھو ناکامی کی صورت میں قابل تعزیر ھو ۔ گندم کی خرید وفروخت کو آسان بنایا جائے باردانہ پر حکومتی کنٹرول ختم کیا جائے اوپن مارکیٹ سے باردانہ کی سستے داموں فراھمی یقینی بنائی جائے۔
نمبر7 وسیع پیمانے پر غلہ منڈیاں اور سبز منڈیاں بنائی جائیں تاکہ کسان اوپن مارکیٹ میں اپنی اجناس مناسب قیمت پر فروخت کر سکے
نمبر8 قدرتی آفات از قسم فصلات پر وبائی بیماریوں۔ طوفان سیلاب کی صورت میں کسان کے نقصان کا حکومت ازالہ کرے

نمبر9 محکمہ زراعت کو از سر نو تشکیل دیا جائے اس کی کارکردگی کا ھر علاقہ محکمہ کی کار کاردگی کو جانچا جائے ان کی ترقی تنزلی کا معیار متعلقہ علاقہ کی پیداواری صورتحال کو مد نظر رکھ کر بنایا جائے ۔
نمبر10 محکمہ زراعت ھر سال کماد ۔گندم۔ کپاس۔ دھان ۔ دیگر اجناس پھل سبزیاں کے بیج اپنی تحقیق سے متعارف کروائے پرائیویٹ کمپنیوں ۔ غیرملکی فرموں کی اجارہ داری ختم کی جائے
اس طرح کسان ان کمپنیوں اور فرموں کی لوٹ سے بچ جائے گا ۔
نمبر 11 محکمہ لائیو سٹاک کی اصلاح ضروریھے
ویٹنر ی ھسپتالوں تعینات عملہ کی کار کردگی کو بہتر بنایا جائے سرکار کی دی ھوئی موٹر سائیکل اور گاڑیوں کا استعمال ذاتی کو روکا جائے ۔ اس محکمہ کا عملہ اکثر کسانوں کو حکومت کیnot For sale ادویات فروخت کرتا ھے کسانوں سے بھاری فیسیں وصول کرتا ھے semen کی بھاری قیمت وصول کرتاھے اس محکمہ کا عملہ زیادہ تر بڑے زمینداروں کے ڈیروں پر حاضری بھرتاھےغریب کسان کی اپروچ سے ھی یہ محکمہ دور ھے

اگر ارباب اقتدار تک یہ معروضات پہنچ جائیں ان پر غور ھو جائے تو ھی کسان خوشحال۔ پاکستان خوشحال کے نعرہ کی تکمیل ھو گی ۔ وگرنہ نعرہ۔ نعرہ ھی رھے گا ۔
گزارش ھے جو صاحب یہ پوسٹ پڑھے shareضرور کرے یہ بھی وطن عزیز کی خدمت ھوگی
شکریہ و اسلام