”ایک قطرہ جو بحر بن گیا“ ازقلم:حافظ عمیرحنفی

0
108

”ایک قطرہ جو بحر بن گیا“

ازقلم:حافظ عمیرحنفی

اخلاص وہ واحد شۓ ہے جب عروج پکڑے تو ایک قطرہ بھی بحر بن جاتا ہے۔۔۔ہم نے اپنی زندگی میں بہت سارے لوگوں کو دیکھا جو مٹھی بھر تھے۔۔۔لیکن جب اخلاص کو لیے چلے تو لشکروں کی سرداری نصیب ہوٸ ۔۔۔

اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل
لوگ ملتے گۓ کارواں بنتا گیا

ایسے ہی سرزمین پاکستان پر چند ماہ قبل معرض وجود میں آنے والا ایک قافلہ جو اخلاص و للہّاہیت ۔۔رضاۓ رب کو مدنظر رکھے ہوۓ پاکستانی نوجوانوں۔۔۔اور مغربی تہذیب و تمدن میں ڈوبے لوگوں اور اسلام و دین سے بیزار قوم کو
راہ راست دکھانے کا عزم کرچکا تھا۔۔۔۔میری وہ قوم جو مادیت پرستی میں دین کا انکار کرنے اتر آٸ ہے ۔۔کو روحانیت سے متعارف کروانے اور نوجوان کو قوم کا ہیرو بنانے کیلۓ ان کے اندر ۔۔۔قلمی صلاحیتیں متعارف کروانے کیلۓ ۔۔۔۔یہ فارم وجود میں آیا۔۔۔اس کو ”اسلامک راٸٹرز موومنٹ“ کا نام دیا گیا۔۔۔۔۔۔۔

جب اکابر نے انکا گراں قدر جذبہ دیکھاتو سرپرستی کا ہاتھ ان کےسر پررکھ دیا۔۔۔اور یہ قافلہ جو ابتدإً چار پانچ بندوں پر مشتمل تھا ۔۔۔بڑھتا ہوا ہزاروں تک پہنچ گیا انہوں نے اندرون ملک اور بیرون ملک صحافی و کالم نگار تیار کیے ۔۔۔۔۔ اب تک یہ فارم ایک ہزار1000 آرٹیکل اخبارات و جراٸد میں لگوا چکا ہے۔۔۔۔۔اور وہ لوگ جو کتابیں لکھ کر بھی حوصلہ شکنیوں کیوجہ سے صحافت وقلم کو خیرآباد کہ چکے تھے پھرسے میدان میں اتارا۔۔۔

اس بڑھتے ہوۓ کام پر پھر ہرعام و خاص کی نظر ہونےلگ گٸ۔۔۔۔اور یوں اس فارم نے ترقی پکڑی ۔۔۔۔اور آسمان سے باتیں کرنے لگا۔۔۔۔۔الحَمْدُ ِلله

حال ہی میں ”اسلامک راٸٹرز موومنٹ“ کے زیر اہتمام تیسرے پروگرام کااہتمام قذافی اسٹیڈیم ای لاٸبرٸیری لاھور میں کیا گیا۔۔۔۔۔۔۔
جسمیں ملک کے نامور صحافی برادری نے شرکت کی ۔۔۔تحریری مقابلہ میں پوزیشن یافتگان میں تقسیم انعامات ہوۓ۔۔۔۔اور مشہور کالم نگار مولانا عبدالصبور شاکر فاروقی مدظلہ کی کتاب”غفلت کے اسباب“ کی رونماٸ ہوٸ۔۔۔۔۔۔۔

اس پروگرام سے خطاب کرتے ہوۓ مشہور روحانی عامل سید مزمل حسین شاہ نقشبندی مدظلہم نے فرمایا۔۔” میں اسلامک راٸٹرز موومنٹ کے ان نوجوانوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔۔۔۔جنہوں نے پروگرام کو سجایا ۔۔۔۔۔اور محترم مصنف کتاب جناب مولانا عبدالصبور شاکر فاروقی مدظلہم کو بھی جنہوں نے اس وقت کی ضرورت کو پورا کیا۔۔۔۔یقیناٗ یہ کتاب فاٸدہ مند ہوگی۔۔
روزنامہ اوصاف کے میگزین ایڈیٹر جناب”ندیم نظر“صاحب نے فرمایا”میں نے بڑے بڑے پروگرامز دیکھے ہیں اور گیا ہوں
لیکن جو سنجیدگی اور ڈسپلن یہاں ہے کہیں نہیں دیکھا۔۔۔اور جو محفل انہوں جماٸ ایسی کبھی نہیں دیکھی ۔۔۔۔۔مبارکباد کے مستحق ہیں جناب حفیظ چوہدری صاحب اور انکی ٹیم ۔۔

مشہور کالم نگار وصحافی عالمی سیرت اکادمی کے صدر جناب پیرزادہ طارق شریف صاحب نے مفصل خطاب کیا جسکا خلاصہ یہ ہے ۔۔۔۔۔فرمایا”مجھےاسلامک راٸٹرز موومنٹ جہاں بھی کہے میں حاضر ہوں ۔۔مجھے بہت خوشی ہے اس فارم سے میں گزارش کرتا ہوں اس کو تحریکی شکل دےکر ہر تحصیل و ضلع میں پہنچایا جاۓ ۔۔۔اور ہم بھی اس کام کو آگے بڑھاٸیں ۔۔۔میری 400یونیورسٹیاں اس کام کےحوالہ سے جہاں ضرورت پڑی حاضر ہیں۔۔۔۔۔اور ضرورت تھی کہ اس دور اس جیسے پلیٹ فارم کی سو مبارکباد کے مستحق ہیں ”حفیظ چوہدری صاحب اور مولانا اسامہ قاسم صاحب “۔۔۔۔

موٹیویشنل ریٹر سپیکر معروف کالم نگارمحترم جناب کامران رفیق صاحب نے کہا” کام کرنے والا نکمہ نہیں ہے حوصلہ افزاٸ کرنے کی ترغیب دی اور کردار انسان کا پاک صاف ہونا چاہیے ۔۔ذھین کون ہے؟ ذہین وہ ہے جو حافظ قرآن ہے۔۔۔۔اور ہماری نظر آجکل لوگوں کے پرس ہے اس وجہ سے ہماری زبان سے تاثیر نکل چکی ہے ۔۔۔ہماری نظر قلب پر ہونی چاہیے۔۔۔۔۔اس کے علاوہ اور بھی مفصل خطاب کیا ۔۔۔۔

انکے علاوہ مرکزی صدر جناب حفیظ چوہدری صاحب مدظلہ نے کہا۔۔۔ہم ہر مرتبہ کوشش کرتے ہیں۔۔۔کہ تحریری مقابلہ میں عنوان پاکستان کے حوالہ سے ہی ہو“ اس مرتبہ بھی ”قاٸد اعظم کیسا پاکستان چاہتے تھے؟ تھا۔۔۔۔

مولنا شاکر فاروقی مدظلہ نے فرمایا ۔۔۔۔
میرا کتاب لکھنے کا مقصد ہی یہ تھا جو لوگ نہیں لکھتے اور سستی کرتے ہیں ان کو لکھنا چاہیے۔۔۔۔۔۔اور مزید فرمایا ہماری نظر پرس نہیں ہونی چاہیے اور میں یہ اعلان اگر کسی کے پاس پیسے نہیں ہیں۔۔۔میں اس کو یہ کتاب فی سبیل اللہ دوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ محترم فیصل مجید اعوان صاحب نے فرمایا۔۔۔۔
”کہ ہمیں جبر اور امن ہر صورت میں اسلام کی تبلیغ و اشاعت کرنی چاہیے۔۔۔۔کہا اب امن ہے مواقع بھی میسر ہیں۔۔لمبا خطاب اور مختلف مثالوں سے بات کو سمجھایا۔۔۔۔ اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوۓ مشہور کالم نگار جناب قاسم چیمہ صاحب نے کہا”کتاب بہترین دوست اس کو دوست بناٸیے ۔۔۔۔اپنی بنیاد مظبوط کیجۓ ذراٸع ابلاغ کا استعمال صیح طریقہ پر کیجۓ ۔۔۔صرف ایک کو نہیں سب کو پڑھیے۔۔۔۔جب عزاٸم بلند ہوں مقصد عالی شان ہوں تو منزل دور نہیں ہوتی۔۔۔۔ ۔ اور مفتی ریاض جمیل صاحب مدظلہم نے بھی قلم کی اہمیت پر روشنی ڈالی ۔۔۔۔۔۔۔

کاشف مغل صاحب اور پاکستان کے مشہور کالم نگار وصحافی جناب ڈاکٹر چوہدری تنویر تنویر سرور صاحب اور دیگر حضرات نے بھی کچھ تراغیب دی۔۔۔۔۔۔۔درمیان پرگرام اور آخر میں بھی وقتاً فوقتاً شیلڈز کی تقاسیم کا سلسلہ جاری رہا۔۔۔۔۔جو کہ مختلف حضرات کے دست مبارک سے عطا ہوٸیں۔۔۔۔۔

یوں جمعہ سے قبل ہی یہ عظیم الشان پروگرام اپنے آخری مراحل میں پہنچا۔۔۔۔۔

اس موقعہ پر اسلامک راٸٹرز موومنٹ پنجاب کے ترجمان مولانا خالد زبیر جالندھری مدظلہم موجود تھے۔۔۔۔۔جو پورے پروگرام کو بہت ہی ڈسپلن کے ساتھ چلا رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پروگرام کی ایک ایک خوبی اپنی مثال آپ تھی ۔ دعاکیلۓ جمیل جازب صاحب سے کہا گیا۔۔۔انہوں نے فرمایا۔۔۔” بیٹوں اور بیٹیوں زندگی کا پتہ نہیں ۔۔ رہے نہ رہے ۔۔۔۔میں یہ بات دعوے سے کہتا ہوں قلم کی ضرورت جتنی اس دور میں ہے آج سے 1400 چودہ سو سال پہلے نہیں تھی ۔۔۔۔.۔۔۔۔

اور ہم محفل سے اٹھے تو تصور کی دنیا میں گویا ہوۓ ۔۔

۔۔۔ اب ڈوبے افکار طلوع ہونگے”
اب تعمیر بشر کی تکمیل ہو گی…!!!

بہت خاک ہوا ابتک خاکہ مسلم”
پھر سے بام عروج کی اب تدبیر ہو گی..!!! {بلال حجازی}

دعا ہے کہ اللہ عزّوجل اس جماعت کو دن دگنی رات چوگنی ترقیاں نصیب فرماۓ {آمین۔}