حضرت امیر معاویہؓ سیکرٹری رسول ﷺٗ تحریر شمإ چوہدری

0
165

حضرت امیر معاویہؓ سیکرٹری رسول ﷺٗ

تحریر شمإ چوہدری
حضرت امیر معاویہؓ صحابی ہی نہیں بلکہ جلیل القدر عظیم صحابی رسولﷺہیں ۔
ان کا شمار ان افراد میں ہوتا ہے جو نبی رحمتﷺ کے خاص رفقإ تھے۔
آپ حضورﷺ کے پرسنل سیکرٹری کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
آپ کی بہن حضرت ام حبیبہؓ نبی کریمﷺکی رفیقہ حیات ہیں۔
آپ مکہ کے مشہور رٸیس و سردار حضرت ابو سفیانؓ کے گھرہجرت سے تقریباً پندرہ سال قبل پیدا ہوٸے۔
آپ کا سلسلہ نسب پانچویں پشت پر اپنے بہنوٸی اور آقإ نامدار حضورﷺ سے جا ملتا ہے۔
آپ اپنے والد کی طرح مکہ کے سردار تھے آپ کی اطاعت کی جاتی تھی ،
آپکا شمار مالدار لوگوں میں ہوتا تھا۔
چونکہ ایک نامور اور سردار گھرانے سے تعلق تھا،
اس لیے آپ کی پرورش میں آپ کی تعلیم پر خاصی توجہ دی گٸی،
اور آپ اس وقت کے ان چند لوگوں میں نمایاں حثیت رکھتے ہیں جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔

آپ نے عہد شباب( پچیس سال) کی عمر میں ہی اسلام قبول کرلیا تھا۔
رسول اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ اے اللہ معاویہ کو ہدایت یافتہ بنا دیجیے ،
اور اس کے ذریعے لوگوں کو ہدایت دیجیے۔(جامع ترمذی)
اے اللہ معاویہ کو حساب کتاب سکھا اور اس کو عذاب سے محفوظ رکھ۔ (کنزالاعمال)
اور بھی کٸی روایات میں حضرت امیر معاویہؓ کی شان بیان ہوٸی ہے۔
بیرون ممالک سے آٸے ہوٸے لوگوں کی دیکھ بھال اور مہمان نوازی کا کام آپؓ کے سپرد تھا ۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ نے جب شام کے محاذ پر ان کے بھاٸی کو بھیجا تو حضرت امیر معاویہؓ بھی ان کے ساتھ تھے۔
حضرت عمرؓ نے آپ کو دمشق کا حاکم مقرر فرمایا ۔
رومیوں کے خلاف جنگوں میں قساریہ کی جنگ آپ کی قیادت میں لڑی گٸی،
جس میں آپ کی جنگی صلاحیات کی وجہ سے اسی ہزار رومی قتل ہوٸے۔
حضرت عثمانؓ نے آپ کو دمشق،اردن اور فلسطین کے علاقے کو شام کا نام دے کر وہاں کا حاکم مقرر کیا۔
آپ ایک بہترین اور مایہ ناز سیاستدان تھے،
جنہوں نے تلوار کی بجاٸے اپنی زبان سے اپنی حامی و ہمنوإ بناٸے۔
آپ نہایت پرکشش شخصیت تھے جن سے لوگ بہت جلد متاثر ہوتے تھے۔
تدبر،فہم،فراست اور سیاست میں آپ کا کوٸی ہم پلہ نہیں تھا۔
آپ کی معاملہ فہمی آپ کو ہر معاملہ میں ممتاز کرتی تھی ۔
ان اوصاف کی بدولت آپ نے ایک کامیاب حکومت کی بنیاد رکھی۔
آپؓ ایک بہترین مبلغ تھے جو فصاحت اور بلاغت میں اپنی مثال آپ تھے۔
خورد نوش ،رہاٸش،لباس،عادات و اطوار سے آپ شاہانہ زندگی بسر کرتے تھے۔
حاجت مند خواہ دشمن ہی کیوں نا ہوتا آپ اسے نوازتے تھے ۔
رعایا کے کمزور اور غریب لوگوں کے حال سے باخبر رہتے تھے۔
مسجد میں بیٹھ کر رعایا کے مساٸل حل کیا کرتے تھے۔
آپ چھٹے خلیفہ راشد ہیں۔
آپ کے ساتھ تاریخ کی ستم ظریفی یہ ہے کہ تاریخ کے سب سے مظلوم ترین صحابی رسول ﷺ ہیں۔
تاریخی غلط بیانیوں کی وجہ سے بہت سارے لوگ آپ کی اسلامی خدمات کو نظرانداز کر کہ بدگمانی کا شکار ہوجاتے تھے۔
مگر اب مسلمانوں میں بیداری کی روح کافی حد تک جاگ چکی ہے ،
آپؓ کا یوم وفات 22رجب کو انتہاٸی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔
اور نبی کریمﷺ کے پرسنل سیکرٹری کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔